یوکرین جنگ: بامعنی امن مذاکرات کا ابھی کوئی امکان نہیں، گوتیرش

سیکرٹری جنرل نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ وہ یوکرین اور دنیا بھر کے لوگوں کے مصائب میں کمی لانے کے لیے بدستور پرعزم ہیں۔
© World Economic Forum
سیکرٹری جنرل نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ وہ یوکرین اور دنیا بھر کے لوگوں کے مصائب میں کمی لانے کے لیے بدستور پرعزم ہیں۔

یوکرین جنگ: بامعنی امن مذاکرات کا ابھی کوئی امکان نہیں، گوتیرش

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ یوکرین پر روس کے کھلے حملے کو ایک سال ہونے کے بعد بھی انہیں جنگی فریقین کے مابین امن کے لیے سنجیدہ بات چیت کے اہتمام کا موقع دکھائی نہیں دیتا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''اس جنگ کا بھی خاتمہ ہو گا کیونکہ ہر چیز کا ایک اختتام ہوتا ہے لیکن مجھے مستقبل قریب میں یہ جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے دونوں فریقین کے مابین امن کے لیے سنجیدہ بات چیت کا فی الوقت کوئی موقع نظر نہیں آتا۔''

Tweet URL

ہیلی کاپٹر کے المناک حادثے پر ردعمل

اس سے متعلقہ صورتحال پر یوکرین میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی امدادی عہدیدار ڈینیس براؤن نے بدھ کی صبح کیئو کے مضافات میں چھوٹے بچوں کے ایک سکول کے قریب ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس حادثے میں ملک کے وزیر داخلہ سمیت کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈینیس براؤن نے کہا ہے کہ ''مجھے یوکرین کے وزیر برائے داخلہ امور ڈینیس موناسٹیرسکی، نائب وزیر اول یوہین یانن اور ریاستی سیکرٹری یوری لوبکوووچ کی المناک اموات پر شدید افسوس ہے۔ یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کی علاقائی رابطہ کار نے تصدیق کی کہ بروویری کے مقام پر ہونے والے اس حادثے میں بچوں سمیت غیرمسلح سرکاری حکام اور مقامی رہائشی بھی ہلاک ہوئے۔

دو الگ دنیائیں

سیکرٹری جنرل نے ایک مرتبہ پھر 24 فروری کو روس کے حملے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایسے حالات میں اس جنگ کے خاتمے میں درپیش مشکل کو واضح کیا جب دونوں فریق ''روسی سلطنت اور قومیتوں کے بارے میں دو مختلف نظریات'' پر قائم ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ ''اس بات نے مسئلے کا حل ڈھونڈنا اور بھی مشکل بنا دیا ہے لیکن یہ حل بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور اس میں علاقائی سالمیت کا احترام مدنظر رکھا جانا چاہیے جبکہ مجھے مستقبل قریب میں ایسا ہونے کے لیے سازگار حالات دکھائی نہیں دیتے۔''

یوکرین اور روس کی افواج اس طویل جنگ میں ایک دوسرے کو تھکانے کی کوشش کر رہی ہیں اور انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باوجود اقوام متحدہ نے ایسے ممالک کو شدت سے درکار اناج اور کھادیں پہنچانے کے لیے کیئو اور ماسکو کی حمایت حاصل کی جو یا تو غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں یا اس سے بچنے کے لیےکوشاں ہیں۔

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام کے تحب اب تک 17.8 ملین ٹن غذائی اجناس افغانستان، چین، اسرائیل، کینیا اور تیونس سمیت بہت سے ممالک کو بھیجی جا چکی ہیں جن میں مکئی، گندم اور سورج مکھی کے تیل کی بہت بڑی مقدار شامل ہے۔

یوکرین کے شہر بوچا کے ایک شخص اپنے دوست کی قبر پر حاضری دے رہا ہے جو جنگ کی نظر ہو گیا۔
© UNICEF/Diego Ibarra Sánchez
یوکرین کے شہر بوچا کے ایک شخص اپنے دوست کی قبر پر حاضری دے رہا ہے جو جنگ کی نظر ہو گیا۔

امن کے لیے اقوام متحدہ کا عزم

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ امن کے لیے متعدد دیگر اہم معاملات پر یوکرین اور روس کے نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ان میں دونوں فریقین کے ساتھ جنگی قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت اور حملے کا نشانہ بننے والے زیپوریزیا جوہری پاور پلانٹ اور ملک میں دیگر جوہری تنصیبات کو محٖوظ بنانے کی کوششوں کے لیے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی کوششوں میں مدد دینا شامل ہے۔ انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ''ہم نقصان اور لوگوں کی تکالیف کو کم سےکم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون اور علاقائی سالمیت کے جڑواں اصولوں سے رہنمائی لے رہے ہیں۔''

گوتیرش نے کہا کہ اس وقت دنیا کو کئی نسلوں کے بعد شدید ترین ارضی سیاسی تقسیم اور بداعتمادی کا سامنا ہے اور ان حالات میں ڈیووس اور ہر جگہ عالمی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ فاصلے مٹائیں اور امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کو فروغ دینےکے لیے باہمی تعاون کو بحال کریں۔

نیپال میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پگھلتے گلیشیئروں، کم ہوتی حیاتیاتی بوقلمونی، اور آبی ذخائر پر بے یقینی کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔
UN Nepal
نیپال میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پگھلتے گلیشیئروں، کم ہوتی حیاتیاتی بوقلمونی، اور آبی ذخائر پر بے یقینی کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

موسمیاتی بحران کی یاد دہانی

سیکرٹری جنرل نے ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے اپنے خطاب میں امریکہ۔چین تصادم کے امکان سے لے کر دنیا کے جنوبی اور شمالی حصوں کے مابین بڑھتی ہوئی بداعتمادی تک بہت سے موضوعات پر خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی رہنماؤں سے کہا کہ وہ موسمیاتی بحران کو نظرانداز مت کریں۔

صنعتی ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے موسمیاتی مالی امداد کے طور پر حسب وعدہ 100 ارب ڈالر جاری کرنے کے لیے کہتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ''ہر ہفتہ موسمیاتی حوالے سے ایک نئی خوفناک داستان ساتھ لاتا ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ریکارڈ سطح پر ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری کی حد میں رکھنے کا وعدہ دھوئیں کی نذر ہونے کو ہے۔ مزید اقدامات نہ کیے گئے تو یہ اضافہ 2.8 ڈگری تک پہنچ جائے گا۔''

انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے جب تک سخت سیاسی فیصلے نہیں کیے جاتے اس وقت تک ''بہت سے لوگوں کے لیے اس کا مطلب موت کی سزا ہو گا۔''

انہوں نے نجی صنعتوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈیووس میں شریک کاروباری رہنماؤں سے کہا کہ وہ ''مشکوک یا مبہم'' معیارات کے بجائے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نیٹ زیرو سطح پر لانے کے لیے اقوام متحدہ کی رہنمائی پر عمل کریں۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''اس معاملے میں نجی شعبے کی جانب سے بڑے پیمانے پر شمولیت کے حالات پیدا کیے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے درکار مالی وسائل کا حجم بلین سے ٹریلن تک بڑھانا ممکن نہیں ہو گا۔''

مصر کے شہر شرم الشیخ میں نومبر 2022 میں موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 میں ’انرجی اور سول سوسائٹی‘ کے دن مظاہرین نے افریقہ میں گیس اور تیل کی تلاش کے خلاف احتجاج کیا۔
UN News/Laura Quiñones
مصر کے شہر شرم الشیخ میں نومبر 2022 میں موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 میں ’انرجی اور سول سوسائٹی‘ کے دن مظاہرین نے افریقہ میں گیس اور تیل کی تلاش کے خلاف احتجاج کیا۔

تیل کی بڑی کمپنیوں کا معاملہ

اقوام متحدہ کے سربراہ معدنی ایندھن کے بڑے پیداکاروں سے بھی مخاطب ہوئے اور حال ہی میں سامنے آنے والی ایسی اطلاعات پر بات کی کہ ان میں بعض ادارے اور لوگ ''1970 میں اچھی طرح آگاہ تھے کہ ان کی بنیادی مصںوعات زمین کو جلا رہی ہیں۔''

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ''تیل پیدا کرنے والی بعض بڑی کمپنیوں نے بہت بڑا جھوٹ پھیلایا اور اب ہم جانتے ہیں کہ ماحولی نظام کی خرابی ایک ناگوار اور کڑی سائنسی حقیقت ہے۔''

انتونیو گوتیرش نے باہم مربوط بہت سے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور عالمی تعاون اور اعتماد کے قیام کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ امریکہ اور چین کے مابین اختلافات کے نتیجے میں دو سب سے بڑی معیشتوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق یہ تقسیم عالمگیر معیشت کو 1.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچائے گی اور ''دو مختلف طرز کے تجارتی قوانین، دو مختلف غالب کرنسیوں، دو انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں دو طرح کی باہم نزاعی حکمت عملی'' کا باعث بنے گی۔

اگرچہ اس بات کی توقع تھی کہ انسانی حقوق اور سلامتی کے امور پر امریکہ اور چین کے تعلقات میں اختلاف ہو گا تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک موسمیات، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بامعنی طور پر کام کریں تاکہ معیشتوں کی علیحدگی یا مستقبل میں کسی نزاع سے بچاؤ ممکن ہو۔''

شمالی جنوبی تقسیم

اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ماضی قریب میں ویکسین کی تقسیم اور وبا سے بحالی کے معاملے میں بڑے پیمانے پر عدم مساوات کے حوالے سے مایوسی اور غصے کے سبب شمال اور جنوب میں تقسیم ''گہری ہو رہی ہے''۔ ان دونوں معاملات میں مدد بڑی حد تک ایسے دولت مند ممالک پر مرتکز رہی جو نوٹ چھاپ سکتے ہیں۔''

انتونیو گوتیرش نے واضح کیا کہ ویکسین کے حصول اور وبا سے بحالی کے لیے دنیا کے شمالی حصے میں کئی ٹریلین ڈالر چھاپے گئے جبکہ ترقی پذیر ممالک ''نوٹ نہ چھاپ سکے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کی کرنسی کی قدر بری طرح متاثر ہوتی۔''

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کا  جنوبی حصہ عالمی حدت میں اضافے کا بہت کم ذمہ دار ہونے کے باوجود موسمیاتی بحران اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ضرورت کے مطابق مالی وسائل نہ ہونے کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

کثیر فریقی ترقیاتی بینکوں سے ''اپنے کاروباری نمونے کو تبدیل کرنے'' کے مطالبے کو دہراتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو ''مناسب شرح سود پر بڑی مقدار میں نجی مالی وسائل'' تک رسائی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''بین الاقوامی مالیاتی ادارے بہت چھوٹے ہیں اور مستقبل قریب میں سمندر پار ترقیاتی امداد میں اضافے کی صلاحیت دکھائی نہیں دیتی۔''