کابو ویڈ موسمیاتی بحران کی فرنٹ لائن پر ہے، گوتیرش

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کابوویڈ میں کشتیوں کی ریس دیکھ رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کابوویڈ میں کشتیوں کی ریس دیکھ رہے ہیں۔

کابو ویڈ موسمیاتی بحران کی فرنٹ لائن پر ہے، گوتیرش

موسم اور ماحول

جس ملک کا 99.3 فیصد علاقہ آبی ہو وہ اپنا مستقبل کیسے مستحکم بنا سکتا ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہفتے کو بحراوقیانوس کے مغربی افریقی ساحل کے قریب 10 جزائر پر مشتمل کابو ویڈ پہنچے جو اختراعی انداز میں اس سوال کا جواب دے رہا ہے۔

2015 میں کابو ویڈ کی قومی حکومت نے سمندری معیشت کو جزائر پر مشتمل اس ملک کے مستقبل کا اہم حصہ بنانے اور اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع کرنے کا تزویراتی منصوبہ ترتیب دیا۔

تاہم اس شام سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سمندری ریس میں حصہ لینے والی قریباً ایک درجن کشتیوں کو منڈیلو کی بندر گاہ میں لنگر انداز اور ان کے 10 منزلہ بلند مستولوں کو ساؤ ویسنٹے کے جزیرے کے آسمان کو چھوتا دیکھا تو انہں اس اقدام کے واضح ترین نتائج کا خود اندازہ ہوا۔

سیکرٹری جنرل نے سمندری معیشت کو ''جزائر پر مشتمل خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کا بنیادی موقع'' قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ ''اس عزم کو حقیقت کا روپ دینے'' کے لیے اس کی حکومت اور لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

کابو ویڈ کے وزیراعظم ہوزے یولیسس کوریا ای سلوا نے کہا کہ ان کا ملک عالمی سطح پر ''بہتر انداز میں جانا اور مزید اہمیت پانا'' چاہتا ہے اور سمندر ایک ایسا شعبہ ہے جہاں وہ اپنی آواز سنی جانے کی خواہش مند ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ''اس مخصوص علاقے میں اپنی اہمیت بنانا قابل فہم ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ یہ پیغام یہاں سے جا رہا ہے۔''

گزشتہ پانچ برس میں اس کوشش کے طور پر ملک نے ہر سال ایک ''سمندری ہفتے'' کا انعقاد کیا ہے اور آئندہ سوموار کو کابو ویڈ ایک کانفرنس کے انعقاد کے لیے سمندری ریس میں شریک ہو رہا ہے۔ اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دنیا بھر سے مقررین شریک ہوں گے۔

سیکرٹری جنرل کابوویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ ایک مذاکرے میں شریک ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل کابوویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ ایک مذاکرے میں شریک ہیں۔

وجودی خطرہ

تاہم، کابو ویڈ کا یہ عزم شاید کافی نہ ہو۔ جیسا کہ انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ''یہ ملک موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔''

انہوں ںے واضح کیا کہ ''سطح سمندر میں اضافے اور حیاتیاتی تنوع اور ماحولی نظام کے نقصان سے جزائر پر مشتمل اس علاقے کے وجود کو خطرہ ہے۔ مجھے اس پر شدید پریشانی ہے کہ دنیا کے رہنما زندگی و موت کی اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات اور سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔''

اس کے بعض نتائج ریس کی میزبانی کرنے والی بندرگاہ پر پہلے ہی محسوس کیے جا سکتے ہیں جو افریقہ کے پورے مغربی ساحل پر سب سے بہتر بندرگاہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ صدیوں پہلے یہاں تاجر اور سمندری قزاق آیا کرتے تھے اور اب یہ کشتی رانی کے بڑے مقابلوں کی میزبانی کرتی ہے جس میں دنیا بھر سے بڑی ٹیمیں شریک ہوتی ہیں۔ 

گزشتہ چند برس میں کابو ویڈ کے مچھیروں نے سیاہ میکیریل مچھلی کی تعداد میں کمی کا مشاہدہ کیا جو مقامی لوگوں کی مرغوب ترین مچھلیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ 2022 میں پیکیجنگ کی صنعت نے چونا مچھلی کی پیداوار میں کمی اور سیاہ میکیریل کی غیرموجودگی کی اطلاع دی جو کہ اس صنعت کے لیے خام مال کی حیثیت رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام لیے گئے جائزے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، جو اس سال کے آغاز میں اہم قومی فریقین کو پیش کیے جانے چاہئیں اور جن پر بات چیت ہونی چاہیے، 2100 تک سمندری پانی کے پیلاجک زون (نہ تو سمندری تہہ میں اور نہ ہی ساحل کے قریب) یا جھیل کے پانی میں پائی جانے والی بڑی پیلاجک مچھلی کی مقدار میں 45 فیصد تک کمی آنے کی توقع ہے۔ اس میں چونا مچھلی کی الباکورا نامی قسم بھی شامل ہے۔ ہمسایہ سینیگالو۔موریطانوی طاس میں یہ کمی اور بھی زیادہ ہو گی۔

اس طرح کی تبدیلیوں کا جزیروں کی معیشت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ 2018 میں ماہی گیری کے شعبے نے 6,283 لوگوں کو روزگار مہیا کیا تھا اور اس سے 58,800 افراد کو خوراک میسر آئی۔ ملک کی تقریباً 80 فیصد برآمدات بھی مچھلی کی پیداوار پر مشتمل ہیں۔

بعد ازاں شام کو سیکرٹری جنرل نے کابو ویڈ کے نیشنل سنٹر فار آرٹ، کرافٹس اینڈ ڈیزائن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''موسمیاتی تبدیلی ناصرف ماہی گیری بلکہ ہر طرح کے حیاتاتی تنوع کے مستقبل کے لیے بھی واضح خطرہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ماہی گیری کی صنعت اور موسمیاتی تحفظ کے مابین واضح تعلق ہے۔ تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب آپ کسی مخصوص خطے کو تحفظ دیتے ہیں تو اس کا دوسرے شعبوں پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے اور اس سے سبھی کو فائدہ پہنچتا ہے۔''

سیکرٹری جنرل کابوویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ سمندری ریس دیکھنے پہنچے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل کابوویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ سمندری ریس دیکھنے پہنچے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت

انتونیو گوتیرش اور وزیراعظم کوریا ای سلوا نیشنل سنٹر کے ایک توسیعی حصے کے سامنے بیٹھے تھے جس کا سامنے والا حصہ تیل کے بیرل کے سرخ، نیلے اور پیلے رنگوں والے گول ڈھکنوں سے ڈھکا ہوا تھا۔

یہ تنصیب استحکام کے حوالے سے ملک کے عزم کو بیان کرتی ہے تاہم یہ اس جگہ کے دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ تارکین وطن یہ بیرل عموماً اپنے اہلخانہ کو تحائف کے طور پر بھی بھیجتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا ''موسمیاتی مسائل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور مزید تواتر سے رونما ہونے لگے ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہےاور ہم نے ہمیشہ ان پر قابو پانے کے طریقے وضع کیے ہیں۔''

کوریا ای سلوا کے مطابق انواع کا نقصان کابو ویڈ کو ایک اور طرح سے بھی متاثر کر سکتا ہے۔

جزائر پر مشتمل یہ علاقہ دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے اہم ترین سمجھے جانے والے 10 مقامات میں شامل ہے۔ ان پانیوں میں وہیل اور ڈولفن کی 24 اور ہر طرح کے سمندری ممالیہ کی 30 فیصد اقسام ملتی ہیں اور دہائیوں سے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آ رہی ہے جس سے سیاحت اس ملک کی معیشت کا ایک اہم جزو بن گیا ہے۔

کووڈ۔19 وبا سے دو سال بعد 2022 میں ہی قریباً سات لاکھ سیاح ان جزائر پر آئے اور ملک کے جی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ 25 فیصد کے قریب رہا۔

سیکرٹری جنرل کابو ویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل کابو ویڈ کے وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

کابو ویڈ کے لیے موسمیاتی انصاف

کابو ویڈ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت شروع کر دی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''اس ملک نے زبانی و عملی دونوں طرح سے موسمیاتی معاملے پر قائدانہ کردار ثابت کیا ہے اور قرض کو موسمیاتی منصوبوں بشمول سمندری معیشت میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔

اب کابو ویڈ میں توانائی کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوتا ہے جو کہ ذیلی صحارا افریقہ میں سب سےزیادہ ہے اور ملک میں 2030 تک قابل تجدید توانائی کے استعمال کو 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم  نے کہا کہ ان کے ملک کو ''معیشت، ماحول اور لوگوں کی ضروریات کو ہم آہنگ کرنا ہے کیونکہ اسے ملک کے لیے دولت پیدا کرنے کے لیے ان وسائل کی ضرورت ہے۔''

کوریا سلوا نے مثال دی کہ یہ سب کچھ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ساؤ ویسنٹے جزیرے میں ساؤ پیڈرو کمیونٹی میں کچھ لوگوں نے ماہی گیری کو چھوڑ کر سیاحوں کو کچھووں کے ساتھ محفوظ انداز میں تیراکی کرنے میں مدد دینا شروع کر دی ہے۔

انہوں ںے پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے اور معیشت کو فروغ دینے کے متعدد اقدامات کو واضح کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کیسے ان کے ملک نے ماہی گیری کے انتظام سے متعلق ایک ''ضروری'' قانون کی منظوری دی اور ماہی گیری کے لیے ممنوع سمندری علاقے کو چھ سے بڑھا کر 30 فیصد تک لے جانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں  نے کہا کہ ''ہم اس ضمن میں مزید کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں وسائل درکار ہیں۔''

سیکرٹری جنرل نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں کابو ویڈ جیسی جگہوں کے لیے انصاف کی ضرورت ہے جن کا موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ اس کی بھاری قیمت چکا رہی ہیں۔''

بات چیت ختم ہونے کے بعد چند بلاک پرے بندرگاہ پر سمندری ریس میں شریک کشتیوں کا عملہ وقفہ لے رہا تھا۔ چند ہی روز میں وہ ایک بڑے مقابلے کا دوسرا مرحلہ شروع کر رہے ہیں جس میں وہ کابو ویڈ سے استوا کے پار جنوبی امریکہ کی بندرگاہ تک اور جنوبی افریقہ کے جنوبی کنارے پر کیپ ٹاؤن جائیں گے۔

اس سے چند گھنٹے پہلے جب ان کشتی رانوں نے انتونیو گوتیرش سے ملاقات کی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ چند ہی سال پہلے ان کے بیٹے نے تین دوستوں کے ہمراہ کشتی پر بحر اوقیانوس کو عبور کیا تھا۔

اس داستان نے ان میں ایک کشتی کے کپتان کیون شوفیلڈ کو ان سے یہ پوچھنے پر مجبور کیا کہ ''کیا آپ بھی کبھی کچھ ایسا کریں گے؟''

سیکرٹری جنرل نے جواب دیا ''شاید ریٹائرمنٹ کے بعد میں بھی کسی روز ایسا کروں گا۔''