یوکرین: امدادی سامان سولیڈار پہنچا جبکہ آئی اے ای اے نے بہتر کیا جوہری تنصیبات کا تحفظ

امدادی سامان لے جانے والے تین ٹرکوں کو ڈونباس کے علاقے سولیڈار میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔
© UNOCHA
امدادی سامان لے جانے والے تین ٹرکوں کو ڈونباس کے علاقے سولیڈار میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

یوکرین: امدادی سامان سولیڈار پہنچا جبکہ آئی اے ای اے نے بہتر کیا جوہری تنصیبات کا تحفظ

امن اور سلامتی

قریباً ایک سال پہلے یوکرین میں روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ کا پہلا امدادی قافلہ جمعے کی صبح جنگ سے تباہ حال مشرقی شہر سولیڈار کے نواح میں پہنچ گیا جو 800 سے زیادہ ضرورت مند شہریوں کو مدد مہیا کرے گا۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر 'او سی ایچ اے' کے ترجمان جینز لائرک نے کہا ہے کہ امدادی سامان لے جانے والے تین ٹرکوں کو ڈونباس کے علاقے میں اس انتہائی متنازع شہر میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس شہر میں شدید جنگ ہوتی رہی ہے کیونکہ روس کی فوجیں یہاں سے تزویراتی اعتبار سے اہمیت رکھنے والے شہر باخموت کی جانب بڑھنا چاہتی ہیں۔

جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امدادی قافلہ اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے مہیا کردہ خوراک، پانی، حفظان صحت کا سامان، ادویات اور دیگر طبی سازوسامان لایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ''یہ امداد ان 800 لوگوں کو دی جانا ہے جو بدستور اس علاقے میں موجود ہیں جس نے بڑے پیمانے پر لڑائی اور تباہی دیکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں موجود لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے اور اسی لیے ہمیں خوشی ہے کہ یہ قافلہ اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے۔''

ہم اس المناک جنگ کے دوران جوہری تباہی کے خطرے کو محدود رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

سربراہ آئی اے ای اے

او سی ایچ اے کے ترجمان نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مزید امدادی قافلے پہنچنے کی توقع ہے۔اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار یوکرین میں محاذ جنگ سے قریب علاقوں میں بین الاداری امدادی کارروائیاں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔

آئی اے ای اے کی کوششوں میں وسعت اور تیزی

اقوام متحدہ کی سرپرستی میں کام کرنے والے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافائل گروسی نے جمعرات کو کیئو میں صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کو ادارے کی سرگرمیوں میں وسعت اور تیزی لانے کے بارے میں بتایا جن کا مقصد یوکرین کو جوہری تحفظ مہیا کرنا اور اس کی جوہری تنصیبات کی سلامتی یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔ یہ یوکرین کی جنگ میں ایک اور اہم اور عالمگیر تشویش کا حامل معاملہ ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے یوکرین کے رہنما کو بتایا کہ اس ہفتے ملک بھر میں آئی اے ای اے کے ماہرین کے متعدد مستقل مشن تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے روس کے زیرقبضہ زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ (زینڈ این پی پی) کے ارد گرد جوہری تحفظ اور سلامتی کا زون قائم کرنے پر بھی بات کی۔ یہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری مرکز ہے جو حالیہ مہینوں میں تواتر سے بمباری کی زد میں آیا ہے جس سے جوہری تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

رافائل گروسی نے زور دیا کہ کسی سنگین جوہری حادثے کی روک تھام کے لیے اس زون کا قیام ضروری ہے اور وہ اسے ممکن بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ''سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ محاذ جنگ پر فعال لڑائی والے علاقے میں واقع اس پلانٹ کو تحفظ کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے نہایت پیچیدہ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ میں اس انتہائی ضروری زون کو حقیقت کا روپ دینے تک اپنی کوششیں کرتا رہوں گا۔ میں آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اس حوالے سے یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ اپنی بھرپور مشاورت جاری رکھوں گا۔''

روس کے زیرقبضہ علاقے میں واقع زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ۔
Ⓒ IAEA

زیپوریزیا میں 'روزانہ خطرات'

انہوں نے مزید کہا کہ ''اس بڑے جوہری پاور پلانٹ کو روزانہ خطرات کا سامنا ہے۔ وہاں موجود ہماری ٹیم اس پلانٹ کے قریب متواتر دھماکوں کی آوازیں سنتی ہے جن میں دو دھماکے جمعرات کو سنے گئے تھے۔''

اس ہفتے آئی اے ای اے کی جانب سے دوران جنگ کسی سنگین جوہری حادثے کی روک تھام کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے ملک بھر میں کی جانے والی کارروائیوں میں بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ یوکرین کی درخواست پر اب ان اہم جوہری تنصیبات پر آئی اے ای اے کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل گروسی نے کہا کہ ''یہ پہلا موقع ہے جب ہمارے اعلیٰ سطحی ماہرین یوکرین کے تمام جوہری مراکز بشمول چرنوبل کے مقام پر مستقل موجود ہوں گے۔ ان کے اہم کام کی بدولت ملک کو درپیش نہایت حقیقی جوہری خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔''

آئندہ چند روز میں آئی اے ای اے کے ماہرین کی ایک ٹیم دارالحکومت کیئو کے کیملنسکی پلانٹ پر بھی تعینات کی جائے گی۔

آئی اے ای اے کی مستقل موجودگی

آئی اے ای کی ٹیمیں یوکرین میں جوہری توانائی کے تمام مراکز اور سابقہ چرنوبل ایٹمی پلانٹ کی جگہ پر مستقل موجود ہوں گی اور اس کے جوہری تحفظ اور سلامتی کے کم از کم 11 ماہرین بھی ملک میں تعینات رہیں گے جو کہ ادارے کی جانب سے اٹھایا گیا ایک بے مثال اقدام ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ ''ہم اس المناک جنگ کے دوران جوہری تباہی کے خطرے کو محدود رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس ہفتے ہم نے اس بارے میں اپنی کوششوں کے حوالے سے اہم قدم اٹھایا۔ تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ جب تک ضروری ہوئی آئی اے ای اے یوکرین میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔''