بحران انسانی سمگلنگ کے متاثرین کی شناخت میں رکاوٹ: یو این او ڈی سی رپورٹ

’واک فار فریڈیم‘ انسانی سمگلنگ کے خلاف مقامی سطح پر ایکشن اور عالمی سطح پر بیداری پیدا کرتی ہے۔
© Unsplash/Hermes Rivera
’واک فار فریڈیم‘ انسانی سمگلنگ کے خلاف مقامی سطح پر ایکشن اور عالمی سطح پر بیداری پیدا کرتی ہے۔

بحران انسانی سمگلنگ کے متاثرین کی شناخت میں رکاوٹ: یو این او ڈی سی رپورٹ

مہاجرین اور پناہ گزین

منشیات اور جرائم کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) کی نئی رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ کے بہت کم متاثرین کی شناخت ہو رہی ہے حالانکہ کووڈ۔19 وبا اور دیگر بحران انہیں درپیش خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

2020 میں دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے معلوم متاثرین کی تعداد اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 11 فیصد کم رہی جس کا سبب یہ ہے کہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ان کی مکمل تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

Tweet URL

اس عرصہ میں انسانی سمگلنگ سے متعلق جرائم میں سزائیں پانے والوں کی تعداد بھی 27 فیصد کم رہی اور اس طرح 'یو این او ڈی سی' نے 2017 کے بعد اس جرم کے حوالے سے جس طویل مدتی رحجان کی نشاندہی کی اس میں تیزی آئی ہے۔

متاثرین اور اس جرم میں سزائیں پانے والوں کی تعداد میں تیز ترین کمی جنوبی ایشیا میں (56 فیصد) ریکارڈ کی گئی جس کے بعد وسطی امریکہ اور غرب الہند (54 فیصد) اور جنوبی امریکہ (46 فیصد) آتے ہیں۔

وبا کے اثرات

رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں کے لیے میسر مواقع میں کمی کے باوجود وبا نے ممکنہ طور پر متاثرین کی نشاندہی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔

'یو ای او ڈی سی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ والی کا کہنا ہے کہ ''ہم بحران کو استحصال بڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اقوام متحدہ اور عطیہ دہندگان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں قومی سطح پر حکام کو انسانی سمگلنگ کے خطرات سے نمٹںے اور خصوصاً ہنگامی حالات میں متاثرین کی نشاندہی اور انہیں تحفظ دینے کے لیے مدد فراہم کریں۔''

تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وبا کے دوران جنسی استحصال کے لیے انسانی سمگلنگ کے بہت کم واقعات کی نشاندہی ہوئی کیونکہ اس عرصہ میں بیشتر عوامی مقامات بند تھے۔

وبا سے متعلقہ پابندیوں کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اس طرز کی انسانی سمگلنگ مزید خفیہ اور غیرمحفوظ جگہوں پر منتقل ہو گئی جس کے باعث متاثرین کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔

'خود کو بچانے والے' متاثرین

رپورٹ میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات کے تجزیے سے بھی یہ سامنے آتا ہے کہ جن متاثرین کی نشاندہی ہوئی ان میں سے بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت سمگلروں کے چنگل سے نکلے اور ان کا شمار ''خود کو بچانے والوں''  میں ہوتا ہے۔

41 فیصد متاثرین نے خود کوشش کر کے سمگلروں کے چنگل سے رہائی پائی اور حکام کو اطلاع دی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 28 فیصد متاثرین کو بازیاب کرایا اور 11 فیصد ایسے تھے جو مقامی لوگوں اور سول سوسائٹی کی کوششوں سے آزاد ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات اس لیے خاص طور پر تشویشناک ہے کہ غالباً بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خود کو متاثرین کے طور پر متعارف نہیں کرایا یا وہ انسانی سمگلروں کے چنگل سے فرار کی کوشش کے حوالے سے بہت خوفزدہ تھے۔

انسانی سمگلنگ سے متاثر ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون مشرقی سوڈان میں یو این ایچ سی آر کی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔
© UNHCR/Osama Idriss
انسانی سمگلنگ سے متاثر ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون مشرقی سوڈان میں یو این ایچ سی آر کی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔

جنگیں اور تنازعات

جنگیں اور تنازعات انسانی سمگلروں کو لوگوں کے استحصال کا موقع دیتی ہیں۔ یوکرین میں جاری جنگ کے باعث لاکھوں بے گھر لوگوں کے انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر متاثرین کا تعلق افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تھا اور انہیں انہی خطوں کے ممالک میں سمگل کیا گیا۔

ذیلی۔صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں بھی انسانی سمگلر بڑی حد تک بلا خوف وخطر اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔ ان خطوں کے ممالک نے بہت کم سمگلروں کو سزائیں دیں اور وہاں باقی دنیا کے مقابلے میں بہت کم متاثرین کی نشاندہی ہوئی۔

اسی دوران ان خطوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی دیگر خطوں کے متاثرین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ممالک میں نشاندہی ہوئی جہاں انہیں سمگل کیا گیا تھا۔

عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات کے تجزیے سے سامنے آیا کہ خواتین متاثرین کو سمگلروں کے ہاتھوں جسمانی یا انتہائی درجے کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی متاثرین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھی۔

اغوا اور سمگل کیے جانے والے بچوں کی تعداد بڑوں کے مقابلے میں قریباً دو گنا زیادہ ہے۔

خواتین کٹہرے میں

بیان کردہ عرصہ میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے جن لوگوں کے خلاف تحقیقات کی گئیں ان میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور سے زیادہ تھی۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً نظام انصاف میں خواتین سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں خواتین کا کردار انہیں اس جرم میں سزا ہونے کے امکان کو بڑھا سکتا ہے۔

انسانی سمگلنگ کے حوالے سے ساتویں عالمی رپورٹ کی بنیاد 2017 اور 2020 کے درمیانی عرصہ میں 141 ممالک سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار اور اس جرم کے حوالے سے عدالتوں میں چلائے گئے 800 مختلف مقدمات کے تجزیے پر ہے۔