اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد کا طالبان سے خواتین پر جبر کے خاتمے کا مطالبہ

ہرات میں لڑکیاں سکول پہنچ رہی ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Mark Naftalin
ہرات میں لڑکیاں سکول پہنچ رہی ہیں (فائل فوٹو)۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد کا طالبان سے خواتین پر جبر کے خاتمے کا مطالبہ

خواتین

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل اور یو این ویمن کی سربراہ نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی بہتری کو مقدم رکھے اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پالیسیوں کو ختم کرے جن سے وہ گھروں تک محدود ہیں ہیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال ہوئے ہیں۔

جمعے کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد، یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس اور اقوام متحدہ میں سیاسی، قیام امن اور امن کارروائیوں کے امور سے متعلق معاون سیکرٹری جنرل خالد خیری نے افغانستان میں حقائق کی تلاش کے چار روزہ مشن میں طالبان رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ''افغان عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کو واضح کیا''۔

Tweet URL

سمت بدلنے کا مطالبہ

وفد نے کابل اور قندھار میں افغانستان کے موجودہ حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں خواتین کو قومی اور بین الاقوامی غیرسرکاری اداروں میں کام سے روکنے کے حالیہ حکم پر اپنے خدشات سے براہ راست آگاہ کیا۔ طالبان کے اس اقدام سے لاکھوں غیرمحفوظ افغانوں کی مدد کرنے والے بہت سے اداروں کے کام کو نقصان پہنچا ہے۔

کام کرنے والی خواتین پر تازہ ترین پابندی بنیاد پرست طالبان کی جانب سے تاحکم ثانی طالبات کے لیے یونیورسٹیاں بند کرنے اور لڑکیوں کو ثانوی سکول کی تعلیم سے روکنے کے احکامات کے بعد عائد کی گئی ہے۔

عوامی زندگی سے اخراج

خواتین اور لڑکیوں کو پارک، ورزش گاہیں اور عوامی حمام استعمال کرنے سے بھی روکا جا چکا ہے اور ان پر افرادی قوت کے بیشتر شعبوں میں پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے ساتھ حکام کی جانب سے شرعی قانون کی اپنی تشریح کے مطابق ان کی نقل و حرکت پر دیگر پابندیاں بھی نافذ کی گئی ہیں۔

انتہائی اہمیت کے حامل امدادی شعبے میں مقامی خواتین کے کام کرنے پر پابندی گزشتہ مہینے عائد کی گئی جس کے بعد بیشتر امدادی اداروں نے پنی کارروائیاں معطل کر دیں کیونکہ ان کے لیے خواتین عملے کی مدد کے بغیر بہت سے ضرورت مند خاندانوں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔

ایسے حالات میں طالبان حکمرانوں نے بعض خواتین کو ان پابندیوں سے استثنیٰ دیا جس کے نتیجے میں خواتین طبی کارکنوں کے لیے زندگی کے تحفظ میں مدد دینے کا کام جاری رکھنا ممکن ہوا۔

پابندیوں سے تمام افغان متاثر ہوئے: امینہ محمد

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''میرا پیغام نہایت واضح تھا کہ اگرچہ ہم خواتین کارکنوں کو دیے جانے والے استثنیٰ کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں تاہم ان پابندیوں کے باعث افغان خواتین اور لڑکیاں مستقبل میں اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ جائیں گی جس سے ان کے حقوق متاثر ہوں گے اور لوگ ان کی خدمات سے محروم رہیں گے۔''

انہوں نے مزید کہا کہ ''اجتماعی طور پر ہم افغانستان کو ایک ایسا خوشحال ملک دیکھنا چاہتے ہیں جو ناصرف خود پرامن ہو بلکہ اس کے اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی پرامن تعلقات ہوں اور وہ پائیدار ترقی کی راہ پر چلے۔ لیکن اس وقت افغانستان ایک ہولناک انسانی بحران میں خود کو دنیا سے الگ تھلگ کر رہا ہے جبکہ وہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں بھی شامل ہے۔ ہمیں اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔''

امینہ محمد اور سیما باہوس نے اپنے مشن کے دوران کابل اور طالبان کے مرکز قندھار اور ہرات میں متاثرہ لوگوں، امدادی کارکنوں، سول سوسائٹی اور دیگر سماجی کرداروں سے ملاقاتیں کیں۔

سال 2016 کی اس تصویر میں ہرات میں لڑکیاں والی بال کھیل رہی ہیں۔
UNAMA
سال 2016 کی اس تصویر میں ہرات میں لڑکیاں والی بال کھیل رہی ہیں۔

'غیرمعمولی مضبوطی: باہوس'

یو این ویمن کی اعلیٰ ترین عہدیدار سیما باہوس نے کہا کہ ''ہم نے افغان لوگوں میں غیرمعمولی مضبوطی دیکھی ہے۔ ہمیں افغان خواتین کی جرات اور ان کے عوامی زندگی سے خارج ہونے سے انکار پر کوئی شعبہ نہیں۔ وہ اپنے حقوق کی حمایت اور ان کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی اور ایسا کرنے میں ان کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے۔''

انہوں نے کہا کہ ''افغانستان میں خواتین کے حقوق کا سنگین بحران ہے اور یہ بین الاقوامی برادری کے لیے مستعد ہونے کی پکار ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے بارے میں کئی دہائیوں کی پیش رفت کیسے چند دنوں میں واپس پلٹ سکتی ہے۔ یو این ویمن تمام افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہے اور اپنے حقوق واپس لینے کے لیے ان کے مطالبات کو دہراتا رہے گا۔''

اقوام متحدہ کا عزم

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار بشمول قومی اور بین الاقوامی غیرسرکاری ادارے 25 ملین سے زیادہ افغانوں کی مدد کر رہے ہیں جن کی بقا کا انحصار امداد پر ہے۔ اقوام متحدہ افغانستان میں قیام کرنے اور لوگوں کی مدد کے لیے بدستور پرعزم ہے۔

جمعے کو جاری کردہ اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اگرچہ موجودہ حکومت کی جانب سے کام کرنے والی خواتین کو پابندیوں میں دیے جانے والے حالیہ استثنیٰ سے امدادی اداروں کو اپنا کام جاری رکھنے اور بعض کو دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش میسر آئی ہے تاہم یہ استثنیٰ چند شعبوں اور سرگرمیوں تک ہی محدود ہے۔

'موثر مدد' کی ضرورت

امینہ محمد نے کہا کہ ''انسانی امداد کی موثر طور سے فراہمی ان اصولوں کے ذریعے ہی ممکن ہے جو خواتین سمیت تمام امدادی کارکنوں کو ضرورت مندوں تک مکمل، محفوظ اور بلاروک و ٹوک رسائی دینے کا تقاضا کرتے ہیں۔''

اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے یہ دورہ افغانستان کے بارے میں خلیج اور ایشیا میں اعلیٰ سطحی مشاورتی سلسلوں کے بعد کیا۔

اقوام متحدہ کے وفد نے اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) اسلامی ترقیاتی بینک، ترک اور پاکستانی دارالحکومتوں انقرہ اور اسلام آباد میں افغان خواتین کےگروہوں کی قیادت اور سفیروں کے گروہ اور دوحہ میں افغانستان کے لیے خصوصی ایلچیوں کے گروہ سے ملاقاتیں کیں۔ 

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وفد نے خطے کی حکومتوں کے رہنماؤں اور نمایاں مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کیں تاکہ خواتین کے اہم کردار اور ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی مکمل شرکت کی حمایت میں بات کی جائے اور افغان عوام کے لیے مدد جمع کی جائے۔''

طالبان کی پابندیوں کے نتیجے میں خواتین حق رائے دہی سے بھی محرام ہوجائیں گی۔
UNAMA/Abbas Naderi
طالبان کی پابندیوں کے نتیجے میں خواتین حق رائے دہی سے بھی محرام ہوجائیں گی۔

مدد کا ہنگامی مطالبہ

ان تمام دوروں میں مسائل کے ''پائیدار حل تلاش کرنے'' کے لیے اقوام متحدہ کے اہم معاونتی کردار کو واضح کیا گیا اور ''افغانوں کو تحفظ زندگی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مدد پہنچانے اور افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) کی قیادت میں فعال ربط برقرار رکھنے کی ہنگامی ضرورت پر بات کی گئی۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو درپیش بحران کی ہنگامی نوعیت سامنے لانے کی کوششوں میں میں اضافہ کیا جائے اور ''بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس حوالے سے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔''

اقوام متحدہ کے مطابقاس سال مارچ میں مسلم دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور اس پر اصولی اتفاق کر لیا گیا۔