انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پانی کے مشترکہ وسائل کے استعمال پر اعتماد سازی میں کامیابی

موریطانیہ میں لڑکیاں کنویں سے پانی بھر رہی ہیں۔
© UNICEF/Raphael Pouget
موریطانیہ میں لڑکیاں کنویں سے پانی بھر رہی ہیں۔

پانی کے مشترکہ وسائل کے استعمال پر اعتماد سازی میں کامیابی

موسم اور ماحول

پانی کے وسائل میں تیزی سے ہونے والی کمی کے مسئلے پر سرحدوں سے بالا ٹھوس تعاون کے لیے اقوام متحدہ کی کوشش کو اس وقت نمایاں کامیابی ملی ہے جب 30 سے زیادہ حکومتوں اور اداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اکٹھے کام کرنے کو تیار ہیں۔

یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا میں 56 رکن ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) نے کہا ہے کہ ''اس سال کرہ ارض کے تقریباً ہر حصے میں آنے والے خوفناک سیلابوں اور خشک سالی سے معاشرے اور ماحول کے ہر پہلو کے لیے پانی کی لازمی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔''

Tweet URL

زیرزمین پانی کے بارے میں پیرس میں اقوام متحدہ کی کانفرنس کے دوران سرحدوں کے آر پار آبی تعاون کے اتحاد کی تشکیل کے موقع پر کمیشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری اولگا الگیرووا کا کہنا تھا کہ ''تین ارب سے زیادہ لوگ ایسے پانی پر انحصار کرتے ہیں جو ملکی سرحدوں کے آر پار بہتا ہے۔ اسی وجہ سے سرحدوں کے آر پار آبی تعاون امن، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی اہم بنیاد ہے۔''

یہ اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ 22 تا 24 مارچ 2023 کو اقوام متحدہ کی دوسری آبی کانفرنس سے پہلے کیا گیا ہے۔ پانی کا منصفانہ انتظام اور نگرانی تنازعات کی روک تھام کے ذریعے کے طور پر اقوام متحدہ کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور یہ پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی شامل ہے۔

مشترکہ آبی وسائل کا انتظام

'یو این ای سی ای' نے واضح کیا ہے کہ حکومتوں اور بین الحکومتی اداروں کے علاوہ علاقائی تنظیموں سے لے کر عالمی مالیاتی اور تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے گروہوں تک معاملے میں دلچسپی رکھنے والے بہت سے فریق اس اقدام میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ 153 ممالک کے دریا، جھیلیں یا زیرزمین آبی ذخائر ان کی قومی سرحدوں کے آر پار موجود ہیں تاہم ان میں صرف 24 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ایسے آبی وسائل کے انتظام اور استعمال کے بارے میں اصول و ضوابط طے کر رکھے ہیں۔

سینیگال کی مندوب سرینا بائی تھیام نے مزید ممالک سے آئندہ سال اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس میں پانی کے بارے میں کنونشن میں شمولیت کا وعدہ کرنے کے لیے 'یو این ای سی ای' کی سربراہ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کے آر پار آبی تعاون امن، ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کے خلاف مزاحمت کے لیے لازمی اہمیت رکھتا ہے۔

سینیگال کی وزیر برائے پانی و نکاسی آب نے کہا کہ ''ہمیں خاص طور پر سرحدوں کے آر پار موجود آبی ذرائع کے معاملے میں مستعدی سے اور کسی تاخیر کے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہے جو عموماً موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابل سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتے ہیں۔ اتحاد کے رکن کی حیثیت سے ہم حکومتوں اور فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ 2023 کی آبی کانفرنس میں سرحدوں کے آر پار تعاون کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس وعدے کریں۔''

سلوانیہ کی وزیر برائے خارجہ امور تانجا فاجون نے اپنے ملک کو آبی تعاون کا "پُرجوش حامی'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں کلیدی کردار اداکیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ''سرحدوں کے آر پار آبی تعاون پانی کے مشترکہ ذرائع، مشترکہ مفادات، دوطرفہ تعمیری تعاون اور اعتماد پیدا کرنے کے انتظام کا معاملہ ہے۔''

پانی نہیں تو ترقی نہیں

ورلڈ بینک میں 'واٹر گلوبل پریکٹس' کے عالمی امور سے متعلق ڈائریکٹر سروج کمار جھا نے کہا کہ مشترکہ پانی پر بہتر تعاون ''ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے ایجنڈے اور بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے اور لوگوں اور ماحول کی ضرورت میں توازن پیدا کرنے کے لیے لازمی اہمیت رکھتا ہے۔''

'یو این ای سی ای' کی الگیرووا نے کہا کہ نئے اتحاد کے مقاصد میں پانی کے انتظام سے متعلق قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے، صلاحیت میں اضافے، معلومات کے تبادلے، مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے اور علم کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

سوئزرلینڈ کی حکومت آبی سفارت کاری کے ذریعے ممکنہ تنازعات ختم کرنے کے طریقے کی نمایاں حامی ہے جسے ''بلیو پیس' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں دریاؤں یا جھیلوں کے کے کم از کم 263 طاس دو یا اس سے زیادہ ممالک پر محیط ہیں۔