زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے عالمی ادارہ صحت کی 43 ملین ڈالر کی اپیل
شام کے دارالحکومت دمشق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ شام اور ترکیہ میں زلزلے سے تباہی کا حقیقی حجم سامنے آںے پر متاثرین کی امداد کے لیے درکار مالی وسائل کا حجم بھی بڑھ سکتا ہے۔
عالمی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زلزلے سے دونوں ممالک میں 33 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں اضافہ
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ بھی بتایا کہ شام کے حکام ملک کے شمال مغربی علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے مزید سرحدی راستے کھولنے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔
جنگ زدہ شام حکومت، حزب اختلاف کی فورسز اور مسلح گروہوں کے زیرانتظام علاقوں میں منقسم ہے۔
ڈبلیو ایچ او سوموار کو آنے والے زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں میں کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ ملک بھر میں امدادی کارروائیاں بڑھانے میں مصروف ہے جن میں شمال مغربی علاقے بھی شامل ہیں جہاں زلزلے نے بدترین تباہی مچائی ہے۔
حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے امدادی اقدامات کو ''اگلے مرحلے'' تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تمام ضرورت مند آبادی کی مدد ہو سکے۔ انہوں نے اس المیے کے بعد امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف پابندیوں میں نرمی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ''ہم عرب جمہوریہ شام کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں کو متحارب فریقین کے زیرانتظام علاقوں کے آر پار نقل و حرکت کی بلاروک و ٹوک اجازت دینے اور سرحد پار رسائی بڑھانے کے اقدامات کی بھی ستائش کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔''
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں ںے اتوار کی دوپہر شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی ''جنہوں نے عندیہ دیا کہ وہ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید سرحدی مقامات کو کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔''
'امداد تیار ہے'
ٹیڈروز گیبریاسس کا کہنا تھا کہ وہ شمال مغربی شام میں متحارب فریقین کے زیرانتظام علاقوں کے آر پار امداد پہنچنے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ''دراصل ہم تیار ہیں۔ اب ہم کسی بھی وقت ساحلی علاقوں سے شمال مغرب کی جانب امداد لے کر جا سکتے ہیں۔ اس کا دارومدار نقل و حرکت کی کھلی اجازت ملنے پر ہے اور اِس طرف ہمیں یہ اجازت مل چکی ہے۔ اب ہم دوسری جانب سے اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔ جونہی ہمیں اجازت مل گئی تو ہم شمال مغربی علاقے میں امداد روانہ کر دیں گے۔''
جونہی زلزلہ آیا، ڈبلیو ایچ او نے فوری طور پر اپنے پاس ذخیرہ شدہ امدادی سامان شمال مغرب اور حلب میں بھیج دیا تھا۔ اس اقدام کی بدولت شدید زخمی افراد کا بروقت علاج کرنے میں مدد ملی۔ اس دوران عملے نے طبی مراکز میں سامان کی تقسیم بھی شروع کر دی تھی۔
اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ہفتے کو شام پہنچے جہاں ادارے اور اس کے شراکت داروں نے اب تک ملک بھر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 110 ٹن طبی سازوسامان تقسیم کیا ہے۔
متاثرین کو طبی امداد پہنچانے کے لیے اگلی صفوں میں کام کرنے والے عملے کے لیے اہم نوعیت کا خصوصی ہنگامی طبی سازوسامان لے کر ایک پرواز اتوار کی رات دمشق پہنچ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ اگلی صفوں میں کام کرنے والی خصوصی طبی ٹیموں کی صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔
سنگین بحران
شام میں جاری جنگ، کووڈ۔19 وبا، ہیضے کی وباؤں اور معاشی بدحالی کے بعد یہ ملک کو بری طرح متاثر کرنے والا تازہ ترین بحران ہے۔
ڈبلیو ایچ او میں ہنگامی حالات سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان نے کہا ہے کہ بارہ سالہ جنگ نے ملک کے طبی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ زلزلے سے پہلے شام میں محض نصف طبی مراکز ہی فعال تھے جبکہ اس تباہی کے حقیقی اثرات کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ''اس میں ناصرف بنیادی ڈھانچے کو ہونے والا مادی نقصان بلکہ طبی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ملک چھوڑ جانے اور تنخواہوں اور تربیت کی عدم دستیابی کی صورت میں ہونے والا نقصان بھی شامل ہے۔ یہ نظام پے درپے بہت سی ضربات کے نتیجے میں ناکارہ ہوا ہے۔''
'بڑھتا ہوا المیہ'
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متاثرین، سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچنے والوں اور طبی کارکنوں کے لیے دلی احترام اور ستائش کا اظہار کیا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضروریات بہت زیادہ ہیں۔
ناصرف قومی و بین الاقوامی ادارے بلکہ ہمسایے، مساجد، چرچ اور سماجی گروہ بھی خوراک، صاف پانی اور طبی نگہداشت سے لے کر لوگوں کے سونے کے لیے محفوظ جگہ تک ہر طرح کی مدد فراہم کرنے میں جتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ہفتے کو حلب میں تھے جہاں انہوں نے ادارے کی مدد سے چلائے جانے والے متحرک طبی کلینک کا دورہ کیا جو سردرد، تھکاوٹ اور نیند کے مسائل میں مبتلا لوگوں میں ادویات تقسیم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں نے مقامی سطح پر امدادی کام کرنے والے کارکنوں کو ذہنی صحت کے حوالے سے فوری مدد فراہم کرنے کی تربیت دی ہے تاہم مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔''
حلب میں انہوں ںے نور نامی ایک بچی سے ملاقات کی جس نے زلزل میں اپنے والدین کو کھو دیا ہے اور چھ منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب جانے کے باعث اس کا ایک بازو بھی ٹوٹ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ''یہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتے المیے کی صرف ایک مثال ہے۔''
'سیاست نہ کریں'
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن اتوار کو ایک طے شدہ دورے پر دمشق پہنچے۔
انہوں ںے تصدیق کی کہ امدادی ادارے ہر ضرورت مند تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے متاثرین کے لیے مدد اکٹھی کرنے کی اپنی کوششوں کو بھی واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ ''یقیناً ہم دوسرے ممالک سے رابطہ کر رہے ہیں، مالی وسائل جمع کرنے میں مصروف ہیں اور سبھی کو یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس المناک وقت میں سیاست ایک جانب رکھ دیں۔ یہ شام کے لوگوں کی مدد کے لیے مشترکہ کوششین کرنے کا وقت ہے۔''
جیئر پیڈرسن نے متحارب فریقین کے زیرانتظام علاقوں اور سرحد کے آر پار رسائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں ںے کہا کہ ''میں اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ساتھ قریبی رابطوں میں ہوں اور ہم اس مدد کو اکٹھا کرنے کے لیے باہم مل کر کوشش کر رہے ہیں اور یقیناً شام کے اس دورے میں یہی میرا بنیادی پیغام ہے۔''