بچوں کے خلاف آن لائن تشدد میں کمی کے لیے عالمی ادارہِ صحت کی "واضح ہدایت‘

نیو دلی کے ایک سکول میں بچے سمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے۔
© UNICEF/Ashutosh Sharma
نیو دلی کے ایک سکول میں بچے سمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے۔

بچوں کے خلاف آن لائن تشدد میں کمی کے لیے عالمی ادارہِ صحت کی "واضح ہدایت‘

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعے کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا مقصد دنیا بھر کے ممالک اور اداروں کو بچوں کے خلاف آن لائن تشدد کی بڑھتی ہوئی لعنت کے خاتمے میں مدد دینا ہے۔

  'بچوں کے خلاف آن لائن تشدد کا خاتمہ کیسے ہو' کے عنوان سے اپنی نئی رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کو غیراخلاقی سرگرمیوں کے لیے تیار کرنے، عریاں تصاویر کے ذریعے ان کے استحصال اور آن لائن جبر، آن لائن پیچھا کرنے، ہیکنگ اور شناخت کی چوری جیسے اقدامات  کی صورت میں سائبر ذرائع سے کی جانے والی جنسی جارحیت اور ہراسانی کا قلع قمع کرنے کے طریقوں کی جانب توجہ دلائی ہے۔

Tweet URL

یہ رپورٹ بچوں کا بہتر طور سے تحفظ کرنے کی حکمت عملی اور اس حوالے سے موزوں ترین اقدامات کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں صحت کے سماجی تعین سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ایٹیئن کروگ نے کہا ہے کہ ''ہمارے بچے آن لائن سرگرمیوں پر بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، لہٰذا آن لائن ماحول کو محفوظ بنانا ہمارا فرض ہے۔''

'اجتماعی اقدام ضروری ہے'

یہ رپورٹ آن لائن تشدد کی روک تھام کے لیے بچوں اور والدین کے لیے تربیتی پروگراموں پر عملدرآمد کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔

جائزوں سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے پروگرام آن لائن تشدد کی شدت کم کرنے، بچوں کا استحصال کرنے والوں کو روکنے اور اس مسئلے سے منسلک شراب اور منشیات کے استعمال جیسے خطرناک رویوں میں کمی لانے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں۔

کروگ کا مزید کہنا تھا کہ ''یہ نئی دستاویز پہلی مرتبہ حکومتوں، عطیہ دہندگان اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کو اس ضمن میں ایک واضح سمت مہیا کرتی اور بتاتی ہے کہ اگر ہم اس معاملے میں موثر اقدامات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آن لائن اور آف لائن تشدد سے بیک وقت نمٹنا ہو گا۔''

وسیع تر حکمت عملی

رپورٹ میں سکولوں کی سطح پر تربیتی پروگراموں پر عملدرآمد، نوجوانوں میں باہمی رابطوں کے فروغ اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ نوجوانوں میں دیگر صلاحیتیں پیدا کرنے کے علاوہ انہیں خود اعتمادی، ہمدردی، مسئلے کو حل کرنے، جذبات پر قابو پانے اور مدد طلب کرنے کی تربیت مہیا کرنے کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ تربیتی پروگرام ویڈیو، کمپیوٹر گیم، آن لائن اشتہار، معلوماتی خاکے اور رہنمائی پر مبنی بات چیت جیسے کثیرالجہتی اور متنوع طریقوں کے ذریعے زیادہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جامع طرز کی جنسی تعلیم خاص طور پر آن لائن ڈیٹنگ کے دوران جسمانی اور جنسی حملوں، قریبی ساتھی کی جانب سے تشدد کے امکان اور ہم جنس پرستوں سے نفرت پر مبنی آن لائن غنڈہ گردی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ترقی کے اعتبار سے ہر درجے کے ممالک میں جنسی تعلیم کی افادیت ثابت ہو چکی ہے۔

'اجنبی زیادہ خطرناک نہیں'

رپورٹ کے مطابق بچوں پر آن لائن تشدد کے حوالے سے متعدد معاملات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

متراکب مسائل اور ان کے حل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پانےکے لیے تشدد کی روک تھام کے زیادہ سے زیادہ پروگراموں کی ضرورت ہے جن کے ساتھ آف لائن تشدد میں کمی لانے کے پروگرام بھی ہونے چاہئیں۔

چونکہ اجنبی لوگ واحد یا بڑے آن لائن مجرم نہیں ہوتے اس لیے اجنبیوں سے لاحق خطرے پر نسبتاً کم زور دینا چاہیے۔

اس کے بجائے بچوں کے واقف لوگوں اور ساتھیوں پر زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے ساتھ ہونے والے بیشتر آن لائن جرائم میں یہی لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

چونکہ آن لائن پیار محبت اور قربت کی تلاش صارفین کے تحفظ کو لاحق خطرات کے بڑے ذرائع ہیں اس لیے یہ رپورٹ صحت مند تعلقات قائم کرنے کی صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور دینے کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔

یونیسف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے بچوں کے لیے ڈیجیٹل مصنوعات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
© UNICEF/Karel Prinsloo
یونیسف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے بچوں کے لیے ڈیجیٹل مصنوعات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مثبت پہلو کو استعمال میں لائیں

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ تعلیم و تربیت کے فروغ سے لے کر ذاتی اور پیشہ وارانہ صلاحیتیں پیدا کرنے اور تخلیقیت کے اظہار تک انٹرنیٹ بچوں اور نوعمر افراد کے لیے بہت کچھ مہیا کرتا ہے۔

تاہم حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل مواقع کو ترقی دینے اور صارفین کے تحفظ کے درمیان مناسب توازن رکھیں۔

عالمی ادارہ صحت بچوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنے اور اس حوالے سے بین الاقوامی اقدامات کی رہنمائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او صحت عامہ کے حوالے سے اپنے طریق کار کے تحت فی الوقت بچوں کے خلاف تشدد کے بارے میں معلومات جمع کرنے، تشدد میں اضافے یا کمی کا باعث بننے والے عوامل پر تحقیق، مسائل کو حل کرنے کے طریقہ ہائے کار پر عملدرآمد اور ان کے تجزیے اور ثبوت کی بنیاد پر اقدامات میں مدد دیتا ہے۔ 'انسپائر: بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے سات طریقے' میں بتائے گئے اقدامات اس کی مثال ہیں۔