خسرے، پولیو سے بچاؤ کے لیے افغانستان میں لاکھوں بچوں کی ویکسینیشن
اگست 2021 میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان میں خسرے اور پولیو کے خلاف پہلی ملک گیر مہم کے دوران لاکھوں افغان بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کے مطابق افغانستان میں 26 نومبر سے 12 دسمبر تک جاری رہنے والی ویکسین مہم میں نو سے 59 ماہ تک عمر کے 53 لاکھ 60 ہزار بچوں کو خسرے کی ویکسین دی گئی جبکہ شیرخواروں سے 59 ماہ تک عمر کے 61 لاکھ بچوں کو پولیو کی ویکسین پلائی گئی۔
حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں افغانستان کی وزارت صحت عامہ کے توسیعی پروگرام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ مہم ملک کے تمام 34 صوبوں کے 329 اضلاع میں چلائی گئی جس میں حفاظتی ٹیکے لگانے والی چار ارکان پر مشتمل 4,341 ٹیموں نے حصہ لیا۔
افغانستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے لو ڈاپینگ نے کہا ہے کہ ''مجھے دلی خوشی ہے کہ ہم ایسے وقت میں افغان بچوں کو خسرے اور پولیو سے تحفظ دینے کے قابل ہوئے ہیں جب ملک میں شدید سردی کا موسم آ رہا ہے۔''
انہوں نے کہا کہ ''میں تمام طبی کارکنوں، شراکت داروں اور عطیہ دہندگان کا مشکور ہوں جنہوں نے اس مہم کا انعقاد ممکن بنایا۔''
خسرے کی وباء
خسرہ ایک خطرناک بیماری ہے جس کی پیچیدہ صورت شدید اسہال، جسم میں پانی کی کمی، نمونیے، کان اور آنکھ کی پیچیدگیوں، دماغی سوزش اور موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
اس سال افغانستان میں خسرے کی بہت سی وبائیں پھوٹنے کی اطلاعات آئی ہیں جن میں بیشتر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں پھیلیں۔
خسرے کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے اور حفاظتی ٹیکے لگوانا ہی اس بیماری کے خلاف قابل بھروسہ تحفظ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ڈاپینگ نے کہا کہ ''اگرچہ خسرہ انتہائی متعدی مرض ہے لیکن اس کی روک تھام ممکن ہے۔ ہمیں افغان بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے اور انہیں بیماریوں کے خلاف تحفظ دینے کے لیے سالہا سال کی پیش رفت کو ضائع ہونے نہیں دینا۔''
تحفظ کے پچاس سال
نومبر تک افغانستان میں خسرے کے 5,484 مریضوں کی تصدیق ہوئی جبکہ اس بیماری سے لگ بھگ 300 اموات کی اطلاعات سامنے آئیں۔
حفاظتی ٹیکوں کی ملک گیر مہم سے پہلے 141 اضلاع میں ذیلی قومی مہمات بھی چلائی گئیں جن میں تقریباً تیس لاکھ بچوں کو خسرے کی ویکسین دی گئی۔
ڈبلیو ایچ او کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ ''خسرے کی ویکسین محفوظ ہے اور اسے 50 سال سے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
ویکسین لگانے کے فوائد واضح ہیں، جیسا کہ شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے، گزشتہ 20 سال کے دوران دنیا بھر میں خسرے کی ویکسین نے دو کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ زندگیوں کو تحفظ دیا ہے۔
حفاظتی ٹیکوں کی مہم
ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ (یونیسف) نے ویکسین کی خریداری اور فراہمی نیز حفاظتی ٹیکوں سے متعلق رہنمائی اور اطلاعات پر مبنی مواد کی تیاری کے ذریعے افغانستان میں خسرے کے خلاف ویکسین مہم میں تعاون کیا۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے مہم کا انتظام کرنے، اس پر عملدرآمد اور یہ یقینی بنانے کے لیے طبی کارکنوں کی صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد دی کہ مقررہ عمر کے تمام بچوں کو خسرے اور پولیو کی موثر ویکسین کے ذریعے تحفظ دیا جا سکے۔
اس مہم کے لیے مالی مدد 'گاوی، دی ویکسین الائنس' نے مہیا کی ہے۔