کام کے لچکدار اوقات میں سب کا فائدہ، عالمی ادارہِ محنت کی رپورٹ

گھر سے کام کرتے ہوئے ایک باپ اپنے بچے کی دیکھ بھال بھی کر رہا ہے۔
World Bank/Henitsoa Rafalia
گھر سے کام کرتے ہوئے ایک باپ اپنے بچے کی دیکھ بھال بھی کر رہا ہے۔

کام کے لچکدار اوقات میں سب کا فائدہ، عالمی ادارہِ محنت کی رپورٹ

معاشی ترقی

آئی ایل او کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق کام کے لچکدار اوقات ملازمین اور ان کے خاندانوں کو کام اور ذاتی زندگی میں بہتر توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہوئے معیشتوں اور کاروباروں کی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں۔

آئی ایل او کے برانچ چیف فلپ مارساڈینٹ نے 'دنیا بھر میں کام کے اوقات اور کام و نجی زندگی میں توازن' کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ کے دیباچے میں کہا ہے کہ ''کام کے اوقات اور حالات سے متعلق مسائل کو آج کی دنیا میں محنت کی منڈی میں ہونے والی اصلاحات اور ارتقائی عمل میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

Tweet URL

کام کے گھنٹوں کی تعداد، اوقات کار کو منظم کرنے کے انداز اور آرام کے وقفے کی دستیابی سے ناصرف کام کے معیار پر نمایاں اثر پڑتا ہے بلکہ اس سے کام سے ہٹ کر نجی زندگی پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔''

کتنے وقت میں کتنا کام؟

کام اور نجی زندگی کے مابین توازن کے بارے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا جائزہ ہے جس میں کام کے گھنٹوں اور اوقات کار کے کاروباروں اور ان کے ملازمین کی کارکردگی پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

کووڈ۔19 سے پہلے اور اس کی موجودگی کے عرصہ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ دنیا بھر میں تمام ملازمین کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد باقاعدگی سے ہر ہفتے 48 گھنٹے سے زیادہ کام کر رہی ہے جبکہ دنیا بھر کی افرادی قوت کا بیس فیصد جز وقتی بنیادوں پر ہر ہفتے 35 گھنٹے سے کم وقت کے لیے کام کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے مرکزی مصنف جان میسنجر کا کہنا ہے کہ ''بڑی تعداد میں استعفوں کے رحجان نے کام اور نجی زندگی کے توازن کو وبا کے بعد کی دنیا میں سماجی اور محنت کی مںڈیوں کے مسائل میں نمایاں کر دیا ہے۔''

بدلتی ترتیب

یہ رپورٹ مختلف اوقات ہائے کار اور کام و نجی زندگی کے مابین توازن پر ان کے اثرات کا تجزیہ کرتی ہے۔ ایسے اوقات کار میں کام کی شفٹیں، کام کے لیے ہر وقت دستیاب رہنے کی مجبوری، کم ایام میں کام کے گھنٹے پورے کرنا اور مخصوص ایام میں کام کے اوسط وقت کے تعین کے منصوبے شامل ہیں۔

جان میسنجر کے مطابق اوقات کار کے اختراعی انتظامات جیسا کہ کووڈ۔19 کے بحران کے دوران متعارف کرائے گئے اوقات بہت بڑے فوائد کا باعث بن سکتے ہیں جن میں کام کی افادیت میں اضافہ اور کام و نجی زندگی کے مابین توازن میں بہتری بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ''اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہےکہ اگر ہم کووڈ۔19 کے بحران میں حاصل ہونے والے بعض اسباق پر عمل کریں اور کام کے اوقات اور ان کی مجموعی طوالت کا بالاحتیاط تعین کریں تو اس سے سبھی کو فائدہ ہو گا کہ اس کی بدولت ناصرف کاروبار کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ کام اور نجی زندگی کے مابین توازن بھی بہتر ہو جائے گا۔''

تاہم رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ بعض لچک دار انتظامات کے فوائد، جیسا کہ خاندان کے ساتھ زیادہ وقت صرف کرنا،  کے ساتھ بڑے پیمانے پر صنفی عدم توازن اور صحت کے لیے خطرات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔

وباء اور اوقات کار

رپورٹ میں وباء کے دوران اداروں کو فعال رکھنے اور نوکریاں برقرار رکھنے کے لیے حکومتوں اور کاروباروں کی جانب سے بحران سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جس سے یہ سامنے آیا ہے کہ کم گھنٹوں کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی بڑی تعداد کے باعث نوکریوں کا خاتمہ روکنے میں مدد ملی۔

یہ رپوٹ طویل مدتی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ''دنیا میں تقریباً ہر جگہ بڑے پیمانے پر ٹیلی ورک کے نفاذ نے ممکنہ طور پر مستقبل قریب کے لیے ملازمت کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔

کووڈ۔19 کے بحران پر قابو پانے کے اقدامات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کارکنوں کو کام کے انداز، جگہ اور اوقات کے بارے میں زیادہ لچک مہیا کرنے سے ناصرف خود انہیں بلکہ کاروبار کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور کام کی افادیت نمایاں طور سے بڑھ جاتی ہے۔

اس سے برعکس کام کے غیرلچک دار ماحول کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کام کے لیے بڑی تعداد میں عملہ بھرتی کرنا پڑتا ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''اس بات کا ٹھوس ثبوت موجود ہے کہ کام اور نجی زندگی کے مابین توازن سے متعلق پالیسیاں کاروباروں کو نمایاں فوائد مہیا کرتی ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ایسی پالیسیوں سے آجر اور اجیر دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔''

جنوبی افریقہ میں ایک نوجوان خاتون اپنے دفتر میں بیٹھی اپنے اتالیق سے ویڈیو لنک کے ذریعے سبق لے رہی ہیں۔
© UNICEF/Karin Schermbrucker
جنوبی افریقہ میں ایک نوجوان خاتون اپنے دفتر میں بیٹھی اپنے اتالیق سے ویڈیو لنک کے ذریعے سبق لے رہی ہیں۔

مشاہدات

رپورٹ میں متعدد نتائج بھی اخذ کیے گئے ہیں جیسا کہ کام کے طویل اوقات کے نتیجے میں عموماً اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے جبکہ مختصر اوقات کی بدولت اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کام کے زیادہ سے زیادہ دورانیے سے متعلق قوانین و ضابطے اور آرام کے وقفے سے متعلق قوانین کی بدولت معاشرے کی طویل مدتی صحت اور بہبود پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

سفارشات

'ورکنگ ٹائم' کے مطابق ممالک کو چاہیے کہ وہ وبا کے دور کے اقدامات جیسا کہ کام کے مختصر مدتی شمولیتی منصوبوں کو جاری رکھیں جن کی بدولت ناصرف نوکریوں کو تحفظ ملا بلکہ لوگوں کی قوت خرید بھی بہتر ہوئی اور معاشی بحران کے سنگین اثرات سے بچاؤ میں مدد ملی۔

رپورٹ میں متعدد ممالک میں کام کے گھنٹوں کی تعداد میں کمی اور کام و نجی زندگی کے مابین صحت مند توازن کو فروغ دینے کے حوالے سے سرکاری پالیسی میں تبدیلی کی وکالت بھی کی گئی ہے۔

آخر میں یہ رپورٹ ملازمتیں برقرار رکھنے میں مدد دینے اور کارکنوں کو مزید خود مختاری فراہم کرنےکی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ 

تاہم اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کے ممکنہ منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے کام کے لچک دار انتظام کو بہتر طور سے باضابطہ بنایا جانا چاہیے تاکہ مخصوص اوقات کے بعد کام سے ''منقطع ہونے کے حق'' کے حصول میں مدد مل سکے۔