انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ملٹی نیشنل کاروباری ادارے ماحول کی قیمت پر منافع سمیٹ رہے ہیں: گوتیرش

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش مانٹریال میں بائیوڈائیورسٹی پر ہونے والی کانفرنس کاپ 15 سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Evan Schneider
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش مانٹریال میں بائیوڈائیورسٹی پر ہونے والی کانفرنس کاپ 15 سے خطاب کر رہے ہیں۔

ملٹی نیشنل کاروباری ادارے ماحول کی قیمت پر منافع سمیٹ رہے ہیں: گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ماحولیاتی نظام منافع کمانے کا ذریعہ بن گئے ہیں اور بے لگام اور غیرمساوی معاشی ترقی کی نہ ختم ہونے والی ہوس نے انسانیت کو اجتماعی معدومی کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔

انہوں ںے یہ بات کینیڈا کے شہر مانٹریال میں جاری اقوام متحدہ کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق کانفرنس 'کاپ 15' سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں ںے قدرت کو انسانیت کی بہترین دوست قرار دیتے ہوئے خاص طور پر کہا کہ ''فطرت کے بغیر ہمارے پاس کچھ نہیں۔ فطرت کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ فطرت ہماری زندگی کو برقرار رکھنے کا نظام ہے۔''

سیکرٹری جنرل نے افسوس کے ساتھ کہا کہ اس کے باوجود انسانیت تباہی پر تلی ہوئی ہے اور فطرت کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاپ 15 کانفرنس  فطرت کے ساتھ امن قائم کرنے کے ہنگامی مقصد سے متعلق ہے کیونکہ آج ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں، بلکہ ہم کسی اور ہی دُھن میں مگن ہیں۔

سمندروں سے جُڑی معاشی سرگرمیوں کا سالانہ حجم ڈیڑھ ٹرلین ڈالر سے زیادہ ہے
Ocean Image Bank/Umeed Mistry
سمندروں سے جُڑی معاشی سرگرمیوں کا سالانہ حجم ڈیڑھ ٹرلین ڈالر سے زیادہ ہے

''ابتری کا بے سُرا الاپ''

اقوام متحدہ کے سربراہ نے یاد دلایا کہ جنگلات کاٹے جانے اور زمین بنجر ہونے کے نتیجے میں کبھی پھلتے پھولتے ماحولیاتی نظام اب بیابانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں، زمین، پانی اور ہوا کیمیائی مادوں اور کیڑے مار ادویات کے اثر سے زہر آلود ہو گئے ہیں جبکہ پلاسٹک نے اس کا دم گھونٹ دیا ہے۔ انہوں ںے اس صورتحال کو ''ابتری کا بے سُرا الاپ'' قرار دیا۔

انتونیو گوتیرش نے مزید کہا کہ ''معدنی ایندھن پر ہمارے انحصار نے ماحول میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ ان حالات میں ہمیں شدید گرمی کے ادوار اور جنگلوں کی آگ کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے لوگ گرمی اور خشک سالی کے اثرات جھیل رہے ہیں یا خوفناک سیلابوں میں ڈوب رہے ہیں اور تباہ ہو رہے ہیں۔ آج کرہ ارض کا ایک تہائی حصہ زرعی اعتبار سے تنزلی کا شکار ہے جس کے باعث بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔''

انہوں نے کہا کہ پودے،ممالیہ جانور، پرندے، رینگنے والے جانور، جل تھلے، مچھلیاں اور غیرفقاریہ جانوروں سمیت تمام جاندار خطرے کی زد میں ہیں اور لاکھوں انواع معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ''سمندروں میں آلودگی کے باعث آبی حیات کو برقرار رکھنے میں مددگار کورل ریف اور دیگر سمندری ماحولیاتی نظام تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس سے وہ لوگ براہ راست متاثر ہو رہے ہیں جن کی زندگی اور روزگار سمندروں سے وابستہ ہے۔''

جنگلوں کا صفایا کر کے زمین کو زراعت کے لیے تیار کرنے کے عمل نے مڈگاسکر کے قدرتی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
UNEP/Lisa Murray
جنگلوں کا صفایا کر کے زمین کو زراعت کے لیے تیار کرنے کے عمل نے مڈگاسکر کے قدرتی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ماحولیاتی تباہی کی انسانی قیمت

اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''ہم نے قدرت کو ٹوائلٹ سمجھ رکھا ہے  اور یہ طرزعمل بالاآخر ہمیں اجتماعی خودکشی کی طرف لے جا رہے ہے کیونکہ فطرت اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی بہت بڑی انسانی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ یہ قیمت ملازمتوں کے خاتمے، بھوک، بیماری اور موت کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ ماحولیاتی نظام کے تنزل سے 2030 تک ہمیں سالانہ تین ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو گا۔''

اس کانفرنس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کے اس کھیل کو روکنے اور اُس عزم اور اُن عملی اقدامات کے نفاذ کے ذریعے قدرت سے دوبارہ ہم آہنگ ہونے کا موقع ہے جو وقت کا تقاضا ہیں۔ انہوں ںے زور دے کر کہا کہ ''ہمیں اس اجلاس سے حیاتیاتی تنوع کے بارے میں 2020 کے بعد کے دلیرانہ فریم ورک سے کم کسی چیز کی ضرورت نہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ فریم ورک ہماری زمین کو تحفظ دینے کے لیے طے کیے گئے دیگر عالمگیر معاہدوں کو تقویت دیتا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی پر پیرس معاہدے سے لے کر زمین، جنگلات اور سمندروں کے تنزل اور کیمیائی مادوں اور آلودگی  کے بارے میں معاہدے شامل ہیں جو ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے قریب تر کر سکتے ہیں۔

نہ بہانہ چلے گا نہ ہی تاخیر

انہوں نے قدرت کے ساتھ ایک امن معاہدہ تشکیل دینے کے وعدوں کو پورا کرنے کی ضرورت واضح کرتے ہوئے کہا کہ حیلے بہانوں سے ماحول کی بحالی میں تاخیری حربے اپنانے کا اب وقت نہیں رہا۔ اس حوالے سے انہوں نے تین ٹھوس اقدامات تجویز کیے:

  1. حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام وزارتوں میں مالیات اور خوراک سے لے کر توانائی اور بنیادی ڈھانچے تک دلیرانہ قومی عملی منصوبے تیار کریں۔ یہ ایسے منصوبے ہوں جن میں امدادی قیمتوں اور ٹیکس سے چھوٹ کے مقصد کا ازسرنو تعین کیا جائے اور اس طرح کی مالی مدد فطرت کو تباہ کرنے والی سرگرمیوں سے ہٹا کر قابل تجدید توانائی جیسے منصوبوں پر مرکوز کی جائے۔
  2.  نجی شعبے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ منافع اور تحفظ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہماری عالمگیر نوعیت کی معیشتوں میں کاروبار اور سرمایہ کار دنیا کے ہر کونے سے فطرت کے فوائد سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس لیے فطرت کے تحفظ کو مقدم رکھنا ان کے بہترین مفاد میں ہے۔
  3. ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ کرہ ارض کے جنوبی حصے میں واقع ممالک کو بھرپور مالی مدد مہیا کریں جو ہماری دنیا کی قدرتی دولت کے محافظ ہیں۔ ہم ترقی پذیر ممالک سے یہ توقع نہی رکھ سکتے کہ وہ یہ بوجھ اکیلے اٹھائیں گے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور کثیررخی ترقیاتی بینک اپنے کام کو ماحول کے تحفظ اور ماحولیاتی تنوع کے پائیدار استعمال سے ہم آہنگ کریں۔