انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: زلزلہ متاثرین تک مزید امداد پہنچی لیکن یو این اداروں کے مطابق یہ ناکافی ہے

شام کے شمال مغربی علاقے جبلہ کے شہر رومیلا میں خاندان زلزلے میں تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے کے پاس کھڑا ہے۔
© UNICEF/Hasan Belal
شام کے شمال مغربی علاقے جبلہ کے شہر رومیلا میں خاندان زلزلے میں تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے کے پاس کھڑا ہے۔

شام: زلزلہ متاثرین تک مزید امداد پہنچی لیکن یو این اداروں کے مطابق یہ ناکافی ہے

انسانی امداد

زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کا دوسرا امدادی قافلہ جمعے کو شمال مغربی شام میں پہنچ گیا ہے تاہم امداد کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ زندگی کو تحفظ دینے کے لیے مزید تیز رفتار سے مزید امداد مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ سے 14 ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلہ باب الہوا کے سرحدی راستے سے شام میں حزب اختلاف کے زیرانتظام علاقوں میں پہنچا ہے۔

Tweet URL

یہ ترکیہ سے شام میں امداد پہنچانے کا واحد راستہ ہے جس کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دی ہے۔ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ''تمام متاثرہ علاقوں تک امداد اور امدادی اہلکار پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ راستے تلاش کرنے'' پر زور دیا ہے۔

سڑکوں کے راستے رسائی میں رکاوٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے نئے راستوں سے شمال مغربی شام میں فوری اور آسان رسائی کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ سوموار کو آنے والے زلزلے سے سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن وہ ان علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔

مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے لیے ڈبلیو ایف پی کی ریجنل ڈائریکٹر کورینا فلیشر نے کہا ہے کہ ''سڑکوں کو نقصان پہنچنے سے امداد فراہم کرنے کی رفتار میں کمی آئی ہے۔ ہمیں سرحدوں سے پار جانے کے قابل ہونا چاہیے، ہماری ضرورت یہ ہے کہ سرحدوں پر کسٹم حکام کی مناسب تعداد موجود ہو، ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت تمام فریقین درست قدم اٹھائیں۔''

ڈبلیو ایف پی کی عہدیدار نے زور دیا کہ شام میں حکومت کے زیرانتظام علاقوں سے حزب اختلاف کے زیر اثر جگہوں پر امدادی سامان کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شمال مغربی علاقے میں 90 فیصد لوگوں کا انحصار انسانی امداد پر ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ متحارب فریقین کے زیرانتظام علاقوں کے آر پار پہنچانے کے لیے ذخیرہ شدہ سامان پہلے ہی تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں شمال مغرب کی جانب ''تیز رفتار اور باقاعدہ رسائی'' میں مدد ملے گی۔

امدادی سامان کی کمی

کورینا فیلشر نے کہا کہ ''ہمارے پاس ذخیرہ شدہ امدادی سامان ختم ہو رہا ہے اور ہمیں نیا سامان لانے کے لیے رسائی کی ضرورت ہے۔'' ان کا کہنا تھا کہ شمال مغربی شام کی جانب باب السلام کے سرحدی راستے کو بھی کھولا جانا چاہیے۔

خطے میں آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد پہلے چار روز میں ڈبلیو ایف پی نے شام اور ترکیہ میں 115,000 افراد کو خوراک پہنچائی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 22,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ہزاروں لوگ ایسی عمارتوں میں واپس جانے سے خوفزدہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ منہدم ہو سکتی ہیں۔ یہ لوگ جما دینے والی سردی کے موسم میں کاروں اور خیموں میں اور جہاں کہیں بھی پناہ ملے وہاں سو جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کی جانب سے متاثرین میں گرما کھانا، تیار شدہ خوراک اور خاندانوں کے لیے تیار کردہ ایسی خوراک کے پیکیج تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

کورینا فلیشر نے کہا کہ ''زلزلے سے متاثرہ ہزاروں افراد کے لیے اس وقت خوراک سب سے بڑی ضرورت ہے اور اسے جلد از جلد ضرورت مندوں تک پہنچانا ہماری ترجیح ہے۔''

ڈبلیو ایف پی کو ترکیہ اور شام میں زلزلے سے متاثرہ 874,000 افراد کے لیے خوراک اور گرم کھانے کا انتظام کرنے کے لیے 77 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ ان میں شام اور ترکی میں نئے بے گھر ہونے والے بالترتیب 284,000 اور 590,000 افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں 45,000 پناہ گزین اور 545,000 ایسے لوگ ہیں جو نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

ایک تربیت یافتہ کتا زلزلے سے منہدم ہو جانے والی ایک عمارت کے ملبے میں ممکنہ طور پر بچ جانے والے افراد کی موجودگی سونگھ رہا ہے۔
© UNOCHA/INSARAG
ایک تربیت یافتہ کتا زلزلے سے منہدم ہو جانے والی ایک عمارت کے ملبے میں ممکنہ طور پر بچ جانے والے افراد کی موجودگی سونگھ رہا ہے۔

ہنگامی طبی حالات

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس نے سوموار کو آنے والے زلزلوں کے متاثرین کا علاج کرنے کے لیے شمال مغربی شام کے 16 ہسپتالوں کے لیے طبی سازوسامان جاری کر دیا ہے۔

جمعرات کو دبئی میں ڈبلیو ایچ او کے انصرامی مرکز سے طب و جراحت کا سامان بھی ترکیہ میں پہنچا ہے لیکن ضروریات بہت زیادہ ہیں جبکہ دونوں ممالک میں بہت سے ہسپتالوں کے علاوہ سینکڑوں کلینک بھی تباہ ہو چکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے کہا ہے کہ ادارے کے زیراہتمام خصوصی بین الاقوامی ہنگامی طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں اور پہلے ہی سخت محنت میں مصروف قومی ٹیموں کی مدد کے لیے ایسی مزید ٹیمیں آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر ہیرس نے مزید کہا کہ ''ہم موزوں طور پر اور ضرورت کے مطابق بہت سی طبی خدمات پہنچا رہے ہیں جن میں ایسی خواتین کو دی جانے والی مدد خاص طور پر اہم ہیں جن کے ہاں جلد بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ ہمارے پاس چوٹوں کا علاج کرنے والے خصوصی ماہرین بھی ہیں جو کئی طرح کے جسمانی فریکچر اور دباؤ پڑنے سے آنے والے زخموں کا علاج کر سکتے ہیں اور متعلقہ طبی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی مہارتوں کے علاوہ علاج معالجے کا خصوصی سامان بھی ساتھ لا سکتے ہیں۔''

ترکیہ اور شام میں سوموار کو آنے والے زلزلے کی شدت اور وسعت اس نقشے میں گہرے رنگوں سے واضح کی گئی ہے۔
© USGS
ترکیہ اور شام میں سوموار کو آنے والے زلزلے کی شدت اور وسعت اس نقشے میں گہرے رنگوں سے واضح کی گئی ہے۔

5.3 ملین بے گھر

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار امدادی کوششوں میں اضافہ کر رہے جبکہ یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ ہفتے کے آغاز پر آنے والی اس تباہی سے شام میں 5.3 ملین لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔

شام میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے نے دمشق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''ملک میں 6.8 ملین لوگ پہلے ہی بے گھر ہیں اور یہ زلزلے سے پہلے کی تعداد ہے۔''

یو این ایچ سی آر متاثرین کو پناہ اور امدادی اشیا کی فراہمی پر خاص توجہ دے رہا ہے اور یہ یقینی بنا رہا ہے کہ بے گھر لوگوں کے اجتماعی مراکز میں تمام ضروری سہولیات، خیمے، پلاسٹک کی چادریں، گرم کمبل، سونے کے لیے گدے اور سردی سے تحفظ دینے والے کپڑے موجود ہوں۔

شام کے علاقے جبلہ میں زلزلے سے بے گھر ہونے والے افراد کا ایک کیمپ۔
© UNICEF/Hasan Belal
شام کے علاقے جبلہ میں زلزلے سے بے گھر ہونے والے افراد کا ایک کیمپ۔