2030 کے اہداف کے حصول کے لیے دعوؤں کو عملی جامہ پہناہیں
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنرل اسمبلی میں رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی راہ پر واپسی کی کوششوں کی ''رفتار تیز کرنے'' میں مدد دیں۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''آج ہم تصورات سے عمل اور مجرد سے ٹھوس اقدامات کی جانب مراجعت کے لیے اپنے مشترکہ ایجنڈے کی سفارشات کو عملی صورت دینے کا کام شروع کر رہے ہیں۔
عالمی ادارے کو 2021 میں کووڈ۔19 وبا کے دوران شروع کردہ ''مشترکہ ایجنڈے'' کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے اس حوالے سے پیش رفت کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی اور عملی اقدامات کے لیے کہا۔ یہ ایجنڈا پائیدار ترقی کے 17 اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔
'بے سمتی'
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے 2030 تک مقرر کردہ وقت میں سے نصف گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں پیش رفت بھی ہوئی ہے تاہم ابھی مزید بہت سا کام باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2030 کی جانب نصف وقت گزارنے کے بعد ہم خاصے بے سمت ہو چکے ہیں۔ اِس سال ہمیں مزید موثر بین الاقوامی تعاون کی بنیاد ڈالنا ہو گی تاکہ ناصرف موجودہ مسائل سے نمٹ سکیں بلکہ مستقبل کے نئے خدشات اور خطرات پر بھی قابو پا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ الفاظ کو عملی اقدامات میں بدلنا ہی بنیادی بات ہے۔ اگر ہم کوشش کر کے 2015 سے اب تک سامنے آںے والے مسائل بشمول بین الحکومتی تعاون میں پائی جانے والی کمی کو دور کریں تو درست راہ پر واپس آ سکتے ہیں۔
نقصان اور تباہی کے معاملے پر نمایاں کامیابی، ماحول دوست، صحت مند اور مستحکم ماحول کے حق کو تسلیم کیا جانا، تعلیم میں تبدیلی لانے سے متعلق کانفرنس، روزگار اور سماجی تحفظ سے متعلق اقدامات کی رفتار تیز کرنے کا عالمگیر اقدام اور اقوام متحدہ میں نوجوانوں کے دفتر کا قیام اس حوالے سے نمایاں اقدامات کہے جا سکتے ہیں۔
'خطروں کی زد پر'
انہوں نے کہا کہ ''واضح طور پر یہ محض ابتدا ہے۔ ہمیں مزید آگے جانے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، عدم مساوات، غذائی عدم تحفظ اور جوہری ہتھیاروں کے مسائل پر ہم پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔''
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کا موجودہ اجتماعی طریقہ کار ہمیں درپیش مسائل کی رفتار یا حجم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پرانے دور میں اور اُسی وقت کے لیے بنائے گئے کثیرفریقی انتظام کی موجودہ شکلیں آج کی پیچیدہ، باہم مربوط، تیزی سے تبدیل ہوتی اور خطرناک دنیا لیے موزوں نہیں ہیں۔
'ایس ڈی جی کا تحفظ کریں'
2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب نصف عرصہ گزرنے کے بعد 'ایس ڈی جی' کانفرنس اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس موقع پر نمایاں پیش رفت سامنے آنی چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ٹھوس منصوبوں، اہداف اور وعدوں کی بنیاد پر تبدیلی کے لیے اپنے قومی تصور کو طے کر کے ایس ڈی جی کو بچانے کا واضح عزم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ایس ڈی جی کانفرنس میں یہ عہد ہونا چاہیے کہ قانون اور پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے کوئی ملک پیچھے نہ رہے۔''
حکمت عملی کا خلاصہ
انہوں نے جی 20 ممالک پر زور دیا کہ وہ ایس ڈی جی کانفرنس سے پہلے دنیا کے جنوبی حصے میں واقع ممالک کی مدد کے لیے سالانہ 500 ارب ڈالر دینے پر اتفاق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا دفتر پالیسی سے متعلق 11 اقدامات کا خلاصہ جاری کرے گا جن کا مقصد سائبر جنگ اور مزید موثر عالمگیر معیشت کی تعمیر جیسے اہم مسائل سے نمٹنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی یادداشتوں میں دی گئی متعدد تجاویز سے 2024 میں منعقد ہونے والی ''مستقبل کی کانفرنس'' کی تیاریوں میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہ کانفرنس آج کی دنیا کو ''ہمارے مطلوبہ مستقبل'' کی جانب لے جانے کے لیے عالمگیر اقدام کو تقویت دینے، بنیادی اصولوں پر عمل کے عہد کی تجدید اور کثیرفریقی فریم ورک تیار کرنے کا ایسا موقع ہو گا جو کئی نسلوں کے بعد آتا ہے۔''
جنرل اسمبلی کا تصور
جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے عالمی ادارے کو بتایا کہ اس معاملے پر ان کا تصور یہ ہے کہ 'مستقبل کی کانفرنس' کی تیاریوں کے لیے ہونے والے کام سے ہر سطح پر ایس ڈی جی پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر کرائے گئے قومی جائزوں سے حاصل ہونے والے اسباق کا تجزیہ کریں اور یہ دیکھیں کہ کہاں نئے وعدے کیے جا سکتے ہیں اور سائنسی معلومات کی بنیاد پر اختراعی پالیسیوں کو اختیار کرنے کی رفتار تیز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے پاس اپنے مطلوبہ مستقبل کے حصول کے لیے معقولیت پر مبنی انتخاب موجود ہیں۔ ہمیں خود کو اس نئے نمونے کے مطابق ڈھالنا اور تبدیل کرنا ہے۔ اگر ہم نے نئی بنیادیں ڈالنے کا یہ موقع کھو دیا تو یہ دوبارہ ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا۔''