شہروں کو ’صحتمند‘ بنانے کے لیے دنیا بھر کے میئر لندن میں اکٹھے ہونگے
'صحت مند شہروں کے لیے شراکت' کی پہلی کانفرنس 15 مارچ کو لندن میں منعقد ہو گی جس میں زندگیوں کو تحفظ دینے اور شہروں کو صحت مند اور مزید ترقی یافتہ بنانے کے منصوبوں پر بات کی جائے گی۔
'ڈبلیو ایچ او' کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس میں دنیا بھر سے شہروں کے میئر اور رہنما اکٹھے ہوں گے جو غیرمتعدی بیماریوں (این سی ڈی) اور حادثاتی چوٹوں کے باعث شہروں کے نظام ہائے صحت کے لیے بڑھتے ہوئے نقصان سے پیدا ہونے والے عالمگیر بوجھ پر قابو پانے کے طریقوں پر بات چیت کریں گے۔
دل کے امراض، فالج، کینسر، زیابیطس اور سانس کے دائمی امراض جیسی غیرمتعدی بیماریاں اور سڑکوں پر جھگڑوں، کاروں کے حادثات اور بلندی سے گرنے جیسی بہت سی وجوہات سے لگنے والی چوٹیں اور زخم دنیا بھر میں 80 فیصد اموات کا سبب ہیں۔
دنیا کی آبادی کی اکثریت اب شہروں میں رہتی ہے اور اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 2050 تک مزید ڈھائی ارب لوگ شہری آبادی کا حصہ ہوں گے۔
ڈبلیو ایچ او نے برطانوی دارالحکومت میں اس کانفرنس کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر شہر ان بیماریوں اور حادثات کے خدشات میں نمایاں طور پر کمی لانے کی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے خاص کردار ادا کر سکتے ہیں۔
'ترقی یا تباہی'
اس کانفرنس میں ایسے بہترین طریقہ ہائے کار پر روشنی ڈالی جائے گی جو زندگیوں کو تحفظ دینے اور شہروں کو صحت مند اور مزید ترقی یافتہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے کہ ''شہروں میں انسانی صحت یا تو فروغ پاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے۔''
'صحت مند شہروں کے لیے شراکت' کے ذریعے ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت دار شہروں کے منتظمین کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام اور پالیسیاں تخلیق دینے کے لیے کوشاں ہیں جن میں صحت کو شہری منصوبہ بندی میں مرکزی اہمیت دی جائے۔ بھرپور نقل و حرکت کو فروغ دینے والی محفوظ سڑکیں، تازہ اور صحت بخش خوراک کے مقامی ذرائع اور دھویں سے پاک عوامی مقامات اس منصوبہ بندی کی نمایاں مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ''ایسے شہروں کی تعمیر میں اس منصوبہ بندی کی بنیادی اہمیت ہے جو دل اور پھیپھڑوں کے امراض، کینسر اور زیابیطس جیسی غیرمتعدی بیماریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے باسیوں کی اچھی صحت اور بہبود میں مدد دے۔''
'مزید ہنگامی اقدامات درکار ہیں'
'صحت مند شہروں کی شراکت' کا قیام 2017 میں عمل میں آیا تھا اور یہ 70 سے زیادہ بڑے شہری علاقوں کا عالمگیر نیٹ ورک ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور 'وائٹل سٹریٹیجیز' کی شراکت میں 'بلومبرگ فلانتھراپیز' کی معاونت سے کام کرنے والا یہ نیٹ ورک دنیا بھر کے شہروں کو نمایاں اثرات کی حامل پالیسی یا پروگراموں کے ذریعے این ڈی سی اور چوٹوں کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔
غیرمتعدی بیماریوں اور چوٹوں سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے عالمی سفیر مائیکل بلومبرگ نے کہا ہے کہ ''غیرمتعدی بیماریاں اور چوٹیں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں تاہم ان کی روک تھام ممکن ہے اور 'صحت مند شہروں کی شراکت' ان سے فوری طور پر نمٹنے کے اقدامات کر رہی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے۔''
بلومبرگ تین مرتبہ نیویارک سٹی کے میئر رہ چکے ہیں اور 'بلومبرگ فلانتھراپیز' کے بانی بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''شہروں کے رہنما صحت عامہ کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے نیٹ ورک کی پہلی کانفرنس مزید شراکت داروں کے لیے موقع ہو گی کہ وہ ہمارے ساتھ اس جدوجہد میں شامل ہوں، اس حوالے سے موثر اقدامات کریں اور باہم مل کر زندگی کو تحفظ دینے کے ہمارے کام کی رفتار کو تیز کریں۔''
معلومات کا تبادلہ
اس کانفرنس کے معاون میزبان اور لندن کے میئر صادق خان نےگزشتہ برس نومبر میں اعلان کیا تھا کہ انتہائی کم مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے دنیا کے سب پہلے علاقے کو پورے لندن تک وسعت دی جائے گی۔ بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے، صحت کو تحفظ دینے اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کا یہ اقدام 29 اگست 2023 سے موثر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ''زہریلی فضا ہمیں بیمار کر کے ہلاک کر دیتی ہے۔ یہ دمے کا باعث بنتی ہے اور کم عمری میں پھیپھڑوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے جبکہ پیرانہ سالی میں دماغی خلل کا باعث بنتی ہے۔
شہروں کے پاس اپنے شہریوں کی صحت کا مستقبل طے کرنے کی طاقت ہے اور میں دوسرے شہری رہنماؤں سے سیکھنے، ان کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور ہمارے مستقبل کو لاحق صحت کے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے اکٹھے کام کرنے کا متمنی ہوں۔''