انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوگنڈا نے ایبولا کے خاتمے کا اعلان کر دیا

کانگو اور یوگنڈا کی سرحد پر لوگوں کا ایبولا وائرس کے لیے معائنہ کیا جا رہے۔
WHO/Matt Taylor
کانگو اور یوگنڈا کی سرحد پر لوگوں کا ایبولا وائرس کے لیے معائنہ کیا جا رہے۔

یوگنڈا نے ایبولا کے خاتمے کا اعلان کر دیا

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ یوگنڈا میں ایبولا وائرس کی مہلک وباء کا پھیلاؤ رک گیا ہے اور ملک میں اس بیماری کے خاتمے کا سرکاری سطح پر اعلان کر دیا گیا ہے۔

یوگنڈا کے بڑے شہروں کمپالا اور جنجا میں ایبولا وائرس کے چند مریض سامنے آنے کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ یہ بیماری 2023 میں بھی جاری رہ سکتی ہے۔ 2019 میں یوگنڈا میں ایبولا وائرس کی زائرے نامی قِسم کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

Tweet URL

اقوام متحدہ میں صحت کے ادارے کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے وسطی ضلع موبیںڈے میں سوڈانی ایبولا وائرس کا پہلا مریض سامنے آنے کے بعد چار ماہ سے بھی کم عرصہ میں وباء کے خلاف موثر اقدامات پر یوگنڈا کے حکام کو مبارک باد پیش کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''یوگنڈا نے ثابت کیا کہ جب بیماری کے بارے میں انتباہی نظام، متاثرہ لوگوں اور ان سے رابطے میں رہنے والوں کی تلاش و علاج اور اس وبا کے خلاف اقدامات میں متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی بھرپور شرکت ممکن بناتے ہوئے پورا نظام یکجا ہو کر کام کرے تو ایبولا کو شکست دی جا سکتی ہے۔

مشکل ترین وباء

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وبا کی آخری لہر میں 55 افراد کی موت ہوئی جبکہ 87 متاثرین صحت یاب ہو گئے۔ افریقہ کے لیے ادارے کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ماٹشیڈیسو موئٹی کا کہنا ہے کہ سوڈانی ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے تاحال کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔

ڈاکٹر موئٹی نے کہا کہ ''یہ گزشتہ پانچ برس میں ایبولا کی ایک مشکل ترین وبا تھی۔ تاہم یوگنڈا نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف درست اقدامات جاری رکھے۔

دو ماہ پہلے ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ایبولا 2023 میں بھی ملک پر اپنا تاریک سایہ مسلط رکھے گا تاہم سال کے آغاز میں یہ فتح افریقہ کے لیے بہت بڑی امید کی حیثیت رکھتی ہے۔''

''جادوئی گولی'': مقامی لوگوں کی شمولیت

یہ وائرس جنگلی جانوروں سے انسانوں کو لاحق ہوتا ہے اور متاثرہ افراد کے خون یا دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے صحت مند افراد میں پھیل سکتا ہے۔ ایبولا کو اس سے پہلے ایبولا ہیموریجک بخار بھی کہا جاتا تھا اور اس کی علامات میں بخار، قے اور جسم کے اندر اور باہر خون جاری ہونا شامل ہیں۔

یہ ایک دہائی کے عرصہ میں پہلا موقع تھا جب یوگنڈا میں اس وائرس کی سوڈانی قِسم کا مشاہدہ کیا گیا اور اس وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے ڈبلیو ایچ او نے ملک کی طبی ٹیموں کے ساتھ کام کیا تاکہ خطرے کی زد میں آنے والے لوگوں کو اس سے آگاہی دی جائے اور موبینڈے اور کاسانڈا میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے۔

یوگنڈا کی وزیر صحت ڈاکٹر جین روتھ ایکینگ اکیرو نے کہا ہے کہ ''ہم نے نو متاثرہ اضلاع میں اس بیماری کے خلاف موثر اقدامات کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کیا جبکہ مقامی لوگ ہمارے لیے جادوئی گولی ثابت ہوئے جنہوں نے اس وبا کے خاتمے کے لیے درکار اقدامات کی اہمیت کو سمجھا اور عملی قدم اٹھایا۔''

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والے 4,000 سے زیادہ لوگوں کو ڈھونڈںے میں بھی مدد دی۔ جب ان لوگوں کی نشاندہی ہو گئی تو انہیں 21 یوم تک نگرانی میں رکھا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق آخری مریض کا علاج 30 نومبر کو مکمل ہوا جس کے بعد وبا کے خاتمے کا اعلان کرنے سے پہلے مزید کسی مریض کے سامنے آنے کا 42 روز تک انتظار کیا گیا۔ یوگنڈا میں اس بیماری سے ہلاکتوں کی شرح 47 فیصد رہی۔

آخری مریض کا علاج 30 نومبر کو مکمل ہوا جس کے بعد وباء کے خاتمے کا اعلان کرنے سے پہلے مزید کسی مریض کے سامنے آنے کا 42 روز تک انتظار کیا گیا۔
© WHO/Vincent D.
آخری مریض کا علاج 30 نومبر کو مکمل ہوا جس کے بعد وباء کے خاتمے کا اعلان کرنے سے پہلے مزید کسی مریض کے سامنے آنے کا 42 روز تک انتظار کیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کا کردار

عالمی ادارہ صحت نے یوگنڈا میں اس بیماری کے خلاف ابتدائی سطح کے اقدامات کے لیے قریباً 6.5 ملین ڈالر مہیا کیے اور چھ ہمسایہ ممالک میں ممکنہ وبا کے مقابلے کی تیاری کے لیے تین ملین ڈالر دیے۔

وباء کے خلاف ڈبلیو ایچ او کے عملی تعاون میں ماہرین کی تعیناتی، متاثرین سے رابطے میں رہنے والوں کی نشاندہی کی تربیت، بیماری کی جانچ، مریضوں کی نگہداشت اور متاثرین کو الگ تھلگ اور علاج گاہوں میں رکھنے اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کٹ کی فراہمی شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ان مشترکہ کوششوں کی بدولت ''ایبولا کے نمونوں کی جانچ مکمل کرنے کا دورانیہ چند روز سے کم ہو کر چھ گھنٹوں تک آ گیا اور اس سے ذاتی حفاظت کے سازوسامان کی متواتر فراہمی کے ذریعے بیماری کے خلاف اگلی صفوں میں کام کرنے والے طبی کارکنوں کو تحفظ دینے میں مدد ملی۔

آئندہ وباء سے نمٹنے کی تیاری

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کے علاج اور ویکسین کی نشاندہی کے لیے ویکسین تیار کرنے والے اداروں، طبی محققین، عطیہ دہندگان اور یوگنڈا کے حکامِ صحت کو بھی شراکت داروں کے طور پر اپنے ساتھ رکھا۔

تین تجرباتی ویکسین سامنے آئیں جن کی 5,000 سے زیادہ خوراکیں گزشتہ سات ماہ کے دوران ریکارڈ وقت میں یوگنڈا پہنچائی گئیں جب اس وبا کا اعلان ہوئے 79 روز گزرے تھے۔

اگرچہ اس دوران کوئی ویکسین استعمال نہیں کی گئی تاہم اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا کہ صحت کو لاحق اس خطرے کے خلاف تیزتر کارروائی ''تیزی سے فروغ پاتی وباؤں کے خلاف اقدامات اور انہیں بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکنے کی عالمگیر صلاحیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔''

سوڈانی ایبولا وائرس اس بیماری کی ان چھ اقسام میں سے ایک ہے جن کے لیے کوئی منظور شدہ دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ اس کمی پر قابو پانے کے لیے یوگنڈا نے وباؤں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اپنے طویل تجربے سے کام لیا اور ''جہاں سب سے زیادہ ضرورت تھی وہاں اپنے اقدامات کو تیز رفتار سے بہتر بنایا۔''