انسانی کہانیاں عالمی تناظر

قیام امن کو مشمولہ اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہونا چاہیے، امینہ محمد

یونیسف کے پروگرام ’تعلیم برائے امن‘ کے تحت قیام امن کے بارے میں آگہی بڑھانے کی مہم میں شریک بچے۔
© UNICEF
یونیسف کے پروگرام ’تعلیم برائے امن‘ کے تحت قیام امن کے بارے میں آگہی بڑھانے کی مہم میں شریک بچے۔

قیام امن کو مشمولہ اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہونا چاہیے، امینہ محمد

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کی اصل وجہ 'امن' کو اس کی بنیاد کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے کہتے ہوئے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ ادارے کے اس مقصد کو اب ''سنگین خطرہ لاحق ہے۔''

نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ ''تقریباً ہر ملک میں لوگوں کا تحفظ اور سلامتی کا احساس کم ترین درجے پر ہے اور دنیا بھر میں ہر سات میں سے چھ افراد عدم تحفظ کے احساسات سے دوچار ہیں۔''

امینہ محمد کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو سب سے بڑی تعداد میں پرتشدد تنازعات کا سامنا ہے اور ایک چوتھائی آبادی جنگ زدہ علاقوں میں رہ رہی ہے جس سے سنگین انسانی تکالیف جنم لے رہی ہیں، غربت بڑھ رہی ہے، لوگوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے اور کروڑوں انسان تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کی نائب سربراہ نے کہا کہ ''اس سے لوگوں کی اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح کام لینے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت پر شدید دباؤ ہے۔''

لاتعداد رکاوٹیں

کووڈ۔19 وبا سے پہلے بھی جنگوں سے متاثرہ ممالک اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کے حصول کی راہ پر بہت پیچھے تھے اور اندازوں کے مطابق 2030 تک دنیا میں 80 فیصد انتہائی غریب آبادی ایسے ممالک میں ہو گی جو نازک حالات سے دوچار ہیں اور جنہیں جنگ کا سامنا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ''دوسرے الفاظ میں جنگ اور غربت کا آپس میں گہرا تعلق ہے جبکہ وبا نے اس سنگین صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔''

دریں اثنا، یوکرین میں جاری جنگ نے ناصرف یوکرین کے لوگوں کی زندگی کو تباہ کیا ہے بلکہ خوراک، توانائی اور عالمگیر مالیات کو درپیش بحرانوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''اب جبکہ ہم 2030 تک پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے لیے مقررہ عرصے میں نصف وقت گزار چکے ہیں تو ہمیں دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری حالیہ پیش رفت درست راہ سے کہیں دور ہے۔''

وبا کے آغاز سے اب تک مزید 200 ملین سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہو گئے ہیں، مزید 820 ملین لوگ بھوک کا شکار ہونے کو ہیں، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق مزید کچلے جا رہے ہیں، عالمگیر مالیاتی نظام ترقی پذیر ممالک کو ناکام کر رہا ہے اور معیشتیں اپنے شہریوں کے کام آنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔

انہوں ںے واضح کیا کہ یہ مسائل ''ہماری پرامن بقائے باہمی کے لیے خطرہ ہیں۔''

خطرناک ردعمل

امینہ محمد کا کہنا تھا کہ ترقی کا فقدان شکایات پیدا کرتا ہے، اداروں کو تباہ کر دیتا ہے اور عداوتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ''حیاتیاتی تنوع کے نقصان، موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی سے ہمارے ماحول کو ہی خطرہ نہیں ہے۔ اس سے ایسی تباہ کن قوتوں کے بے لگام ہونے کا خدشہ بھی ہے جو ہمارے معاشروں میں تقسیم پیدا کرتی ہیں، سماجی ہم آہنگی کو ختم کر دیتی ہیں اور عدم استحکام کو ہوا دیتی ہیں۔ انہوں ںے کونسل پر زور دیا کہ وہ اب اور مستقبل میں امن قائم کرنے کے لیے پائیدار پیش رفت کرے۔''

مشرقی ڈارٖفر میں تعلیم بالغان کے ایک پروگرام شریک خواتین لکھنا پڑھنا سیکھ رہی ہیں۔
PBF Secretariat in Sudan
مشرقی ڈارٖفر میں تعلیم بالغان کے ایک پروگرام شریک خواتین لکھنا پڑھنا سیکھ رہی ہیں۔

دیرپا امن

امن کا قیام ''شمولیتی اور پائیدار ترقی کی بنیاد'' پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ روک تھام اور قیام امن کی بنیاد پر ''امن کا نیا ایجنڈا اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ سوچ کو باہم مربوط کرنے کا ایک منفرد موقع مہیا کرے گا کہ رکن ممالک ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔''

یہ قومی سطح پر روک تھام اور قیام امن کے لیے ترجیحات کی نشاندہی کرے گا اور بین الاقوامی برادری کے تعاون کو قومی سطح پر تشدد میں کمی لانے کے اقدامات کا ذریعہ بنائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''تمام ممالک خطرات کی زد میں ہیں اور تمام حکومتوں کو ایسے اقدامات کے لیے تیار رہنا ہو گا جن سے لوگوں کی شکایات دور کرنے اور تشدد کی روک تھام میں مدد مل سکے۔''

انہوں نے ہر ملک کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی میں خاص طور پر کم نمائندگی والے لوگوں کی شمولیت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی حمایت، بڑے پیمانے پر قانونی جواز اور سماجی استحکام بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے اور یہ تینوں ایسے خطرناک عوامل ہیں جو جنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی نائب سربراہ نے کہا کہ ''نئے ایجنڈے میں انسانی حقوق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے اور یہ محض درست ہی نہیں بلکہ دانشمندانہ اقدام بھی ہے۔

خواتین اور نوجوانوں کا اخراج

دریں اثنا، خواتین ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل سے خارج ہیں اور فوجی اخراجات بڑھنے کے ساتھ ان کی تنظیموں اور اداروں کو مالی وسائل کی فراہمی میں کمی آ رہی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ہمیں ''خواتین کے حقوق سلب کیے جانے کے عمل کو روکنا اور صںفی مساوات یقینی بنانا ہے تاکہ امن قائم کرنا اور اسے برقرار رکھنا یقینی ہو سکے۔

نوجوانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امینہ محمد نے امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں ان کے کردار کا تذکرہ کیا اور قیام امن میں نوجوانوں کی شمولیت کے لیے علاقائی اور قومی فریم ورک بنانے پر زور دیا۔

مزید برآں، انہوں نے کونسل پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں، امن اور سلامتی کے موضوعات پر ایک سالانہ مباحثے کا انعقاد کرے جہاں نوجوانوں کے زیرقیادت سول سوسائٹی اور قیام امن کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ بات کی جا سکے۔

قیام امن کا فنڈ ہیٹی میں انتخابات کے دوران تشدد خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنانے کی روک تھام میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
© UNICEF/Roger LeMoyne
قیام امن کا فنڈ ہیٹی میں انتخابات کے دوران تشدد خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنانے کی روک تھام میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

قیام امن کی ساخت

اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی عہدیدار نے قیام امن کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سفیروں پر زور دیا کہ وہ قیام امن سے متعلق کمیشن کو مزید کارآمد بناتے ہوئے اس کے کام میں ''روک تھام اور قیام امن سے متعلق اسباق'' کو مربوط کریں۔

امینہ محمد نے کہا کہ قیام امن کے لیے سرمایہ کاری سے دنیا بھر میں پائیدار امن کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے قیام امن کے لیے مالی معاونت پر 2022 میں جنرل اسمبلی کی قرارداد کی ستائش کرتے ہوئے ایسی سرمایہ کاری کو سماجی استحکام کے لیے ''ضروری'' قرار دیا۔

قیام امن کے فنڈ میں دیے گئے عطیات کے جائزے کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ ''یہ قیام امن اور روک تھام میں سرمایہ کاری کے لیے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے''

اپنی بات کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ''ہمیں بہت سے بحرانوں کا سامنا ہے اور ہم نے ان کے سبب اُن بنیادی کوششوں کے لیے مختص مالی وسائل کو کسی اور جانب منتقل ہونے نہیں دینا۔''

کثیررخی مسائل کے خلاف اقدامات

امن برقرار رکھنے میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کا اعتراف کرتے ہوئے قیام امن کے کمیشن کے سربراہ محمد عبدالمحیط نے کہا کہ افراد، معاشروں اور ممالک کی جانب سے ''دور حاضر کے مخصوص مسائل'' سے نمٹنے کے لیے خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت کے حوالے سے اس کی ''لازمی اہمیت'' ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ''ہمارے مشترکہ ایجنڈے'' کی رپورٹ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ''قومی سطح پر قیام امن کی ترجیحات اور قیام امن کے طریقہ ہائے کار میں خواتین اور نوجوانوں کی مکمل، مساوی اور بامعنی شرکت کی حمایت میں اضافے کی ضرورت کو دہراتی ہے۔

عبدالمحیط نے مستقبل کے لیے ''قیام امن کی سرگرمیوں کے لیے مناسب، قابل توقع اور پائیدار مالی مدد کی فراہمی'' کے مطالبے کو دہرایا۔