سال 2023 میں صحت کی غیر معمولی ضروریات کے لیے 2.54 ارب ڈالر درکار

زیمبیا میں عالمی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والا کانوں اور سماعت کے امراض کا ایک کلینک۔
© WHO/Blink Media/Gareth Bentley
زیمبیا میں عالمی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والا کانوں اور سماعت کے امراض کا ایک کلینک۔

سال 2023 میں صحت کی غیر معمولی ضروریات کے لیے 2.54 ارب ڈالر درکار

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اسے اِس سال اپنی امدادی کارروائیوں کے لیے اڑھائی ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی تاکہ بیماری اور بھوک کا سامنا کرنے والے لوگوں کی ریکارڈ تعداد کو مدد دی جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 339 ملین لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

Tweet URL

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے عطیہ دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ''فیاضی کا مظاہرہ کریں'' اور زندگیوں کو تحفظ دینے، اندرون و بیرون ملک بیماریوں کا پھیلاؤ روکنے اور بحالی کے عمل میں مصروف لوگوں کے ساتھ تعاون کے لیے مدد فراہم کریں۔

اِس وقت ڈبلیو ایچ او کا عملہ دنیا بھر میں جاری 54 طبی بحرانوں پر قابو پانے میں مدد مہیا کر رہا ہے جن میں سے 11 تیسرے درجے میں آتے ہیں جسے ڈبلیو ایچ او نے بلند ترین سطح کی ہنگامی صورتحال قرار دے رکھا ہے جس سے نمٹنے کے لیے انتہائی جامع اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے، انتہائی غیرمحفوظ لوگ ہی بحرانوں سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔''

تمام بحرانوں کے خلاف اقدامات

اقوام متحدہ کا ادارہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے اثرات سے لے کر ساحل خطے اور شاخِ افریقہ میں غذائی عدم تحفظ کے خوفناک بحران تک ''بے مثال'' تعداد میں ہنگامی حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی کوشاں ہے۔

ڈبلیو ایچ او روس کے حملے کے بعد یوکرین میں لوگوں کو درپیش تکالیف میں کمی لانے کے لیے بھی بھرپور کام کر رہا ہے اور یمن، افغانستان، شام اور شمالی ایتھوپیا میں مصروف کار ہے جہاں جنگ، کووڈ۔19 اور موسمیاتی تبدیلی نے صحت کی سہولیات تک رسائی میں خطرناک طور سے خلل ڈالا ہے۔

ٹیڈروز کی اپیل

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ''بیک وقت بہت سے بحرانوں پر مشتمل یہ غیرمعمولی صورتحال غیرمعمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ پہلے سے کہیں بڑی تعداد میں لوگوں پر بیماری اور بھوک کا خطرہ منڈلا رہا ہے اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ دنیا ان حالات سے صرف نظر اور یہ امید نہیں کر سکتی کہ یہ بحران خود بخود ختم ہو جائیں گے۔''

2022 میں ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مقامی و قومی سطح کے حکام، غیرسرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اشتراک سے لوگوں کو دی جانے والی مدد میں ادویات اور دیگر اہم سامان کے علاوہ طبی کارکنوں کی تربیت، ویکسین کی فراہمی، بیماری کی نگرانی بڑھانے کا اہتمام، متحرک شفا خانوں کا قیام، ذہنی صحت کے لیے مدد کی فراہمی، زچہ کی صحت سے متعلق مشاورت اور دیگر بہت سے اقدامات شامل تھے۔

اِس وقت ڈبلیو ایچ او کا عملہ دنیا بھر میں جاری 54 طبی بحرانوں پر قابو پانے میں مدد مہیا کر رہا ہے۔
© WHO/PAHO/Karen González Abril
اِس وقت ڈبلیو ایچ او کا عملہ دنیا بھر میں جاری 54 طبی بحرانوں پر قابو پانے میں مدد مہیا کر رہا ہے۔

طبی فوائد

ادارے کا کہنا ہے کہ ''ڈبلیو ایچ او دنیا بھر میں ایسے سستے اور انتہائی موثر اقدامات کرتا ہے جن سے صحت، زندگیوں اور روزگار کو تحفظ ملتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کو دیے گئے ہر ایک ڈالر کے عوض کم از کم 35 ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔''

ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا یہ ادارہ افغانستان، جمہوریہ کانگو، شاخِ افریقہ کے وسیع تر علاقے، شمالی ایتھوپیا، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام، یوکرین اور یمن میں تیسرے درجے کی طبی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے میں مدد دے رہا ہے۔ کووڈ۔19 وبا اور ایم پاکس کی وبائیں بھی تیسرے درجے کے ہنگامی طبی حالات میں شمار ہوتی ہیں۔