انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اقوام متحدہ کے ماہرین زیمبیا میں آلودگی کے متاثرین کی نمائندگی کرینگے

خواتین اور بچے حال ہی میں صاف کیے گئے ایک کنویں سے پانی لا رہے ہیں۔
© UNICEF/Karin Schermbrucke
خواتین اور بچے حال ہی میں صاف کیے گئے ایک کنویں سے پانی لا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین زیمبیا میں آلودگی کے متاثرین کی نمائندگی کرینگے

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ جنوبی افریقہ کی عدالت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ کو زیمبیا میں کام کرنے والی کان کنی کی کمپنی کے خلاف مقدمے میں متاثرین کی نمائندگی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

زیمبیا کے وسطی ضلع کابوے میں کان کنی کرنے والی ایک بڑی کمپنی اینگلو امریکن کے خلاف مقامی خواتین اور بچوں نے مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اس کمپنی کی سرگرمیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر سیسے کے اثرات کا شکار ہوئے ہیں۔

Tweet URL

زہریلے مادوں سے پھیلنے والی آلودگی اور انسانی حقوق، کاروبار اور انسانی حقوق اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک جیسے معاملات پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس کیس میں متاثرین کی جانب سے پیش ہونے کی درخواست کی تھی۔

تحفظ کی ذمہ داری

جوہانسبرگ کی ساؤتھ گاؤٹنگ ہائی کورٹ اس ہفتے یہ دلائل سنے گی کہ آیا متاثرین کی جانب سے خود کو پہنچنے والے نقصانات کے دعوے قابل قبول ہیں یا نہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اینگلو امریکن ساؤتھ افریقہ نے کابوے میں سیسے کی کانوں سے متعلق اپنی سرگرمیوں میں مقامی رہائشیوں کی صحت کا خیال رکھنے اور خاص طور پر انہیں سیسے کے اثرات سے تحفظ دینے کی ذمہ داری لی تھی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ''سیسہ ایک کلی زہر ہے جس سے انسانی جسم کے کئی نظام متاثر ہوتے ہیں اور یہ چھوٹے بچوں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہے۔''

صحت پر ''شدید'' اثرات

مزید برآں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے سیسے کو ایسے 10 کیمیائی مادوں میں شمار کیا ہے جو صحت عامہ کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور ممالک کو کارکنوں، بچوں اور تولیدی عمر کی خواتین کو اس سے تحفظ دینے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ''ڈبلیو ایچ او کے مطابق سیسے کی ہر مقدار انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔'

سیسہ چھوٹے بچوں کی صحت پر گہرے اور مستقل منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے اور وہ دماغ اور عصبی نظام کی نشوونما متاثر ہونے سمیت کئی طرح کی معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سیسے کے اثرات سے حاملہ خواتین کا حمل ضائع ہو سکتا ہے اور ان کے ہاں مردہ، قبل از وقت یا کمزور بچے پیدا ہو سکتے ہیں۔''

کمپنی کی وعدہ خلافی

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون بشمول کاروبار اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی بنیاد پر دلائل سنے گی۔

یہ رہنما اصول کاروباروں کو اپنی کاروباری سرگرمی کے انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹتے ہوئے حقوق کے احترام کا پابند کرتے ہیں۔

ان میں ضابطوں کی خلاف ورزی کی صورت میں متاثرین کے لیے اپنے نقصان کے ازالے تک رسائی کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ اینگلو امریکن نے عدالت کی جانب یہ مقدمہ سننے کے فیصلے کی مخالفت کر کے کاروبار میں انسانی حقوق قائم رکھنے کے حوالے سے اپنے وعدوں سے برعکس قدم اٹھایا۔

انہوں ںے کہا کہ ''اینگلو امریکن ساؤتھ افریقہ نے رضاکارانہ طور پر عہد کیا تھا کہ وہ ان رہنما اصولوں کی پیروی کرے گی جن میں یہ بھی شامل تھا کہ اگر اس کی سرگرمیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق متاثر ہوئے تو وہ متاثرین کی انصاف تک رسائی کی حمایت کرے گی اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے عمل میں بھی تعاون کرے گی۔''

ان 13 ماہرین کی تعیناتی جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے عمل میں آئی ہے اور یہ انفرادی حیثیت میں کام کریں گے۔

یہ ماہرین اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہیں اور اپنے کام کی کوئی اجرت وصول نہیں کرتے۔