موسمیاتی مسائل پر کانفرنس کاپ 27 کے موقع پر مصر کے شہر شرم الشیخ میں مظاہرین صنعتی ملکوں سے ماحول خراب کرنے کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سال 2022 کا جائزہ: ہنگام کے باوجود بین الاقوامی موسمیاتی معاہدوں پر استقامت دکھائی گئی

UN News/Laura Quiñones
موسمیاتی مسائل پر کانفرنس کاپ 27 کے موقع پر مصر کے شہر شرم الشیخ میں مظاہرین صنعتی ملکوں سے ماحول خراب کرنے کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سال 2022 کا جائزہ: ہنگام کے باوجود بین الاقوامی موسمیاتی معاہدوں پر استقامت دکھائی گئی

موسم اور ماحول

تباہ کن موسمی واقعات میں انسانی سرگرمی کے کردار اور یوکرین میں جنگ کے باعث ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا واضح ثبوت ہونے کے باوجود گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے موسمیاتی ہنگامی صورتحال کو اس سال اپنے بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھا اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مالی وسائل جمع کرنے اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق بڑے معاہدے کیے ہیں۔

2021 کے اختتام پر جب موسمیاتی مسئلے پر اقوام متحدہ کی کانفرنس (کاپ26) گلاسگو میں ختم ہوئی تو وہاں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یوکرین میں جنگ عالمی معیشت کو ہنگامی حالات سے دوچار کر دے گی جس کے نتیجے میں بہت سے ممالک اپنی معیشت میں کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے وعدوں پر عملدرآمد معطل کر دیں گے کیونکہ انہیں روس سے آنے والے تیل اور گیس پر اپنا انحصار  کم کرنے اور دوسری جگہوں سےمعدنی ایندھن کے حصول کی جدوجہد کرنا پڑےگی۔

تاہم بہت سے جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ جاری ہے اور انسان کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور موسمیاتی ہنگامی حالات کے موجودہ خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔

ان حالات کے باوجود اقوام متحدہ موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے طے کرنے کے سست رو، محنت طلب مگر ضروری کام میں جتا ہوا ہے اور بڑی معیشتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ معدنی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں اور ترقی پذیر ممالک کو مدد دیں جن کے شہری انسان کی لائی موسمیاتی تبدیلی کا خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمی حالات کی صورت میں خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

جنگلوں میں لگی آگ نے امریکی شہر سان فرانسسکو کے آسمان کو سرخ کر دیا ہے۔
© Unsplash/Patrick Perkins
جنگلوں میں لگی آگ نے امریکی شہر سان فرانسسکو کے آسمان کو سرخ کر دیا ہے۔

گرمی کے شدید ترین ادوار، خشک سالی اور سیلاب

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے سال بھر نہایت واضح رپورٹیں جاری کی ہیں۔ جنوری میں جاری کردہ ایک جائزے میں کہا گیا کہ 2021 اب تک کے گرم ترین سالوں میں سے ایک تھا جس سے 2022 میں پیش آںے والے حالات کا اندازہ ہوتا تھا۔ 

موسم گرما میں جب متعدد یورپی ممالک میں اب تک کی شدید ترین گرمی کا مشاہدہ کیا گیا تو ادارے نے خبردار کیا کہ ہمیں آنے والے چند برسوں میں مزید گرمی کے لیے تیار رہنا ہو گا جبکہ افریقہ کو بدترین غذائی بحران کا سامنا ہو گا جس میں شاخِ افریقہ کا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ ان حالات میں لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے اور براعظم میں ہر پانچ میں سے چار ممالک ممکنہ طور پر پانی کے ذرائع کو مستحکم طور سے سنبھالنے میں ناکام رہیں گے۔

جہاں بعض ممالک کو پانی کی قلت کا سامنا ہوا وہیں بہت سے ایسے بھی تھے جہاں تباہ کن سیلاب آئے۔ پاکستان میں اگست میں مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آنے اور پہاڑی تودے گرنے کے بعد قومی سطح پر ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیرآب آ گیا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔

اگست میں چاڈ میں اب تک کے بے مثل سیلاب سے تین لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے اعلان کیا کہ مغربی اور وسطی افریقہ میں تقریباً 34 لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے جو اس دہائی کے بدترین سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

معدنی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
© Unsplash/Ella Ivanescu
معدنی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

معدنی ایندھن کی لت کا ’مغالطہ‘

ڈبلیو ایم او نے اکتوبر میں اپنے 'گرین ہاؤس گیس بلیٹن' میں فضائی آلودگی کی ذمہ دار تین بڑی گیسوں 'کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ اور میتھین' کی ریکارڈ سطحوں کے بارے میں بتایا کہ اس سال فضا میں ان گیسوں کا جتنا ارتکاز ہوا اس کی گزشتہ 40 سال میں کوئی مثال نہیں ملتی اور موسمیاتی تبدیلی میں انسانی سرگرمی کا سب سے بڑا کردار ہے۔

تاہم کم کاربن خارج کرنے والی معیشت کی جانب منتقلی کی فوری ضرورت کے باوجود دنیا کی بڑی معیشتوں نے یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر جانے والے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے توانائی پیدا کرنے والی پرانی تنصیبات کا رخ کیا اور تیل وگیس کے نئے فراہم کنندگان کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ان کے اس ردعمل کی مذمت کی اور جون میں آسٹریلیا میں ہونے والی موسمیاتی کانفرنس میں اسے مغالطہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ماضی میں قابل تجدید توانائی پر سرمایہ کاری کی ہوتی تو یہ ممالک معدنی ایندھن کی منڈیوں میں قیمتوں کے عدم استحکام کے منفی اثرات سے بچ سکتے تھے۔

اسی مہینے واشنگٹن ڈی سی میں توانائی سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیرش نے معدنی ایندھن کی صںعت کے طرزعمل کا بیسویں صدی کے وسط میں تمباکو کی بڑی کمپنیوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ''تمباکو میں مفادات رکھنے والوں کی طرح معدنی ایندھن میں مفادات رکھنے والے عناصر اور ان کے مالیاتی ساتھیوں کو ذمہ داری سے بچنا نہیں چاہیے۔ داخلی مسائل پر قابو پانے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو ایک جانب رکھنے کی دلیل بھی کھوکھلی ہے۔''

بھوٹان کے پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لڑکیاں۔
UN Bhutan
بھوٹان کے پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لڑکیاں۔

صاف، صحت مند ماحول عالمگیر انسانی حق ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے جولائی میں صاف اور صحت مند ماحول کو عالمگیر انسانی حق قرار دینے کے اعلان کی ایک اہم سنگ میل کے طور پر ستائش کی گئی جو 2021 میں انسانی حقوق کونسل کی جانب سے منظور کردہ ایسی ہی دستاویز کا تسلسل تھا۔

انتونیو گوتیرش نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت ماحولیاتی ناانصافیوں کو کم کرنے، ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خامیوں کو دور کرنے اور لوگوں کو بااختیار بنانے میں مدد دے گی جن میں خاص طور پر ماحولیاتی انسانی حقوق کے محافظین، بچے، نوجوان، خواتین اور مقامی باشندے شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابل زیادہ غیرمحفوظ ہوتے ہیں۔

اکتوبر میں اس اقدام کی اہمیت موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے پہلے خصوصی اطلاع کار ایان فرے نے بھی واضح کی۔ فرے نے یو این نیوز کو بتایا کہ اس قرارداد کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں کہ یورپی یونین اس بات پر تبادلہء خیال کر رہی ہے کہ اسے قومی سطح پر قانون سازی اور آئین کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

مونگے مچھلیوں اور دوسری آبی حیات کے لیے ٹھکانوں کا کام کرتے ہیں۔
© Ocean Image Bank/Matt Curnock
مونگے مچھلیوں اور دوسری آبی حیات کے لیے ٹھکانوں کا کام کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں طے پانے والے اہم معاہدے

اس سال موسمیاتی امور پر اقوام متحدہ کی تین اہم کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں جون میں سمندری کانفرنس، نومبر میں کاپ 27 موسمیاتی کانفرنس اور طویل تاخیر سے دسمبر میں ہونے والی کاپ 15 کانفرنس شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے نے موسمیاتی صورتحال پر محض بیانات دینے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے سے کہیں بڑھ کر کامیابی حاصل کی۔

ان میں سے ہر موقع پر ماحول کو تحفظ دینے اور انسانی سرگرمی کے نتیجے میں اسے ہونے والے نقصان اور تباہی میں کمی لانے کے لیے بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد کے لیے پیش رفت کی گئی۔

سمندری کانفرنس میں اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا اور نئے تصورات سامنے لائے گئے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے سمندروں کو درپیش عالمگیر ہنگامی صورتحال کا اعتراف کیا اور اس بارے میں فوری قدم اٹھانے، ہر سطح پر باہمی تعاون اور جلد از جلد تمام تر اہداف کے حصول کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔

اس کانفرنس میں 6,000 سے زیادہ شرکا بشمول 24 سربراہان ریاست و حکومت اور سول سوسائٹی کے 2,000 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی جنہوں ںے سمندری بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی حمایت کی۔

انہوں نے زور دیا کہ سائنس کی بنیاد پر اور اختراعی اقدامات نیز بین الاقوامی تعاون اس مسئلے کے ضروری حل میں لازمی اہمیت رکھتے ہیں۔

نوجوان مظاہرین موسمیاتی تباہی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
UN News/Laura Quiñones
نوجوان مظاہرین موسمیاتی تباہی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

'نقصان اور تباہی' کے ازالے کا فنڈ، ترقی پذیر ممالک کی کامیابی

موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی کانفرنس کاپ 27 کا انعقاد نومبر میں مصر میں ہوا۔ بظاہر یہ کانفرنس کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوتی دکھائی دی کیونکہ اس میں ہونے والی بات چیت کانفرنس کا وقت ختم ہو جانے کے باوجود جاری رہی۔

تاہم مذاکرات کاروں نے کسی طرح ناصرف کانفرنس کے نتائج سے متعلق دستاویز کے مندرجات پر اتفاق کر لیا بلکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مقابل انتہائی غیرمحفوظ ممالک کو موسمی وجوہات کی بنا پر آںے والی قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصان اور تباہی کے ازالے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا طریقہ کار طے کرنے پر بھی متفق ہو گئے۔

یہ ممالک دہائیوں سے ایسی سہولت کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے لہٰذا اس اتفاق رائے کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر ستائش کی گئی۔ اب آنے والے مہینوں میں یہ تفصیلات طے کی جانا ہیں کہ یہ طریقہ کار کیسے کام کرے گا اور اس سے کون فائدہ اٹھائے گا۔

تاہم دیگر اہم امور خصوصاً معدنی ایندھن کا استعمال بتدریج ختم کرنے اور عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کی ضرورت سے متعلق اعلامیے میں کڑے الفاظ کا انتخاب کرنے پر زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

ملائیشین ٹائیگر جس کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
UNDP
ملائیشین ٹائیگر جس کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔

مانٹریال میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اضافے کا وعدہ

کووڈ۔19 وبا کے باعث دو سالہ تاخیر اور التوا کے بعد بالاآخر حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کی پندرھویں کانفرنس کاپ 15 اس سال دسمبر میں مانٹریال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اختتام 30 فیصد زمین، ساحلی علاقوں اور خشکی میں گھرے پانیوں کو اس دہائی تک تحفظ دینے کے معاہدے پر ہوا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی سربراہ انگر اینڈرسن نے اس کانفرنس کے نتیجے کو ''فطری دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی تجدید کی جانب پہلا قدم'' قرار دیا۔

دنیا میں حیاتیاتی تنوع خطرے میں ہے اور تقریباً دس لاکھ انواع کو معدومیت کا خطرہ درپیش ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ بحران مزید بڑھے گا اور اگر ہم فطرت کے ساتھ مزید بہتر انداز میں پیش نہ آئے تو انسانیت کے لیے اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

اس معاہدے کا باقاعدہ نام 'عالمگیر حیاتیاتی تنوع کے لیے کنمنگ۔مونٹریال فریم ورک' ہے جس میں متاثرکن وعدے کیے گئے ہیں تاہم اب انہیں عملی صورت دینے کی ضرورت ہے۔ یہ حیاتیاتی تنوع سے متعلق سابقہ کانفرنسوں میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے تاہم امید ہے کہ کاپ 15 کے موقع پر شروع کیا جانے والا ایک پلیٹ فارم ممالک کو ان وعدوں پر عملدرآمد کی رفتار بڑھانے اور اس خاکے میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں مدد دے گا۔