انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اقوام متحدہ کے سربراہ افریقہ کو ’امید اور امکانات‘ کا برِاعظم دیکھتے ہیں

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش افریقین یونین کے سربراہ موسیٰ فقی مہمت کے ساتھ ایتھوپیا کے شہر ادیس ابابا میں مشترکہ پریس سے خطاب کر رہے ہی۔
UN Photo/Daniel Getachew
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش افریقین یونین کے سربراہ موسیٰ فقی مہمت کے ساتھ ایتھوپیا کے شہر ادیس ابابا میں مشترکہ پریس سے خطاب کر رہے ہی۔

اقوام متحدہ کے سربراہ افریقہ کو ’امید اور امکانات‘ کا برِاعظم دیکھتے ہیں

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ عام طور پر بیرونی دنیا افریقہ کو ''مسائل کے تناظر میں'' دیکھتی ہے۔

انہوں نے یہ بات افریقن یونین کے ہیڈکوارٹر اور ایتھوپیا کے دارالحکومت میں بات کرتے ہوئے کہی جہاں وہ اقوام متحدہ اور افریقن یونین کی چھٹی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے ادیس ابابا میں پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''جب میں افریقہ کو دیکھتا ہوں تو مجھے امید اور امکان نظر آتا ہے۔ میں اس خطے کے ممالک کو امن اور ترقی کے فروغ کے لیے یہاں افریقن یونین سمیت ہر جگہ اکٹھے کام کرتے دیکھتا ہوں۔''

ان کا کہنا تھا کہ ''افریقہ کے نوجوانوں کی بے پایاں صلاحیتوں سے پورا کام نہیں لیا گیا اور ان پر توجہ دینے سے ''لامحدود صلاحیت'' اور ''سوچ کے نئے زاویے'' کڑے مسائل کا حل مہیا کر سکتے ہیں جس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اخلاقی دیوالیہ پن

خاص طور پر کووڈ ویکسین کی غیرمساوی تقسیم کے تناظر میں افریقہ کی بحالی کا عمل آگے نہیں بڑھ پایا جس کا سبب انہوں نے ''اخلاقی طور پر دیوالیہ عالمی مالیاتی نظام'' کو قرار دیا۔

قرضوں کی ادائیگی کے مسئلے سے دوچار بہت سے ممالک ترقی کرنے یا سرمایہ کاری سے قاصر ہیں جبکہ غذائی عدم تحفظ برقرار ہے جس سے شاخِ افریقہ کا علاقہ خاص طور پر شدت سے متاثر ہو رہا ہے جہاں 36 ملین لوگوں کو سنگین قحط کا سامنا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

بہت سے ممالک قرض کے چکر میں پھنسے ہیں جو انہیں ضروری نظام اور خدمات پر سرمایہ کاری سے روکتا ہے جبکہ غذائی عدم تحفظ پورے براعظم میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جن میں شاخِ افریقہ کے 36 ملین لوگ بھی شامل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں کے بدترین قحط کا شکار ہیں۔

اعتماد کی بحالی

انہوں ںے کہا کہ افریقہ کو ''اس تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے معمولی سی امداد مل رہی ہے۔''

گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''دنیا افریقہ پر انحصار کر رہی ہے۔ لیکن افریقہ دنیا پر انحصار نہیں کر سکتا۔ اس صورتحال کو تبدیل ہونا چاہیے۔ ہمیں اعتماد کی بحالی، ترقی کی رفتار میں غیرمعمولی اضافے اور افریقہ کے مستقبل کو مسائل کے ایسے حل سے جوڑنا ہے جن کی ہماری دنیا کو ضرورت ہے۔''

انہوں نے کہا کہ، سب سے پہلے افریقہ کو جمود کا شکار معیشتوں کو متحرک کرنے اور ترقی کے لیے نئی شراکتیں درکار ہیں۔ فوری مدد مہیا کرنے کے لیے ذرائع موجود ہیں لیکن انہیں پہلے سے کہیں بڑھ کر لچک اور رفتار سے کام میں لانے کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے مفید غیرمشروط سرمایے کی وصولی اور قرض کی ادائیگی میں آسانی اس کی مثال ہیں۔

دوسری بات یہ کہ افریقہ ''موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مدد کا مستحق ہے اور اسے اس مدد کی ضرورت ہے''۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ مہینے مصر میں 'کاپ 27' کے موقع پر نقصان اور تباہی سے نمٹنے کے لیے فنڈ کے قیام کی صورت میں موسمیاتی انصاف ممکن بنانے کے اقدام پر پیش رفت درکار ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ''موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مہیا کیے جانے والے مالی وسائل کو دگنا کر کے 40 ارب ڈالر تک لے جانے کا وعدہ پورا نہیں ہوا جبکہ صرف ذیلی۔صحارا افریقہ کو ہی اس مقصد کے لیے آئندہ دہائی میں اندازاً ہر سال 50 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

زیادہ پرامن صومالیہ میں زندگی معمول پر آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
UNSOM
زیادہ پرامن صومالیہ میں زندگی معمول پر آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ''افریقہ اکیلے یہ اخراجات برداش نہیں کر سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ہر سال 100 ارب ڈالر مہیا کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ عالمی مالیاتی نظام کے پورے ڈھانچے کی بھی اصلاح کرنا ہو گی۔

گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''میں موسمیاتی یکجہتی کے معاہدے کے لیے زور دیتا رہوں گا جس کے تحت ترقی پذیر معیشتوں کو تیز رفتار سے ''قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی اور عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کے ہدف کو دسترس میں رکھنے'' میں مدد دینے کے لیے مالیاتی اور تکنیکی مدد اکٹھی کی جانا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ افریقہ کو امن کی ضرورت ہے اور وہ اس کا مستحق بھی ہے کہ ساحل سے لے کر گریٹ لیکس تک اور خود افریقن یونین کے میزبان ملک کے شمالی علاقوں میں تنازعات بدستور جاری ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''آج ہم نے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا کہ ہمارے ادارے پورے براعظم میں امن کو یقینی بنانے کے لیے کیسے کام کر رہے ہیں۔ اس میں افریقن یونین کی ثالثی میں اختلافات کے خاتمے کے حالیہ معاہدے کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیگرےکے مسئلے پر ایک مذاکراتی تصفیے کے لیے مدد دینا بھی شامل ہے۔

ایتھوپیا کے علاقے ٹِگرے میں مسلح متحارب گروہوں میں لڑائی میں جل جانے والی گاڑی میں ایک بچہ کھیل رہا ہے۔
© UNICEF/ Christine Nesbitt
ایتھوپیا کے علاقے ٹِگرے میں مسلح متحارب گروہوں میں لڑائی میں جل جانے والی گاڑی میں ایک بچہ کھیل رہا ہے۔

'امن کا حصول آسان نہیں'

حالیہ مہینوں میں فوجی بغاوتوں کے تناظر میں سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''حکومت کی غیرآئینی طریقوں سے تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ مہذب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔''

انہوں نے کہا کہ ''مستحکم اور قابل اعتبار انداز میں مالی وسائل کی فراہمی کے ذریعے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ادارے کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت دیے گئے اختیار کے تحت افریقہ میں امن کا موثر اطلاق اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں ضروری ہیں۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ''امن کا حصول کبھی آسان نہیں رہا لیکن امن ہمیشہ ضروری رہا ہے۔ افریقہ کے لوگ امن، خوشحالی اور موسمیاتی انصاف کے حق دار ہیں جس کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ افریقن یونین کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔

قبل ازیں جمعرات کو سیکرٹری جنرل نے افریقن یونین کمیشن کے چیئرپرسن موسیٰ فقی مہمت کے ساتھ ایتھوپیا کے وزیراعظم ایبے احمد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انتونیو گوتیرش نے ایتھوپیا کے شمالی علاقے میں جنگ بندی کے حالیہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی غرض سے اپنے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کا پورا نظام تمام ضرورت مندوں کو انسانی امداد مہیا کرے گا۔