انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لڑکیوں کے جنسی اعضاء قطع کرنے کے خلاف مرد بھی آواز اٹھائیں، گوتیرش

یوگنڈا میں مرد اور لڑکے ایف جی ایم کے خاتمے کی جدوجہد میں شریک ہو رہے ہیں۔
© UNICEF/Henry Bongyereirwe
یوگنڈا میں مرد اور لڑکے ایف جی ایم کے خاتمے کی جدوجہد میں شریک ہو رہے ہیں۔

لڑکیوں کے جنسی اعضاء قطع کرنے کے خلاف مرد بھی آواز اٹھائیں، گوتیرش

انسانی حقوق

اس سال دنیا بھر میں بیالیس لاکھ لڑکیوں کو جنسی اعضاء کی قطع یا 'ایف جی ایم' کا خطرہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس عمل کو ''بنیادی انسانی حقوق کی گھناؤنی خلاف ورزی'' قرار دیا ہے۔

خواتین کے جنسی اعضاء کی قطع کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنانے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ بعض ثقافتوں میں جنسی اعضاء کو کاٹے جانے کا رواج ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے چلا آ رہا ہے جس سے خواتین اور لڑکیوں کی جسمانی و ذہنی صحت کو تاحیات نقصان ہوتا ہے۔

Tweet URL

'پدرشاہی ذہنیت کا بیہودہ مظہر'

انہوں ںے کہا کہ ''یہ ہماری دنیا میں پھیلی پدرشاہی ذہنیت کی انتہائی بیہودہ شکل ہے۔''

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صرف اس سال ہی چار ملین سے زیادہ لڑکیوں کو صنفی بنیاد پر کیے جانے والے تشدد کے اس تباہ کن عمل سے خطرہ لاحق ہے۔ اس معاملے میں ہنگامی بنیادوں پر وسائل خرچ کرنے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ دنیا 2030 تک خواتین کے جنسی أعضاء کی قطع کے خاتمے سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف کو حاصل کر سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''اس فعل کی بنیاد اسی صنفی عدم مساوات اور پیچیدہ سماجی روایات میں ہے جو خواتین کی شرکت اور قیادت کو محدود رکھتی ہیں اور ان کی تعلیم و روزگار تک رسائی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔

یہ تفریق پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے اور ہمیں اس کو ختم کرنے کے لیے پورے معاشرے کی جانب سے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔''

اسی سلسلے میں جنسی و تولیدی صحت سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ 'یو این ایف پی اے' اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی شراکت سے ایف جی ایم کے خاتمے کی ایک مہم شروع کر رہا ہے جس کا موضوع 'ایف جی ایم کے خاتمے کے لیے سماجی و صںفی رسوم میں تبدیلی کے لیے مردوں اور لڑکوں کے ساتھ شراکت' ہے۔

یہ ادارے عالمی برادری سے کہہ رہے ہیں کہ ایف جی ایم کے نقصان کو اجاگر کرنے کے لیے مردوں کو ساتھ ملایا جائے اور اس سلسلے میں خواتین اور لڑکیوں کی آوازوں کو بلند کیا جائے۔

ایف جی ایم کے خلاف اتحادیوں میں اضافہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ادارہ پہلے ہی اقدامات کر رہا ہے اور این جی اوز کی صورت میں اس کے شراکت داروں نے اس کام میں مذہبی و روایتی رہنماؤں، طبی کارکنوں، نفاذ قانون کے حکام، سول سوسائٹی کے ارکان اور نچلی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں جیسے اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے معاملے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے ہر جگہ مردوں اور لڑکوں سے کہا ہے کہ وہ ''ہم سب کے فائدے کے لیے خواتین کے جنسی اعضا کی قطع کے خلاف آواز اٹھانے اور اس عمل کو روکنے کے لیے میرا ساتھ دیں۔''

اپنے پیغام کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سماجی تبدیلی کے عزم اور شراکتوں کو مضبوط بنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ ایف جی ایم کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔

ایف جی ایم کے خاتمے کی رفتار تیز کرنے کے لیے 'یو این ایف پی اے' اور 'یونیسف' کے مشترکہ پروگرام 2008 سے جاری ہیں اور ان میں افریقہ و مشرق وسطیٰ کے 17 ممالک پر توجہ اور علاقائی و عالمگیر اقدامات میں مدد دی جا رہی ہے۔

سری لیون کی دس سالہ بچی اس وقت گھر سے بھاگ گئی جب اسے پتہ چلا کے اس کے والدین اسے ایم جی ایم کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ یہ لڑکی اب یونیسف کے تحت کام کرنے والی ایک پناہ گاہ میں مقیم ہر اور تعلیم بھی حاصل کر رہی ہے۔
© UNICEF/Olivier Asselin

لاکھوں افراد کے لیے مدد

اس پروگرام کی مدد سے چھ ملین سے زیادہ لڑکیوں اور خواتین نے ایف جی ایم کی روک تھام، اس سے تحفظ اور نگہداشت کی خدمات حاصل کی ہیں جبکہ تقریباً 45 ملین افراد نے ایف جی ایم کو ترک کرنے کے لیے عوامی سطح پر اعلانات کیے ہیں۔

2021 میں ایف جی ایم کی صورتحال پر 'یو این ایف پی اے' کی سالانہ رپورٹ کےمطابق 532,000 سے زیاہ لڑکیوں کو ایف جی ایم سے بچایا جا چکا ہے۔

تاہم 'یو این ایف پی اے' کا یہ اندازہ بھی ہے کہ 2030 تک ایف جی ایم کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر کووڈ۔19 وباء کے باعث ایف جی ایم کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں خلل نہ آتا تو ان لڑکیوں اور خواتین کو تحفظ دیا جا سکتا تھا۔

2020 میں یونیسف کے تجزیے کے مطابق، اب بھی دنیا بھر میں ہر چار لڑکیوں اور خواتین میں سے ایک یا مجموعی طور پر 52 ملین کو طبی عملے کے ہاتھوں ایف جی ایم کا تجربہ ہو چکا ہے جو کہ ''خواتین کے جنسی اعضاء کی قطع کو طبی عمل کے طور پر لیے جانے کا تشویش ناک رحجان ہے۔''