خشک سالی سے متاثرہ کابو ویڈ میں گوتیرش نے دیکھی امید کی کرن
سیکرٹری جنرل نے اتوار کا دن کابو ویڈ کے مغربی جزیرے سانتو اینٹاؤ کے متنوع علاقوں میں گزارا جہاں پانچ برس شدید خشک سالی کے بعد اقوام متحدہ کے تعاون سے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے زرعی شعبے کو تبدیل کرنے میں مدد دی جا رہی ہے۔
سانتو اینٹاؤ کے دورے میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی کار ایک بل کھاتی سڑک پر چلتی رہی جس کا آغاز ایک بنجر علاقے سے ہوا لیکن ایک آخری موڑ مڑنے اور چند سو فٹ بلندی کی طرف جانے کے بعد ان کی کھڑکی کے باہر چار سو ہریالی دکھائی دی جہاں پہاڑوں پر پتھروں کی دیواروں کے سہارے چھوٹی چھوٹی ہموار جگہوں پر کیلے اور پام کے درخت اور گنے کی فصل نظر آ رہی تھی جبکہ کچھ فاصلے پر ندیوں میں شفاف پانی جھلملا رہا تھا۔
لش پال وادی کابو ویڈ کے انتہائی مغربی جزیرے سانتو اینٹاؤ کے پہاڑوں میں واقع ہے اور یہ جزائر پر مشتمل ایک ایسے علاقے میں نخلستانی منظر پیش کرتی ہے جس کی صرف 10 فیصد زمین ہی قابل کاشت ہے۔ پہلے سے ہی اس چھوٹے علاقے میں 2000 سے 2020 کے درمیان 18 فیصد زمین پانی کی نذر ہو گئی ہے۔
انتونیو گوتیرش اس ملک میں اپنے دورے کے دوسرے روز پہاڑی ڈھلان پر بنے ایک کھیت کو دیکھنے گئے جہاں کسانوں کے ایک گروہ نے ان کا استقبال کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی ایک ماہر کاتیا نیویس بھی سیکرٹری جنرل کے ساتھ تھیں جنہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ ایک تجرباتی باغ میں کھڑے ہیں جہاں مردوخواتین پودوں کی نئی اقسام اگانے اور پائیدار زرعی تکنیک سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس گروہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کافی، ٹماٹر، شکرقندی،کاساوا اور دیگر اشیا سے بھری ایک رنگا رنگ میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ''Muitos Parabens' کہا جس کا مطلب 'بہت اچھا کام' ہے۔ مقامی سطح پر اگائی جانے والی اس پیداوار کی ایک ایسے ملک کے حوالے سے خاص اہمیت ہے جسے اپنی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے 80 فیصد خوراک درآمد کرنا پڑتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کو بتایا گیا کہ اس باغ میں اگائے جانے والے بعض پودے کاساوا کی ایک نئی قسم ہیں جس کے بارے میں ماہرین کو امید ہے کہ یہ خشک سالی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جس نے گزشتہ پانچ سال سے ملک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ کیسے کسانوں نے اپنی زرعی زمین کو پانی اور کھاد دینے کے نئے طریقے سیکھے ہیں۔
اس اقدام سے قریباً 285 کسانوں کو مدد مل رہی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے زیر قیادت بہت سے منصوبوں کا ایک حصہ ہے جن کی بدولت ملک میں زراعت کو اس انداز میں تبدیل کیے جانے کی امید ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو خوراک میسر آئے اور مجموعی طور پر ایسی زراعت سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچے۔
خشک سالی میں پانی کا انتظام
'گوٹا اے گوٹا' نامی اقدام کے ذریعے سینکڑوں کسانوں کو 'ڈرپ اریگیشن' یا نالیوں کے ذریعے آبپاشی تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ کاتیا نیویس نے واضح کیا کہ ''یہاں 10 جزائر پر صرف 3,000 ہیکٹر زمین کو ہی پانی دیا جاتا ہے لیکن جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رقبے کو 5,000 ہیکٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔''
قریبی علاقے میں رہنے والی اینجیلا سلوا نے بھی سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔ وہ اس منصوبے سے استفادہ کرنے والے کسانوں میں شامل ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ان کی زمین پر ڈرِپ ںظام نصب ہو جائے گا۔
انہوں ںے بتایا کہ ''میں کسانوں کے خاندان میں پیدا ہوئی، میرے والدین، میرے دادا اور پڑدادا سبھی کسان تھے۔ جب تک میری اپنے شوہر سے علیحدگی نہیں ہوئی تھی وہی زمین کی دیکھ بھال کرتا تھا۔''
کل وقتی استاد کے طور پر کام کرنے والی اینجیلا نے ورثے میں ملے اپنے قطعات اراضی پر کھیتی باڑی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں ںے بتایا کہ ''میں اب بھی سیکھ رہی ہوں لیکن میں مزید سیکھنا اور اسے آمدنی کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتی ہوں۔ میرا خواب ہے کہ میں اس زمین کو خوراک پیدا کرنے والے جنگل میں تبدیل کر دوں جس سے میرے بچے اور پوتے پوتیاں بھی فائدہ اٹھا سکیں۔''
ان کی زمین کے بڑے حصے پر گنا اگایا جاتا تھا۔ چونکہ یہ فصل زیادہ منافع بخش یا پائیدار نہیں تھی اس لیے انہوں نے اس کی جگہ کیلا اور پاپایا کے درخت اور متعدد اقسام کی سبزیاں اگا لیں۔ یہ وہ سبق ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک تربیتی کورس میں سیکھا تھا۔
نئے آبپاشی نظام کی بدولت انہیں امید ہے کہ وہ خشک سالی کے بعض بدترین اثرات سے بچ سکتی ہیں اور سال کے اوسط عرصہ میں پانی کو بہتر طور سے کام میں لا سکتی ہیں۔ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابو ویڈ میں بارشوں کے دوران بھی تقریباً 20 فیصد پانی بلندی سے نیچے بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے، 13 فیصد زمین میں جذب ہو جاتا ہے، جبکہ 67 فیصد بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے لیے کافی لانے والے ایک مقامی نوجوان کسان ڈیرسن ڈا کروز ڈوآرٹے کو اسی مسئلے کا سامنا ہے۔ سیکرٹری جنرل یہ جان کر حیران ہوئے کہ یہ کافی اسی جزیرے میں اگائی گئی ہے۔
اس کسان نے وادی کی ترائی میں شکرقندی سے بھری ایک کھاڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے سانتا آئزابیل تک کافی کے پودے اُگے ہیں۔ یہ جگہ وہاں دکھائی دینے والے سب سے اونچے پہاڑ پر واقع ہے جہاں سرسبز زمین نیلے آسمان سے ملتی دکھائی دیتی ہے۔
100 افراد پر مشتمل اس آبادی تک پیدل ہی جایا جا سکتا ہے جہاں تمام زراعت بارانی ہے۔ اسی لیے گزشتہ پانچ سال ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مشکل تھے۔
طویل عرصہ تک بارشیں نہ ہوئیں تو سب سے پہلے نوجوان اس جگہ کو چھوڑ گئے۔
کروز ڈوآرٹے نے کہا کہ ''میں نہیں جانتا کہ آیا اب 10 نوجوان ہی وہاں رہتے ہوں گے یا نہیں۔ نوکریاں نہ ہونے، بارشوں کی کمی اور خشک سالی کے باعث باقی لوگ دوسری جگہوں کی طرف نکل گئے ہیں۔ اگر آپ کے پاس مویشی بھی ہوں تو تب بھی مشکل ہے کیونکہ انہیں کھلانے کے لیے ضرورت کے مطابق چارہ میسر نہیں ہے۔ چونکہ وہاں کوئی اور روزگار نہیں ملتا اس لیے لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اس جگہ کو چھوڑ گئے۔''
غذائی عدم تحفظ میں اضافہ
سالہا سال تک متواتر خشک سالی کے بعد 2021 اور 2022 کے زرعی موسم میں کوئی پیداوار حاصل نہ ہوئی۔ اس وقت تک موسمیاتی تبدیلی، کووڈ۔19 وبا اور یوکرین کی جنگ کے سماجی معاشی اثرات نے مل کر چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس) کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر دی تھی اور کابو ویڈ کی حکومت ایک مشکل فیصلہ لینے پر مجبور ہو گئی۔ گزشتہ برس جون میں انتظامی حکام نے ملک میں سماجی و معاشی ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
بحر اوقیانوس کے مغربی افریقی ساحل کے قریب جزائر پر مشتمل یہ علاقہ ماضی قریب تک ذیلی صحارا افریقہ کا ایک ایسا ملک سمجھا جاتا تھا جس نے غرب میں کمی لانے کی کوششوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق 2015 سے 2019 کے درمیان کابو ویڈ میں غربت کی شرح میں چھ فیصد کمی ہوئی جو 41 سے کم ہو کر 35 فیصد پر آ گئی۔
تاہم اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق گزشتہ جون میں غذائی عدم تحفظ سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 46,000 سے زیادہ خواتین، مردوں اور بچوں کو جون اور اگست کے درمیانی عرصہ میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا جو کابو ویڈ کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔
اس سے ملک میں حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والے ترقیاتی فوائد کو خطرہ لاحق ہے۔ کابو ویڈ نے 2026 تک شدید غربت کے خاتمے کا عزم کر رکھا تھا اور ہفتے کو ملک کے وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک اس ہدف پر قائم ہے۔ تاہم انہوں ںے یہ بھی تسلیم کیا کہ گزشتہ چند برس کی صورتحال نے اس ہدف کا حصول بہت مشکل بنا دیا ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے ان کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ''میں جانتا ہوں کہ جزائر پر مشتمل کسی بھی دوسرے ترقی پذیر ملک کی طرح کابو ویڈ کو بھی وبا کے اثرات جیسے بڑے مسائل اور سب سے بڑھ کر رہن سہن کے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہے جس کے آبادی پر ہمیشہ تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔'' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے ممالک شراکت اور عملی اقدامات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ترجیح ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ''سطح سمندر میں اضافے اور حیاتیاتی تنوع اور ماحولی نظام کے نقصان سے جزائر پر مشتمل ممالک کی طرح کابو ویڈ کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہیں۔''
ایف اے او کی ماہر کاتیا نیویس نے یو این نیوز کو بتایا کہ گزشتہ برس کے بحران نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی کوششوں میں ہنگامی ضرورت کا نیا احساس پیدا کیا ہے۔ ''ہمارے لیے ان اہداف کا حصول ممکن ہے اور ہم زراعت کے طریقوں کو بہتر بنا کر یہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔''