حیاتیاتی تنوع کے زوال کو روکنے میں نوجوان قیادت کا عزم ’امید کی کِرن‘
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ''اخلاقی طور پر دیوالیہ'' قرار دیا ہے اور نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی خاطر منصفانہ اقدامات کے لیے جدوجہد کریں۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کینیڈا کے شہر مانٹریال میں اقوام متحدہ کی کانفرنس کاپ 15 کے موقع پر جمع ہونے والے نوجوان رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ انصاف کے لیے کوشش کریں تاکہ تمام ممالک خصوصاً ترقی پذیر دنیا کو حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر قابو پانے اور انسانوں اور فطرت کے مابین توازن کو بحال کرنے کے لیے درکار ذرائع میسر آئیں۔
حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کی تازہ ترین کانفرنس 'کاپ 15' کے باقاعدہ آغاز سے قبل 'گلوبل یوتھ بائیوڈ ڈائیورسٹی نیٹ ورک' اور دیگر گروہوں کی جانب سے منعقدہ ایک ذیلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ''حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی مسئلے سے ہٹ کر آج کی دنیا میں ایک بنیادی نوعیت کا سوال درپیش ہے جس کا تعلق 'انصاف' سے ہے، ہم ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جس میں معاشی قوانین اور مالیاتی ڈھانچہ دونوں اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں۔''
حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کی یہ پندرھویں کانفرنس 'کاپ' 19 دسمبر کو شروع ہو گی اور متوقع طور پر اس میں آئندہ دہائی کے لیے حیاتیاتی تنوع اور ماحولی نظام کے تحفظ، بحالی اور اس کے پائیدار انتظام کے لیے بعداز 2020 لائحہ عمل کی منظوری دی جائے گی۔
سیکرٹری جنرل نے نوجوانوں کے نمائندوں سے کہا کہ ''فطرت کے خلاف جنگ پر قابو پانے کے لیے آپ کا قائدانہ کردار اس بات کی علامت ہےکہ یہ جنگ لڑی جانا ضروری ہے اور ہمارے پاس اسے جیتنے کا موقع ہے۔ نوجوان انسانیت کو بچانے کی اس جنگ میں اگلی صفوں میں لڑ رہے ہیں اور ایسے موقع پر متحرک کردار ادا کر رہے ہیں جب حکومتیں اس صورتحال کو سنجیدہ لینے سے ہچکچا رہی ہیں۔''
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے نوجوان سول سوسائٹی اور کاروباری طبقے کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ یہ راستہ بدلنے کا وقت ہے اور ''یہ فطرت کے ساتھ امن قائم کرنے کا وقت ہے۔ یہ اس بات پر غور کرنے کا وقت ہے کہ حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی دور حاضر کے دو فیصلہ کن مسائل ہیں اور یہ دو ایسی جنگیں ہیں جنہیں ہم ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔''
'بڑی اصلاحات درکار ہیں'
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم ایک غیرمنصفانہ دنیا میں رہتے ہیں۔ ''مثال کے طور پر کووڈ۔19 وبا کے دوران ویکسین کی تقسیم نہایت غیرشفاف اور غیرمنصفانہ انداز میں ہوئی نیویارک جیسے شہر میں لوگوں کو دو اور بعض کو تین ویکسین میسر تھیں۔ لیکن براعظم افریقہ میں اب بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو پہلی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہو سکی۔''
انہوں ںے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں مضبوط ہیں اسی لیے انہوں ںے وبا سے بحالی کے لیے ''کئی ٹریلین ڈالر کے نوٹ چھاپ لیے۔ ترقی پذیر ممالک ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کی کرنسی کی قدر گر جائے گی۔ اسی لیے انہیں وبا سے بحالی میں بے پایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے اثرات سے تعلیم، صحت اور نوکریوں سمیت زندگی کے دیگر پہلو بری طرح متاثر ہوئے ہیں یہاں تک کہ یہ ممالک پہلے سے زیادہ مقروض ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ''ہمیں یہ کہنے کے قابل ہونا چاہیے کہ مزید مساوی معاشی اور مالیاتی نظام قائم کرنے کے لیے ہمیں بہت بڑی اصلاحات درکار ہیں۔ یہ ایسے نظام ہوں جن میں ترقی پذیر ممالک بھی اپنے شہریوں کو ان فوائد کی ضمانت دے سکیں جو ٹیکنالوجی نے ترقی یافتہ ممالک کو مہیا کیے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ ''اس کاپ کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں ترقی پذیر ممالک خصوصاً افریقہ کو مدد کی ضمانت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ مالی مدد کی فراہمی کا معاملہ بھی بات چیت کا اہم حصہ ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ''ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ترقی پذیر ممالک خصوصاً افریقہ کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل دستیاب ہوں۔ تاہم تبدیلی لانے والی ایسی سرگرمیوں اور تحریکوں کے لیے مالی وسائل کی موجودگی بھی اہم ہے جو اس جنگ کو جیتنے میں لازمی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں ںے زور دیا کہ معاشروں، ٹیکنالوجی، رویوں اور ہماری عمومی زندگی کے دیگر تمام پہلوؤں میں تبدیلی لانے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیت بڑھانے کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
ووٹ، شرکت، تحرک
نوجوانوں کے نمائندوں ںے تحریری طور پر یہ سوال اٹھایا کہ نوجوان اپنی حکومتوں کو حیاتیاتی تنوع کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ہم سڑکوں پر نکلے ہیں اور ہم سے جو کچھ ممکن ہے وہ کر رہے ہیں، لیکن حکومتیں خاطرخواہ رفتار سے پیش رفت نہیں کر رہیں۔''
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس سوال کے جواب میں نوجوانوں سے کہا کہ ''میں حکومت میں رہا ہوں اور میں آپ کو اس بارے میں بتا سکتا ہوں۔ حکومتوں کو ووٹ کی بہت زیادہ فکر رہتی ہے اس لیے آپ کو چاہیے کہ لوگوں سے کہیں کہ وہ ایسے سیاست دانوں کو ووٹ نہ دیں جو فطرت کی تباہی میں ملوث ہیں۔ ایسی کمپنیوں کے لیے کام نہ کریں جو فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور سول سوسائٹی کے ایسے اداروں کا ساتھ مت دیں جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں شریک نہیں ہیں۔'' .
انہوں ںے واضح کیا کہ ''اہم ترین بات یہ ہے کہ ایسے طریقوں میں اضافہ کیا جائے جن کی بدولت حکومتوں کو باور کرایا جا سکے کہ اگر وہ درست راہ اختیار نہیں کریں گی تو انتخابات نہیں جیت پائیں گی۔''
'بڑے بینک تبدیلی لائیں'
افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے نے سوال کیا کہ ایسے کون سے اقدامات ہونے چاہئیں جن کی بدولت یہ براعظم ایسے مالیاتی طریقہ ہائے کار اور منصوبوں سے پورا فائدہ اٹھا سکے جن سے وہاں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد ملے۔ اس سوال کے جواب میں انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی طرح کے اختراعی طریقے اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ ''بعض طریقے دوسرں سے بہت مختلف ہیں لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ سرکاری سطح پر دی جانے والی ترقیاتی امداد (او ڈی اے) میں کمی نہ ہو۔ بعض ترقی یافتہ ممالک اب اپنے بجٹ میں اس حوالے سے کٹوتی کر رہے ہیں جس کی مخالفت کرنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں یہ یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے کہ جب ورلڈ بینک اور دیگر عالمی ترقیاتی بینک اس حوالے سے اپنا کام کریں تو انہیں مالیاتی تحفظ کے بارے میں ضمانتیں مہیا کی جائیں تاکہ آپ جیسے ممالک کے لیے مناسب لاگت پر نجی شعبے سے بڑے پیمانے پر مالیاتی وسائل اکٹھے کیے جا سکیں ''بصورت دیگر آپ جیسے ممالک کو نجی شعبے سے ملنے والی مالی وسائل پر سود کی شرح بہت بلند ہو گی جس کے باعث آپ کو اپنی ضرورت پوری کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔''
انہوں نے بتایا کہ ''اسی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کے لیے اپنے کاروباری طریق کار میں تبدیلی لانا ضروری ہے تاکہ وہ مالیاتی نقصان سے محفوظ رہیں۔ ہم چند مزید طریقہ ہائے کار کے لیے بھی کوشش کرتے رہے ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور حیاتیاتی تنوع یا پائیدار ترقی کے دیگر اقدامات کے لیے قرض کو سرمایہ کاری سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔''