انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران میں احتجاج کرنے والے کو پھانسی دینے کی مذمت

بائیس سالہ مھاسا امینی کی ایرانی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔
Unsplash/Artin Bakhan
بائیس سالہ مھاسا امینی کی ایرانی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔

ایران میں احتجاج کرنے والے کو پھانسی دینے کی مذمت

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں میں شریک ایک 23 سالہ شخص کو پھانسی دیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی فنکاروں کو ایسے جرائم کا مرتکب قرار دینے پر تشویش ظاہر کی ہے جن کی سزا موت ہے۔

ایرانی نوجوان کو اسلامی انقلابی عدالت کی جانب سے ''خدا کے خلاف جنگ کرنے'' کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد جمعرات کی صبح پھانسی پر لٹکایا گیا۔

Tweet URL

سرکاری حکام پہلے ہی تصدیق کرچکے ہیں کہا کہ ''خدا کے خلاف جنگ کرنے'' (محاربہ) اور/یا ''زمین پرفساد پھیلانے'' (افسادِ فی الارض) کے جرم میں اب تک 12 افراد کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔

سزائے موت ختم کریں

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ''غیرمنصفانہ قانونی کارروائی کے نتیجے میں دی جانےوالی سزائے موت ملزموں کو زندگی کے حق سے ناجائز طور پر محروم کیے جانے کے مترادف ہے۔''

انہوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سزائے موت کے خاتمے کے لیے اسے معطل کرے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت صرف ایسے جرائم پر ہی موت کی سزا دی جا سکتی ہے جو قتل عمد جیسے انتہائی سنگین جرائم کی ذیل میں آتے ہوں۔ یہ سزا بھی ایسے قانونی طریقہ کار پر عمل کر کے ہی دی جا سکتی ہے جو منصفانہ قانونی کارروائی یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کا ممکنہ تحفظ مہیا کرتا ہو۔

موت اور اذیت

ماہرین نے کہا کہ ''ہم ایرانی فنکاروں کی زندگی کے بارے میں فکرمند ہیں جنہیں ایسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے جن کی ایران میں سزا موت ہے۔'' انہوں نے خاص طور پر کرد گلوکار (ریپر) سمن یاسین کا حوالہ دیا جنہیں اطلاعات کے مطابق تہران کی اسلامی انقلابی عدالت نے 29 اکتوبر کو ''محاربہ'' یا ''خدا کے خلاف جنگ کرنے'' کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ ایسے ہی ایک گلوکار توماج صالحی کو ''زمین پر فساد پھیلانے'' کا مجرم قرار دیا گیا ہے جبکہ ایران میں اس جرم کی سزا بھی موت ہے۔ انہیں یہ سزا خفیہ عدالتی کارروائی کے بعد دی گئی جس میں ان کے وکیل بھی موجود نہیں تھے۔

یاسین کو 2 اکتوبر 2022 کو اپنے گیتوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا جن میں انہوں نے حکومت پر تنقید کی تھی۔ توماج صالحی کی گرفتاری 30 اکتوبر 2022 کو عمل میں آئی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ایسی ویڈیو پوسٹ کیں جن میں وہ اپنے چاہنے والوں کو مظاہروں میں شرکت کے لیے کہہ رہے تھے جبکہ انہوں نے ایسے گانے بھی گائے جن میں ایران کے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

باغیوں کی زباں بندی

ماہرین کا کہنا ہے کہ ''ہمیں فنکاروں کو قید تنہائی میں رکھے جانے اور توماج صالحی کو تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات پر بھی تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کو موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق توماج صالحی کی ناک اور کئی انگلیاں ٹوٹ گئی ہیں اور ان کی ٹانگ بری طرح زخمی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ''بظاہر ان گرفتاریوں اور الزامات کا تعلق ایسے لوگوں کی جانب سے اپنے فنکارانہ اظہار اور تخلیق کی آزادی کے جائز حق کے پُرامن استعمال سے ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کا واحد مقصد اپنی مخالف آوازوں کو خاموش کرانا اور ملک میں تمام لوگوں کے فن تک رسائی اور ثقافتی و عوامی زندگی میں شرکت کے حق پر ناجائز پابندیاں عائد کرنا ہے۔ ماہرین نے پرامن مظاہروں میں شرکت پر مجرم قرار دیے جانے والے ہزاروں لوگوں کی فوری رہائی کے مطالبے پر بھی زور دیا۔

اظہار کی آزادی پر قدغن

ایران میں ان مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 40 فنکاروں، لکھاریوں، شاعروں، اداکاروں، فلم سازوں اور موسیقاروں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ پھلتی پھولتی ثقافتوں کی ترقی اور جمہوری معاشروں کی فعالیت کے لیے فنکارانہ سرگرمی کا تحرک ضروری ہوتا ہے۔ ایران میں مظاہرین پر حالیہ کریک ڈاؤن انسانی حقوق کے ان بین الاقوامی معاہدوں کے بھی خلاف ہے جن کا ایران خود بھی فریق ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان مقدمات کے بارے میں ایران کی حکومت سے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔