انسانی کہانیاں عالمی تناظر

چین میں کووڈ۔19 کی حالیہ لہر سے یورپ کو ابھی کوئی خطرہ نہیں: عالمی ادارہِ صحت

البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں ایک معمر خاتون کو کووڈ۔19 ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
© WHO/Arete/Florion Goga
البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں ایک معمر خاتون کو کووڈ۔19 ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

چین میں کووڈ۔19 کی حالیہ لہر سے یورپ کو ابھی کوئی خطرہ نہیں: عالمی ادارہِ صحت

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ چین میں اس وقت کووڈ۔19 کے پھیلاؤ میں اضافے کے یورپی خطے پر ''نمایاں اثرات'' مرتب ہونے کی توقع نہیں ہے۔

یورپ کے لیے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ چینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ  اس وقت وہاں کوورونا وائرس کی جو دو اقسام متحرک ہیں وہ پہلے ہی یورپی ممالک میں پائی جاتی ہیں اس لیے ان سے یورپ کو کسی طرح کا کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ ''بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے یورپی مرکز (ای سی ڈی سی) کی رائے کے مطابق چین میں اس وقت کووڈ۔19 کے پھیلاؤ میں اضافے کا ڈبلیو ایچ او کے یورپی خطے میں اس وبا کی صورتحال پر کوئی خاص اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔'' 

پابندیاں 'غیر معقول' نہیں

ڈبلیو ایچ او کے اعلیٰ عہدیدار نے تسلیم کیا کہ چین نے وائرس کی ترتیب سے متعلق معلومات کا تبادلہ نہیں کیا تاہم انہوں ںے مزید 'مفصل اور باقاعدہ اطلاعات' مہیا کرنے کی اپیل کی جن میں ایسی معلومات خاص طور پر اہم ہیں جن کا تعلق مقامی سطح پر وبا کی صورتحال اور وائرس کی اقسام سے ہے ''تاکہ تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کا بہتر طور سے اندازہ لگایا جا سکے۔''

ڈاکٹر کلوگے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے وقت میں یورپی ممالک میں چین سے آنے والے لوگوں پر سفری پابندیاں ''غیرمعقول نہیں جب ہم عام دستیاب ڈیٹا بیس کے ذریعے مہیا کی جانے والی مزید مفصل اطلاعات کے منتظر ہیں۔''

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے سفری احتیاطی اقدامات کی بنیاد سائنس پر ہونی چاہیے اور انہیں متناسب اور غیرامتیازی ہونا چاہیے۔ 

ویزوں کا اجراء معطل

یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب چین کے سفارت خانوں ںے منگل کو جنوبی کوریا اور جاپان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ویزوں کے اجرا کا عمل معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق سیاحوں، کاروباری افراد اور بعض دیگر اقسام کا ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند لوگوں پر ہوتا ہے۔

بظاہر یہ اقدام ان ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں پر کووڈ۔19 کا ٹیسٹ کرانے کے حوالے سے عائد کردہ حالیہ شرائط کے جواب میں کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سیئول میں لگائے گئے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جنوبی کوریا چین کے مسافروں کے خلاف اپنے امتیازی اقدامات واپس نہیں لے لیتا۔

یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا میں کم از کم دس ممالک نے چین سے آنے والے مسافروں کے لیے کورونا وائرس کی جانچ کا ٹیسٹ کرنے کی شرائط عائد کی ہیں اور ان ممالک کے حکام چین میں اس وائرس کی وبا میں تیزتر پھیلاؤ کے بارے میں مناسب معلومات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔

فرانس میں لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر تک محدود ایک بچی۔
UNICEF/Bruno Amsellem/Divergence
فرانس میں لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر تک محدود ایک بچی۔

'اطمینان سے مت بیٹھیں'

ڈاکٹر کلوگے نے ڈبلیو ایچ او یورپی خطے کے لیے اپنے دو مزید پیغامات میں ایسے ممالک کے بارے میں خبردار کیا ہے جو کووڈ۔19 کی نگرانی کی اپنی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر کم کر رہے ہیں۔

2022 کے پہلے پانچ ہفتوں میں ڈبلیو ایچ او اور ای سی ڈی سی کو وائرس کی نگرانی کے بارے میں ہفتہ وار معلومات کے طور پر 12 لاکھ کیس بھیجے گئے۔

تاہم سال کے آخری پانچ ہفتوں میں یہ تعداد کم ہو کر 90 ہزار تک رہ گئی۔

ڈاکٹر کلوگے نے زور دیا کہ ممالک کو چاہیے کہ وہ گزشتہ تین برس میں سیکھے گئے اسباق سے کام لیں اور سارس۔کوو۔2 اور صحت کو لاحق کسی بھی نئے خطرے کی پیش گوئی کرنے، اس کی نشاندہی اور اس کے خلاف اقدامات کی صلاحیت حاصل کریں۔

ایکس بی بی۔1.5 کا پھیلاؤ

انہوں نے ڈنمارک، فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کی تعریف کی جنہوں نے اس وائرس کی موثر جینیاتی نگرانی برقرار رکھی ہے اور کہا کہ ان کی فراہم کردہ حالیہ معلومات سے نوتشکیل شدہ ایکس بی بی۔1.5 وائرس کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا اندازہ ہو رہا ہے جس نے اس وائرس کی اومیکرون قسم سے جنم لیا ہے جو پہلے ہی امریکہ بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کی نئی لڑی کو ''چھوٹی مگر بڑھتی ہوئی تعداد میں پکڑا جا رہا ہے اور ہم اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔ بہت سے ممالک میں نظام صحت پر حد سے زیادہ بوجھ ہے، ضروری ادویات کی قلت ہے اور طبی افرادی قوت ماندگی کا شکار ہے اور ایسے میں ہم اپنے نظام ہائے صحت پر مزید دباؤ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

آخر میں ڈاکٹر کلوگے نے یورپ اور وسطی ایشیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ کووڈ۔19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی کوششیں تیز کریں اور اس معاملے میں اطمینان سے بیٹھنے سے گریز کریں۔