انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے ستترویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

سال 2022 کا جائزہ: بڑھتے تنازعات میں بین الاقوامی سفارتکاری امن کی 'واحد امید'

UN Photo/Mark Garten
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے ستترویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

سال 2022 کا جائزہ: بڑھتے تنازعات میں بین الاقوامی سفارتکاری امن کی 'واحد امید'

امن اور سلامتی

2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والی ہلچل اور دنیا کے تمام حصوں میں جنگ، تنازعات اور افراتفری کے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ نے بین الاقوامی بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور ایک نئے امن ایجنڈے کے لیے اپنے منصوبوں کا اعلان کیا۔

فروری 2022 میں اقوام متحدہ میں سفارت کاری کا بھرپور دور ہوا کیونکہ بڑی حد تک واضح ہو چکا تھا کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق یہ بحران ''پورے بین الاقوامی نظام'' کا امتحان لے رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ ''ہمیں تحمل اور معقولیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اِسی وقت تناؤ میں کمی لانا ہے۔'' انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ''ایسے اقدامات اور بیانات سے پرہیز کریں جن سے یہ خطرناک صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہو۔'' تاہم یہ مطالبات اکارت گئے اور جنگ شروع ہو گئی جسے روس نے ''خصوصی فوجی کارروائی'' قرار دیا۔

بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رفائل ماریناؤ یوکرین کے زیپوریزیا جوہری پلانٹ کا معائنہ کرتے ہوئے۔
© IAEA
بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رفائل ماریناؤ یوکرین کے زیپوریزیا جوہری پلانٹ کا معائنہ کرتے ہوئے۔

یوکرین جنگ: خوراک سے ایندھن اور جوہری خطرے تک

یہ تنازع یوکرین اور روس پر جنگ کے براہ راست اثرات سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔ عالمی سطح پر ایندھن اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت 'یو این سی ٹی اے ڈی' نے جنگ کو عالمگیر معاشی گراوٹ کا ایک بڑا سبب قرار دیا جبکہ دنیا تاحال کووڈ۔19 وبا کے اثرات سے نکل نہیں پائی۔ 

جب جنوب مشرقی یوکرین میں یورپ کا سب سے بڑا جوہری مرکز زیپوریزیا پلانٹ روس کی فوج کے قبضے میں آیا تو 1986 ہونے والے چرنوبل جوہری دھماکے کی تاریک یادیں تازہ ہو گئیں۔

جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (آئی اے ای اے) نے اس حملے کے ممکنہ تباہ کن نتائج کے بارے میں خبردار کیا اور پلانٹ کی تشویشناک صورتحال اور ری ایکٹروں کےقریب ہونے والی گولہ باری پر تشویش کا اظہار کیا۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے نومبر میں جوہری پلانٹ کے قرب و جوار میں ہونے والی لڑائی کو ''آگ سے کھیلنے'' کے مترادف قرار دیا۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی ادارہِ خوراک کے مال بردار بحری جہاز کو یوکرین سے اناج اٹھانے کے لیے استنبول سے روانہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی ادارہِ خوراک کے مال بردار بحری جہاز کو یوکرین سے اناج اٹھانے کے لیے استنبول سے روانہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

اناج کی ترسیل کا معاہدہ: 'انسانی مصائب میں کمی کے لیے امید کی کرن'

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر کامیابی سے عملدرآمد کرانا بلاشبہ اس سال اقوام متحدہ کی سفارت کاری ایک اہم مثال تھی۔ اس معاہدے کے تحت جولائی میں یوکرین کی بندرگاہوں سے برآمدات بحال ہو گئیں اور روس میں پیدا ہونے والی خوراک اور کھادوں کے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ان اقدامات کی بدولت دنیا بھر میں اناج، کھانے کے تیل، ایندھن اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم کرنے میں مدد ملی۔

انتہائی احتیاط سے متوازن کیے گئے اس معاہدے میں ترکیہ کے شہر استنبول میں مشترکہ رابطہ مرکز کا قیام بھی شامل تھا جس میں یوکرین، روس اور ترکیہ کے نمائندے یوکرین کی تین بندرگاہوں کے ذریعے جہازوں پر سامان لادے جانے کی نگرانی کرتے ہیں۔

چونکہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھی ہیں اس لیے یوکرین کے بحری جہاز اناج سے لدے جہازوں کی بحیرہ اسود میں رہنمائی کرتے ہیں جس کے بعد یہ جہاز آبنائے باسفورس کے راستے طے شدہ سمندری راہداری کے ذریعے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یوکرین اور روس کے مابین اعتماد کے فقدان اور جنگ بندی کے امکانات کی غیرموجودگی کے ہوتے ہوئے غالباً سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ نومبر میں اس معاہدے میں مزید 120 یوم کی توسیع کر دی گئی۔ تب سے اب تک ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زیادہ ضروری خوراک یوکرین سے بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کے دیگر حصوں میں بھیجی جا چکی ہے جس سے خوراک کی قیمتوں میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے۔

مالی میں یو این امن مشن کا ایک سپاہی ملک کے شمالی علاقے کدال میں گشت کرتے ہوئے۔
MINUSMA/Gema Cortes
مالی میں یو این امن مشن کا ایک سپاہی ملک کے شمالی علاقے کدال میں گشت کرتے ہوئے۔

افریقہ: سوڈان اور ایتھوپیا میں امن کی امید، کانگو اور مالی میں تنازعات جاری

اس سال افریقہ کے متعدد ممالک میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں نے خود خطرات کا سامنا کرتے ہوئے لوگوں کو تشدد سے تحفظ دیا۔ 

اس سال ثابت ہوا کہ امن اہلکاروں کی تعیناتی کے حوالے سے مالی دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ وہاں شہریوں کے قتل عام اور سلامتی کی بگڑتی صورتحال کی اطلاعات کے ہوتے ہوئے تقریباً ہر مہینے امن فورس پر حملے ہوئے جن میں اس کے اہلکار ہلاک و زخمی ہوتے رہے۔

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) شدت پسند گروہوں کے حملوں اور مقامی لوگوں کے باہمی تشدد کی زد میں رہا جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ کانگو میں سال بھر سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے اور ایک مرتبہ پھر امن اہلکاروں نے قربانیاں دیں۔ جولائی میں شورش زدہ علاقے شمالی کیوو میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ کے مشن کے مرکز پر ہونے والے ایک حملے میں امن فورس کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سوڈان سے ایک اچھی خبر آئی جہاں 2021 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد نئے سال کا آغاز سیاسی بے چینی سے ہوا۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو سخت کارروائیوں کا ہدف بنایا جاتا رہا اور اقوام متحدہ نے طاقت کے بے جا استعمال کی مذمت کی جس کے باعث بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم دسمبر تک انتونیو گوتیرش شہری اور فوجی قیادت کے مابین ایک امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو گئے اور سوڈان میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے اعلان کیا کہ وہ عبوری دور میں ایک امدادی پیکیج کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

ایتھوپیا کے علاقے ٹیگرے میں شدید لڑائی کے بعد تنازعے کو حل کرنے کی کوششیں مارچ میں جنگ بندی پر منتج ہوئیں۔ اس سے تشدد یا شورش سے جنم لینے والے انسانی بحران کا خاتمہ تو نہیں ہو سکا تاہم انتونیو گوتیرش نے نومبر میں طے پانے والے معاہدے کو دو سالہ خوفناک خانہ جنگی کے خاتمے کی جانب ''پہلا اہم قدم'' قرار دیا۔

شام کے شہر الیپو میں تباہ حال عمارتیں جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔
© UNICEF/Ninja Charbonneau
شام کے شہر الیپو میں تباہ حال عمارتیں جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔

مشرق وسطیٰ: دیرینہ تنازعات کے فوری خاتمے کا امکان معدوم

مارچ میں شام میں خوفناک خانہ جنگی کو گیارہواں سال شروع ہونے پر انتونیو گوتیرش نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ شام کے لوگوں کی امیدوں پر پورا اترے۔ اس خانہ جنگی میں اب تک 307,000 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں اس سال کا اختتام عسکری کارروائیوں میں اضافے پر ہوا جبکہ امن معاہدے کا کوئی امکان دکھائی نہ دیا، البتہ ملک کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن نے اس تنازعے کے شام اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے فریقین سے ملاقاتیں جاری رکھیں تاکہ جمود توڑنے کے لیے اس مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔

یمن میں تباہ کن جنگ کو اب ساتواں سال ہے جو وہاں کے لوگوں کو بے رحمانہ طور سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اپریل میں جب اقوام متحدہ کی کاوشوں سے چھ سال میں پہلی مرتبہ ملک گیر جنگ بندی ہوئی تو حالات بہتر ہونے کی امید بندھی تھی۔ تاہم یہ جنگ بندی اکتوبر میں ختم ہو گئی جس کے بعد غیریقینی حالات کا نیا دور شروع ہو گیا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہینز گرنڈبرگ نے اکتوبر میں سلامتی کونسل کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی ایک امن معاہدہ ممکن ہے تاہم جتنا کچھ داؤ پر لگا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس موقع کو ہاتھ سے مت کھوئیں۔ جلد از جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے فریقین کو قیادت، سمجھوتے اور لچک کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

2022 کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے بہت کم پیش رفت ہوئی اور مغربی کنارے اور اسرائیل میں 150 سے زیادہ فلسطینی اور 20 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ٹور وینزلینڈ نے دونوں اطراف شہریوں کے خلاف تشدد میں تیزی سے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے تنازعے کے پرامن حل کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔

وینزلینڈ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آبادکاری کی تمام سرگرمیاں اور فلسطینیوں کی ملکیتی املاک کا انہدام روک دے اور لوگوں کو گھروں سے بے دخل کیے جانے کے امکانات کی روک تھام کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ''بڑے پیمانے پر قبضے، تشدد اور دہشت گردی میں اضافے اور سیاسی اقدامات کی عدم موجودگی میں انتہاپسند طاقتور ہو گئے ہیں جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں اس تنازعے کا حل قابل حصول ہونے کی امید کو ختم کیے دیتے ہیں۔''

ہیٹی میں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Roger LeMoyne and U.S. CDC
ہیٹی میں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

براعظم امریکہ: ہیٹی تباہی کے دھانے پر، کولمبیا پائیدار امن کے حصول کے قریب

2022 میں ہیٹی میں امن کی صورتحال انتہائی حد تک خراب ہو گئی۔ عملی طور پر دارالحکومت پورٹ او پرنس میں کوئی جگہ محفوظ نہیں تھی اور متحارب مسلح جتھے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لڑتے اور آسرا لوگوں کو دہشت زدہ کرتے رہے جو پہلے ہی انسانی تباہی کے دوران اپنی بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اکتوبر میں ملک میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ہیلن لا لیما نے سلامتی کونسل کی جانب سے مسلح جتھوں کے سربراہوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف منظور کردہ پابندیوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اگر ہیٹی کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکل بھی آئے تو یہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔

لالیما نے ہیٹی کے لیے خصوصی فوج کو متحرک کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا جبکہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ لنڈا تھامس۔گرین فیلڈ نے اکتوبر میں سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ اور میکسیکو ایک قرارداد پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت ''اقوام متحدہ سے ہٹ کر ایک بین الاقوامی سلامتی مشن'' تشکیل دیا جائے گا جو ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی میں مدد دے گا۔

ایسے مثبت آثار دکھائی دیے ہیں کہ دہائیوں تک خانہ جنگی کا سامنا کرنے والا ملک کولمبیا پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہونے کو ہے۔

کولمبیا کی حکومت اور فارک باغیوں کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخط سے چھ سال کے بعد 2022 میں بھی ملک میں لڑائی ہوتی رہی اور جولائی میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر نے ملک کی نئی حکومت کو بڑھتے ہوئے تشدد پر قابو پانے کو کہا جس کی شدت دیہی علاقوں میں زیادہ نمایاں تھی۔

اکتوبر تک کولمبیا میں اقوام متحدہ کا تصدیقی مشن سلامتی کونسل کو قابل اعتماد انداز میں یہ بتانے کے لیے تیار تھا کہ ملک میں ایک پائیدار امن معاہدے پر مکمل اور حتمی طور سے عملدرآمد کی جانب پیش رفت کی بہت زیادہ توقعات ہیں۔ مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ''میں پرامید ہوں کہ کولمبیا ایک مرتبہ پھر دنیا پر ثابت کر سکتا ہے کہ بات چیت کے علاوہ تنازعات کے حل کے لیے کوئی اور بہتر متبادل نہیں ہے۔''

اقوام متحدہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
UNAMA/Iason Nikolas Foounten
اقوام متحدہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایشیا: کوریا میں جوہری تناؤ، افغانستان میں حملے

افغانستان کے معاملے میں بیشتر توجہ طالبان حکومت کے تحت خواتین کے حقوق سلب کیے جانے کے معاملے پر مرکوز رہی تاہم سلامتی کے حوالے سے مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

افغانستان کے لوگوں کو اپریل میں سکولوں میں بم دھماکوں سےلے کر اگست میں ایک مسجد پر بم حملے تک دہشت گردی کے متعدد مہلک واقعات کا سامنا کرنا پڑا جن کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے لی جسے داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس گروہ نے روس اور پاکستان کے سفارت خانوں اور ایک ہوٹل پر بھی حملے کیے جس میں چین کے متعدد شہری قیام پذیر تھے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ روزا اوٹنبائیووا نے دسمبر میں اعلان کیا کہ طرفین کے اختلافی موقف کے باوجود اقوام متحدہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ طالبان کو کسی طرح کی سیاسی مخالفت کا سامنا نہیں ہے تاہم وہ ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں پر قابل اطمینان طور سے قابو پانے میں ناکام ہیں۔''

عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) معروف بہ شمالی کوریا نے 2022 میں میزائلوں کے تجربات جاری رکھے جس کی اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ ملک جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کو ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ مارچ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور انہوں نے اکتوبر میں جاپان کی فضا میں ایسے ہی ایک تجربے کو ''لاپرواہانہ اقدام'' قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں سیاسی اور قیام امن سے متعلق امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے نومبر میں سلامتی کونسل کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے ''سب سے بڑے اور سب سے طاقتور میزائل کا تجربہ کیا جو پورے شمالی امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''

ڈی کارلو نے بتایا کہ مجموعی طور پر شمالی کوریا نے میزائلوں کے تقریباً 60 تجربات کیے۔ انہوں نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ ''مزید اشتعال انگیز اقدامات سے پرہیز کرے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس کرے۔''

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سلامتی کونسل میں قیام امن کی کوششوں پر خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سلامتی کونسل میں قیام امن کی کوششوں پر خطاب کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا نیا امن ایجنڈا

2023 میں اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں ممکنہ طور پر امن کا وسیع تر موضوع نمایاں ہو گا جب ادارے کے سربراہ انتونیو گوتیرش رکن ممالک کے روبرو 'امن کے لیے نئے ایجنڈے' کی تفصیلات پیش کریں گے۔

سیکرٹری جنرل نے دسمبر میں سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دستاویز امن اور سلامتی کے لیے ادارے کے کام کی وضاحت کرے گی، تنازعات کی روک تھام کے لیے جامع طریق کار طے کرے گی، امن، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور غذائی تحفظ کو باہم جوڑے گی اور اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ اقوام متحدہ سائبر خطرات، اطلاعات کی جنگ اور دیگر طرح کے تنازعات سے کیسے نمٹ سکتا ہے۔ 

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ''ہمیں درپیش مسئلہ واضح ہے کہ 'ہم نے موثر انداز میں کام کرنے والے ایک نئے، نمائندہ اور شمولیتی کثیرفریقی طریق کار کے ذریعے آنے والی نسلوں کو ''جنگ کی لعنت'' سے بچانا ہے۔''