شمالی آئرلینڈ: برطانوی استثنائی قانون سازی متاثرین کی حقوق میں رکاوٹ ہوسکتی ہے، ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے شمالی آئرلینڈ میں ''شورش'' کے دوران جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو قانونی کارروائی سے محدود استثنٰی کی پیشکش کے لیے برطانیہ کے منصوبوں پر اعتراض اٹھایا ہے۔
'او ایچ سی ایچ آر' کےسربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ 1960 سے 1990 کی دہائی کے عرصہ میں شمالی آئرلینڈ میں فرقہ وارانہ تعلقات کی متشدد میراث سے نمٹنا ''بہت پیچیدہ اور حساس'' معاملہ ہے۔
'مشروط استثنٰی'
تاہم انہوں ںے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنسی جرائم کے علاوہ بین الاقوامی قانون کے تحت جرم کی ذیل میں آنے والے دیگر افعال کے ذمہ داروں کو تفتیش اور قانونی کارروائی سے مشروط استثنٰی دینے کے منصوبوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔
وولکر تُرک نے واضح کیا کہ شمالی آئرلینڈ کی شورش کے بارے میں (میراث اور مفاہمت سے متعلق) مسودہ قانون میں ایسی ترمیم انسانی حقوق کے حوالے سے برطانیہ کی عالمی ذمہ داریوں سے متصادم ہو گی جن کے تحت جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
اس بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ آیا اس بل کے ذریعے مفاہمت اور اطلاعات کی بازیافت کے لیے قائم کیا جانے والا غیرجانبدار کمیشن آزادانہ طور سے کام کرنے اور انسانی حقوق سے متعلق شکایات کے جائزے اور ان کی تحقیقات کے قابل ہو گا یا نہیں۔
انصاف ضروری
'او ایچ سی ایچ آر' کے ہائی کمشنر نے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے حقوق کے احترام سے متعلق ایک اپیل میں زور دیا کہ انصاف اور ازالے کے لیے ان کی جستجو ''مفاہمت کے لیے ضروری اہمیت رکھتی ہے۔''
انہوں نے کہا کہ اس مسودہ قانون نے یہ حقوق یقینی بنانے کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کا متن پارلیمنٹ کے ایوان بالا (ہاؤس آف لارڈز) میں جائزے کے لیے پیش کیے جانے سے صرف ایک ہفتہ پہلے عام کیا گیا ہے۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ ''اس طرح عام لوگوں اور متعلقہ فریقین بشمول متاثرین کو ان ترامیم کی جانچ اور اس انتہائی اہم قانونی عمل میں بامعنی طور پر شرکت کرنے کے لیے ناکافی وقت ملا ہے۔''
متاثرین کے حقوق میں رکاوٹ کا خدشہ
انہوں نے مزید کہا کہ ''ایسے خدشات موجود ہیں کہ یہ مجوزہ قانون موثر عدالتی دادرسی اور ازالے کے لیے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے حقوق میں رکاوٹ ڈالے گا اور شورش سے متعلقہ جرائم کے لیے بیشتر فوجداری اور دیوانی مقدمات پر کارروائی کو روک دے گا۔
ہاؤس آف لارڈز کی کمیٹی 24 تا 31 جنوری اس مسودہ قانون کا مزید جائزہ لے گی۔
'او ایچ سی ایچ آر' کے سربراہ نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ ''اپنے نقطہء نظر پر نظرثانی کرے اور اس معاملے پر مزید بامعنی اور شمولیتی مشاورتیں کرے کہ جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرین کو انصاف دینے کے لیے انسانی حقوق پر مبنی طریقے سے بہترین طور پر کیونکر کام لیا جا سکتا ہے۔