ایکواڈور میں دیسی خواتین کی آواز، جسم، اور علاقہ نامی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر لی گئی ایک تصویر۔

سال 2022 کا جائزہ: حقوق کے لیے لڑنے والی خواتین کے عزم کا اعتراف

UN Women Ecuador/Johis Alarcón
ایکواڈور میں دیسی خواتین کی آواز، جسم، اور علاقہ نامی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر لی گئی ایک تصویر۔

سال 2022 کا جائزہ: حقوق کے لیے لڑنے والی خواتین کے عزم کا اعتراف

خواتین

سالانہ جائزے پر مبنی اپنے مضامین کے آخر میں ہم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کے کام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں یہ حقوق 2022 میں بھی سارا سال حملوں کی زد میں رہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کھڑا ہونے میں عموماً اچھی خاصی جرات درکار ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کا عزم رکھتا ہے اور خواتین کو بدسلوکی سے تحفظ دینے، ان کی صحت سے متعلق اقدامات میں تعاون کرنے اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے دنیا بھر میں کارکنوں اور اداروں کے ساتھ انتھک کام کرتا ہے۔

افغان طالبات ہرات میں یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں حصہ لیتے ہوئے (فائل فوٹو)۔
UNAMA/Fraidoon Poya
افغان طالبات ہرات میں یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں حصہ لیتے ہوئے (فائل فوٹو)۔

طالبان کے زیراقتدار افغانستان میں خواتین کی حالت

اگست 2022 میں طالبان کی جانب سے افغانستان کے اقتدار پر دوسری مرتبہ قبضے کو ایک سال مکمل ہوا۔ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بڑے پیمانے پر خدشات نے جنم لیا جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں طالبان کی حکومت میں بری طرح سلب کر لیے گئے تھے۔

طالبان کی موجودہ حکومت کو بارہ ماہ مکمل ہونے کے بعد 'یو این ویمن' نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ دنیا میں واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ہائی سکول میں جانے سے روک دیا گیا ہے اور ان کے سیاسی عمل میں شرکت پر بھی موثر طور سے پابندی ہے۔

طالبان کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر ہم نے بعض ایسی افغان خواتین کی داستانیں بیان کیں جنہوں نے اپنی زندگیاں بری طرح متاثر ہونے کے باوجود ملک میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

ان میں زرینہ بھی شامل ہیں جو افغانستان کی کم عمر ترین کاروباری خاتون رہ چکی ہیں۔ طالبان کی حکومت آنے کے بعد خواتین کے ملکیتی کاروباروں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے باعث وہ اپنا بیکری کا ترقی کرتا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

قیام امن اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نسیمہ کو اپنے بیشتر منصوبے بند کرنا پڑے تاہم بعد میں وہ بعض اقدامات کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہیں۔ معمر افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی محبوبہ سراج نے اپنا کام جاری رکھنے اور اپنے ملک میں پیش آنے والے واقعات کا گواہ بننے کا فیصلہ کیا۔

جو لوگ انسانی حقوق کے معاملے میں افغانستان کو ایک غیرمعمولی معاملہ سمجھتے ہیں ان کے لیے محبوبہ سراج کا سنجیدہ پیغام یہ ہے کہ ''افغانستان میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں رو وی ویڈ (وہ مقدمہ جس میں امریکہ میں لوگوں کو استقاط حمل کا آئینی حق دیا گیا اور جسے سپریم کورٹ نے 2022 میں ختم کر دیا تھا) نے سالہا سال کی کامیابیوں پر پانی پھیر دیا اور خواتین کے اپنے جسم پر حقوق سلب کر لیے۔ ہر جگہ خواتین کے حقوق چھینے جا رہے ہیں اور اگر ہم نے احتیاط سے کام نہ لیا تو پوری دنیا کی خواتین کو اسی صورتحال کا سامنا ہو گا۔''

(شناختیں چھپانے کے لیے نام تبدیل کیے گئے ہیں)

ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کی تحویل میں بائیس سالہ مھاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک احتجاجی مظاہرہ
Unsplash/Artin Bakhan
ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کی تحویل میں بائیس سالہ مھاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک احتجاجی مظاہرہ

مہاسا امینی: ایران میں وسیع پیمانے پر پھیلے احتجاج کی محرک

نومبر میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق 'او ایچ سی ایچ آر' نے ایران میں حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں سے روا رکھے گئے سرکاری سلوک کی مذمت کی۔ یہ مظاہرے مہاسا امینی نامی ایک نوجوان خاتون کی موت کے بعد شروع ہوئے تھے جو ستمبر میں مناسب طریقے سے حجاب نہ اوڑھنے کی پاداش میں نام نہاد اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد حراست میں دم توڑ گئی تھیں۔

ان کی موت کے بعد ایران کے بہت سے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے جن میں ہائی سکول جانے کی عمر کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ ایران کی حکومت نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر لیا جن میں خواتین، بچے، نوجوان اور صحافی بھی شامل تھے۔

22 نومبر کو 'او ایچ سی ایچ آر' نے بتایا کہ ایک ہی ہفتے کے دوران مظاہروں میں شریک 40 افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں دو نوجوان بھی شامل تھے اور اس سے دو روز کے بعد انسانی حقوق کونسل نے ان مظاہروں کے حوالے سے حقائق جاننے کے لیے ایک مشن تشکیل دیا۔

اس مشن کی حمایت میں رائے دینے والے ارکان کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کا کہنا تھا کہ ''بچوں کو ہلاک کیے جانے، سڑکوں پر خواتین سے مار پیٹ اور لوگوں کو سزائے موت دیے جانے سمیت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے۔''

مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کی سخت کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی عالمی مذمت کا اظہار اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے ارکان کے ایک فیصلے سے بھی ظاہر ہوا جس کے تحت 14 دسمبر کو ایران کو خواتین کی صورتحال پر کمیشن (سی ایس ڈبلیو) سے خارج کر دیا گیا۔

سی ایس ڈبلیو کا سالانہ اجلاس مارچ میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہوتا ہے اور اسے دنیا بھر میں صںفی مساوات کے حامیوں کا سب سے بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ کی پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں 29 اور مخالفت میں آٹھ ووٹ آئے جبکہ 16 ممالک رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔

زمبیا میں خواتین اپنی مدد آپ کے تحت زرعی شعبے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
© UNICEF/Karin Schermbrucker
زمبیا میں خواتین اپنی مدد آپ کے تحت زرعی شعبے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

موسمیاتی بحران سے نمٹتی خواتین

خواتین اور لڑکیاں موسمیاتی بحران سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہوتی رہی ہیں۔ 6 مارچ کو منائے جانے والے خواتین کے عالمی دن سے پہلے آنے والے ہفتوں میں ہم نے ایسے طریقوں پر روشنی ڈالی جن کے ذریعے خواتین کارکن اپنے مقامی ماحول کو بہتر بنا سکتی ہیں اور اپنے لوگوں کو شدت اختیار کرتے نقصان دہ موسم کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ان خواتین میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والی وائلن نواز مارتھا کورزو بھی شامل ہیں جنہوں نے تقریباً 17,000 مقامی ماحولیاتی کارکنوں کے ایک گروہ کی قیادت کی اور اسے تحریک دی جس نے خود کو ملک کے دور دراز اور خوبصورت علاقے سیرا گورڈا کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ نائیجر میں خواتین کے ایک گروہ نے سبزیوں اور پھلوں کا ایک باغ اگا کر علاقے کو بنجر ہونے سے روکنے کے کام میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کو ایک ساتھ اکٹھا کیا۔ اسی طرح کینیا میں ایک مکینیکل انجینئر کو قابل عمل اور ارزاں توانائی کے حصول کے طریقے وضع کرنے کے لیے صنفی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنا پڑی۔

مئی میں کیمرون سے تعلق رکھنے والی کارکن سسیل اینجیبٹ کی جانب سے جنگلوں پر انحصار کرنے والے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے ہوئے انہیں 2022 کے وینگاری میتھائی فاریسٹ چیمپیئنز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں یہ اعزاز دیے جانے کی تقریب کی صدارت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کی۔

کیمرون میں اندازاً 70 فیصد خواتین دیہی علاقوں میں رہتی ہیں اور روزگار کے لیے کم از کم جزوی طور پر ان کا انحصار جنگلی پیداوار پر ہوتا ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں خواتین جنگلی زمین کی مالک نہیں بن سکتیں، اگر ان کا شوہر وفات پا جائے تو ورثے میں اس کی زمین کی ملکیت حاصل نہیں کر سکتیں حتیٰ کہ بنجر زمین پر درخت بھی نہیں اگا سکتیں۔

اعزاز وصول کرنے کی تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ ''مرد خاندان کا طرز زندگی بہتر بنانے میں خواتین کے کردار کو عموماً تسلیم کرتے ہیں لیکن ''ان کے لیے یہ بات تسلیم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ خواتین کو اپنا یہ کردار ادا کرنے اور اسے مزید بڑھانے کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں زمین اور جنگلات تک محفوظ رسائی درکار ہے۔''

امن مشن میں خواتین

اقوام متحدہ کی امن فورس اور پولیس میں شامل خواتین دنیا کے بعض خطرناک ترین علاقوں میں نمایاں طور سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ خواتین بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور سلامتی کی بگڑتی صورتحال میں دہشت گردوں کے حملوں اور کووڈ۔19 کے دور میں غلط اور گمراہ کن اطلاعات میں اضافے سے جنم لینے والے تشدد جیسے خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔

مئی میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے عالمی دن پر زمبابوے کی میجر وِنیٹ زارارے کو 'ملٹری جینڈر ایڈووکیٹ آف دی ایئر ایوارڈ' سے نوازا گیا۔ انہیں یہ اعزاز جنوبی سوڈان میں ان کے کام کے اعتراف میں دیا گیا جہاں انہوں نے صنفی مساوات اور خواتین کے فیصلہ ساز اور رہنما کردار کے فروغ کے لیے بھرپور کام کیا۔

انہیں یہ اعزاز دیے جانے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ''ان کی تندہی اور سفارتی صلاحیتوں نے مختصر وقت میں ہی مقامی فوجی کمانڈروں کا اعتماد حاصل کر لیا جو خواتین کے حقوق اور تحفظ پر ان سے رہنمائی لیتے رہے۔ ان کے طریق کار سے 'یو این ایم آئی ایس ایس' کو مقامی لوگوں سے مضبوط روابط قائم کرنے اور اپنے مقصد کی انجام دہی میں مدد ملی۔''

جولائی میں جنوبی سوڈان میں منعقدہ تاریخی تقریب کے موقع پر متعدد خواتین سمیت لائبیریا سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے پہلے امن اہلکاروں کے ارکان کو باوقار 'یو این میڈل' دیا گیا۔

ان کی کامیابی لائبیریا کی قسمت میں بہت بڑی تبدیلی کی علامت تھی جس نے 1990 کی دہائی اور پھر 2000 کی دہائی کے اوائل میں خوفناک خانہ جنگی کا سامنا کیا جس کے بعد وہاں جنگ بندی عمل میں آئی۔ جنگ بندی کی نگرانی ملک میں اقوام متحدہ کے مشن 'یو این ایم آئی ایل' نے کی جس نے وہاں امدادی اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں بھی تعاون کیا اور سکیورٹی سے متعلق قومی اصلاحات میں مدد دی جس میں قومی پولیس کی تربیت اور ایک نئی فوج کا قیام بھی شامل تھا۔

یو این پولیس (یو این پی او ایل) کی افسر الفریڈا ڈینیس سٹیوارٹ نے کہا ہے کہ ''خدمت کا عملی کام کرنے والے ہم لوگوں کے لیے 14 سالہ خانہ جنگی اور اقوام متحدہ کے امن مشن کے اثرات حقیقی اور واضح ہیں۔ ہمیں امن اہلکاروں سے بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور اب نیلے جھنڈے تلے اس نوجوان قوم کے ساتھ خدمات انجام دینا ہمارے لیے اعزاز ہے۔''

ایمپلیفائی ہر
United Nations

ایمپلی فائی ہر: غیرمعمولی خواتین فنکاروں کے کام کا اعتراف

آخر میں ہم آپ سے کہتے ہیں کہ یواین پوڈ کاسٹ کی نئی سیریز 'ایمپلی فائی ہر' کو سبسکرائب کریں جس میں دنیا بھر سے بعض انتہائی دلچسپ خواتین گلوکار کے کام اور متاثر کن کیریئر کا اعتراف کیا جاتا ہے۔

بہت سی خواتین سماج میں خود کو درپیش مسائل کا سامنا کرتے ہوئے اور بعض اوقات ان سے تحریک پاتے ہوئے فن تخلیق کرتی ہیں خواہ ان مسائل کا تعلق عدم تحفظ، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات سے ہو یا یہ محض ان کی صنف سے متعلق ہوں۔

ایمپلی فائی ہر میں ہم باصلاحیت خواتین گلوکاروں سے موسیقی کے شعبے میں ان کے تجربات کو انہی کی زبانی براہ راست سنتے ہیں جن میں نوعمر تھائی ریپر ملی سے ای ڈی ایم پاور ہاؤس فوزیہ اور انقلاب تیونس کی آواز امل سمیت بہت سی فنکارائیں شامل ہیں۔

آپ ایمپلی فائی ہر کو ایپل پوڈ کاسٹ، سپوٹیفائی، کاسٹ باکس، ساؤنڈ کلاؤڈ یا ہر اس جگہ تلاش کر سکتے ہیں جہاں سے آپ اپنی پوڈ کاسٹ حاصل کرتے ہیں۔