نازک وقت میں بروقت فیصلہ کن اقدامات کرنے ہو نگے: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے رواں سال کے لیے اپنی ترجیحات پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور دنیا تباہی کے دھانے پر ہے۔ اس سے پہلے کہ حالات بے قابو ہو جائیں، ممالک کو اپنی راہ تبدیل کرنا ہو گی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کے حصول، معاشی حقوق و ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، تنوع کے احترام اور مشمولہ معاشروں کی تعمیر ممکن بنانے کے لیے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کی اپیل کی۔
سیکرٹری جنرل نے 2023 کے لیے اپنے لائحہ عمل کو سامنے لانے سے پہلے ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلوں کے متاثرین کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ امدادی اقدامات کے لیے متحرک ہو رہا ہے۔
حقوق پر مبنی تصور
انتونیو گوتیرش نے اس سال اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی بنیاد پر تبدیلی لانےکے لیے زور دیا۔
انہوں ںے ممالک پر ''تاخیر ہونے سے پہلے فیصلہ کن اقدام'' کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ ''اگر ہم اس سال کے لیے اپنی ترجیحات کو دیکھیں تو محفوظ، مزید پرامن اور مزید مستحکم دنیا کے ہماری حتمی مقصد کے حصول میں حقوق پر مبنی طریقہ کار مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔''
'قیامت کی گھڑی'
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےکہا کہ قیامت کی علامتی گھڑی بتا رہی ہے کہ ہماری اپنے ہاتھوں تباہی میں صرف 90 سیکنڈ باقی رہ گئے ہیں۔ وہ 75 سال پہلے ایٹمی سائنس دانوں کی تیار کردہ گھڑی کا حوالہ دے رہے تھے جس میں نصف شب کو انسانیت کے خاتمے کا وقت بتایا گیا ہے اور کرہ ارض کے موسمیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے ہم اس وقت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
یوکرین پر روس کا کھلا حملہ، موسمیاتی ہنگامی حالات، بڑھتے ہوئے جوہری خطرات اور عالمگیر اصولوں اور اداروں کو کمزور کیے جانے جیسے عوامل نے دنیا کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ''پہلی مرتبہ اس گھڑی کی سوئی انسانیت کے تاریک ترین لمحے کے قریب آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ سرد جنگ کے دور میں بھی یہ سوئی تباہی کے نشان سے اس قدر قریب نہیں تھی۔ دراصل قیامت کی گھڑی ایک عالمگیر انتباہی گھڑی ہے۔ ہمیں جاگنا اور کام کرنا ہو گا۔''
'مستقبل کا سوچیے'
انہوں ںے زور دیا کہ ''ہمیں اپنی راہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔عملی اقدام ممکن ہے تاہم سیاست دانوں اور فیصلہ سازوں کے پاس طویل مدتی تزویراتی سوچ کا فقدان ہے۔''
''زمانہ حال کے لیے ترجیح'' میں صرف آئندہ انتخاب، اقتدار کی منتقلی یا کاروبار پر ہی توجہ رکھی جاتی ہے اور مستقبل کو ''دوسروں کا مسئلہ'' سمجھا جاتا ہے جسے انہوں ںے انتہائی غیرذمہ دارانہ، غیراخلاقی اور ناکام بالذات ذہنیت قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''میرا پیغام یہ ہے کہ صرف آج اپنے ساتھ پیش آنے والے ممکنہ حالات کو سامنے رکھنے اور ہچکچانے کے بجائے یہ دیکھیں کہ کل ہم سب کے ساتھ کیا ہو گا اور عملی اقدامات کریں۔''
'تبدیلی کا وقت'
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی اقدامات اٹھائے کیونکہ یہ معمولی کاموں کے بجائے 'تبدیلی لانے کا وقت' ہے۔
اس حوالے سے اقدامات کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر، جو کہ ادارے کی بنیادی دستاویز ہے اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے پر ہونی چاہیے جسے اس سال 75 برس ہو جائیں گے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''جب میں وسیع تر مفہوم میں انسانی حقوق پرنظر ڈالتا ہوں اور انہیں 21 ویں صدی کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو مجھے بند گلی سے باہر آنے کا لائحہ عمل دکھائی دیتا ہے اور اس کا آغاز امن کے حق سے ہوتا ہے۔''
امن کے لیے کام
گزشتہ برس 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے نتیجے میں ناصرف ملکی آبادی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو درپیش ناقابل بیان مصائب کے ہوتے ہوئے امن کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ مزید تناؤ اور خونریزی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ''مجھے خدشہ ہے کہ دنیا بے خبری میں ایک بڑی جنگ کی جانب نہیں جا رہی بلکہ کھلی آںکھوں سے اس راہ پر گامزن ہے۔ دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔ ایسا امن جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو۔ ہمیں ہر جگہ امن کے حصول کے لیے کڑی محنت کرنا ہو گی۔''
انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیا جہاں فلسطین اور اسرائیل کے مابین مسئلے کے دو ریاستی حل کا امکان معدوم ہوتا جا رہا ہے، انہوں نے افغانستان کے بارے میں بات کی جہاں خواتین کے حقوق کچلے جا رہے ہیں، ساحل خطے میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے، میانمار کو تشدد اور جبر کے نئے سلسلے کا سامنا ہے اور ہیٹی میں مسلح جتھوں کے تشدد نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
عالمی مالیات میں تبدیلی کی ضرورت
سیکرٹری جنرل نے عالمگیر مالیاتی ڈھانچے میں ''بنیادی تبدیلیوں'' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی خرابیوں کی دیگر علامات کے علاوہ دنیا بھر میں غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک قرض میں ڈوبتے جا رہے ہیں جبکہ سماجی تحفظ ختم ہو رہا ہے۔
یہ یقینی بنانے کے لیے بھی نئے عزم کی ضرورت ہو گی کہ عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی موثر آواز ہو اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک سمیت تمام غیرمحفوظ ملکوں کو قرض سے چھٹکارے اور اس کی ترتیب نو کی سہولت میسر آئے۔
انہوں ںے خبردار کیا کہ ''بنیادی اصلاحات کے بغیر امیر ممالک اور افراد دولت جمع کرتے رہیں گے اور دنیا کے جنوبی حصے کے لوگوں اور ممالک کے حصے میں بہت کم آئے گا۔''
پائیدار ترقی کے لیے خطرہ
اس سال آئندہ ماہ 'انتہائی کم ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس (ایل ڈی سی) اور ستمبر میں ایسی ہی ایک اور کانفرنس پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے مواقع فراہم کرے گی۔ موخرالذکر کانفرنس انہی اہداف کے لیے مخصوص ہو گی۔
2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ایسے میں ممالک کو غربت اور اخراج پر قابو پانے اور صںفی مساوات کو فروغ دینے کے واضح اہداف لے کر کانفرنس میں آنا ہو گا۔
موسمیاتی اقدامات کا حساب کتاب
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ترقی کا حق صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق سے وابستہ ہے اور اسی لیے ''ہمیں فطرت کے خلاف بے رحمانہ، سنگدلانہ اور نامعقول جنگ کو ختم کرنا ہو گا''۔ یہ پیغام سیکرٹری جنرل کے عہدے پر ان کے دور کا بنیادی نعرہ بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ''2023 حساب کتاب کا سال ہے۔ اس سال موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی صورتحال میں بنیادی تبدیلی آنی چاہیے۔ ہمیں تباہی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔''
ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی
انہوں ںے کہا کہ اس دہائی کے دوران عالمی سطح پر خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار نصف رہ جانی چاہیے جس کے لیے خاص طور پر صںعتی ممالک کے جی20 گروپ میں معدنی ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے ''مزید پرعزم اقدامات'' سے کام لینا ہو گا۔
مزید برآں کاربن کے اخراج کو نیٹ زیرو سطح پر لانے کا وعدہ کرنے والے کاروباروں، شہروں، علاقوں اور مالیاتی اداروں کو اس سال ستمبر تک قابل اعتماد اور پرعزم اہداف کے ساتھ قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے اپنے منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔
کاپ 27 کے وعدوں پر عملدرآمد
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات خاطرخواہ مالی وسائل کی غیرموجودگی میں ناممکن ہیں اور سیکرٹری جنرل نے امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ کم از کم موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی کاپ 27 کانفرنس میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کریں۔
ان میں نقصان اور تباہی پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے فراہم کیے جانے والے مالی وسائل کی مقدار کو دگنا کرنا اور آئندہ پانچ برس کے دوران قدرتی آفات کی بروقت اطلاع دینے کے نظام قائم کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
سیکرتری جنرل دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی کاپ 28 کانفرنس سے قبل ستمبر میں موسمیاتی عزم سے متعلق کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔
تنوع پر حملہ
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ تنوع اور ثقافتی حقوق کی عالمگیریت کا احترام خطرے میں ہے جس کا کسی حد تک ثبوت یہود مخالفت، مسلم مخالف تعصب، عیسائیوں کے خلاف مظالم اور نسل پرستی اور سفید فام برتری کے نظریات کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔
اس کے ساتھ نسلی و مذہبی اقلیتیں، پناہ گزین، مہاجرین، مقامی باشندے اور ایل بی جی ٹی کیو آئی پلس افراد کے خلاف آن لائن اور آف لائن سطح پر نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔
آن لائن نفرت کے خلاف اقدامات
انہوں نے کہا کہ ''ہم حکومتوں، انضباطی اداروں، پالیسی سازوں، ٹیکنالوجی کی کمپنیوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت اثرورسوخ کے حامل تمام اداروں سے کہیں گے کہ وہ انٹرنیٹ پر غلط اور گمراہ کن اطلاعات کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
نفرت کو روکیں۔ اس کے خلاف مضبوط حفاظتی اقدامات کریں۔ نقصان کا باعث بننے والی زبان کے استعمال پر جوابدہ رہیں۔''
صنفی عدم مساوات
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مکمل صنفی مساوات کے حق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ''اس دور میں انسانی حقوق کی وسیع تر خلاف ورزی کے نتیجے میں دنیا کی نصف آبادی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے۔''
انہوں ںے خاص طور پر افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ عوامی زندگی میں شرکت سے روکنے والے قوانین کے باعث اب ''اپنے ہی ملک میں جلاوطن' ہیں جبکہ ایران میں خواتین بہت بڑی ذاتی قیمت ادا کرتے ہوئے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صنفی عدم مساوات کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے اور اس حوالے سے حالات بدترین صورت اختیار کر رہے ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے وسیع تر صنفی مساوات قائم کرنے کے اقدامات کے لیے تعاون کو دگنا کرنے کا وعدہ بھی کیا جس میں خواتین کی نمائندگی، انتخابات، کاروباری بورڈ اور امن بات چیت میں خواتین کی کمی کو دور کرنے کے لیے مخصوص کوٹے کا اہتمام بھی شامل ہے۔
حقوق کی پامالی کی 'وبا'
جمہوریت پسپا ہو رہی ہے اور ایسے میں مشمولہ معاشروں کی بنیاد سمجھے جانے والے شہری و سیاسی حقوق بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے انتباہ کیا کہ ''وبا کو شہری و سیاسی حقوق کی پامالیوں کی وبا پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا اور شہری آزادی ''ہماری آںکھوں کے سامنے ختم ہو رہی ہے۔''
سیکرٹری جنرل کی جانب سے انسانی حقوق کے لیے اقدامات کے مطالبے کے ذریعے اقوام متحدہ بنیادی آزادیوں اور سول سوسائٹی کی شرکت کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں شہری آزادی کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔
آئندہ نسلوں کے حقوق کا تحفظ
سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ آج حقوق کو کمزور کرنے والے خطرات آنے والی نسلوں پر بھی اثرانداز ہوں گے جنہیں عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
انہوں ںے امید ظاہر کی کہ آئندہ برس ہونے والی 'مستقبل کی کانفرنس' میں یہ حقوق عالمگیر بات چیت میں نمایاں ہوں گے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''اس مستقبل کے حوالے سے نوجوانوں کو مدنظر رکھا جانا سب سے اہم ہے اور اس سال اقوام متحدہ میں نوجوانوں کا دفتر اس حوالے سے ہمارے کام کو مضبوط کرنے کے لیے فعال ہو جائے گا۔''