انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران یورینیم کی ’تشویشناک‘ مقدار افزودہ کرنے میں مصروف: ڈی کارلو

روزمیری ڈی کارلو نے بتایا کہ ایران کی جوہری افزودگی پر دستیاب معلومات کا تجزیہ کیا جارہا ہے اور مناسب وقت پر اس حوالے سے رپورٹ جاری کر دی جائے گی۔
UN Photo/Loey Felipe
روزمیری ڈی کارلو نے بتایا کہ ایران کی جوہری افزودگی پر دستیاب معلومات کا تجزیہ کیا جارہا ہے اور مناسب وقت پر اس حوالے سے رپورٹ جاری کر دی جائے گی۔

ایران یورینیم کی ’تشویشناک‘ مقدار افزودہ کرنے میں مصروف: ڈی کارلو

امن اور سلامتی

ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں اس کی جوہری تنصیبات کا صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل کی 2015 میں منظور کردہ اہم قرارداد (2231) پر عملدرآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی ای ای اے کا حوالہ دیتے ہوئے، اقوام متحدہ میں سیاسی اور قیام امن کے امور سے متعلق شعبے کی نائب سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ایران جوہری افزودگی کے ایک پلانٹ پر نئے سینٹری فیوج نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے ایک اور پلانٹ پر 60 فیصد تک مزید افزودہ یورینیم پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ ادارے کا اندازہ ہے کہ اب ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے مجموعی ذخائر قراراد 2231 کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے 'مشترکہ جامع منصوبہء عمل' (جے سی پی او) کے تحت مقرر کی گئی مقدار سے اٹھارہ گنا زیادہ ہیں جبکہ اس کے پاس 60 فیصد تک افزودہ ''یورینیم کی تشویشناک مقدار'' بھی موجود ہے۔

ڈی کارلو نے کہا کہ آئی اے ای اے کی ایران میں جوہری تنصیبات کی موثر نگرانی اور ان کا بالخصوص پُرامن مقاصد کے لیے استعمال، جو کہ  جے سی پی او اے کا ایک بنیادی جزو ہے، یقینی بنانے کی صلاحیت ایران کی جانب سے ادارے کے نصب کردہ نگرانی کے آلات کو ہٹانے کے فیصلے کے بعد خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ڈی کارلو نے کہا کہ ''اس صورتحال میں ہم ایک مرتبہ پھر ایران سے کہتے ہیں کہ وہ جولائی 2019 کے بعد اب تک اٹھائے گئے اپنے اقدامات واپس لے جو کہ منصوبے کے تحت جوہری سرگرمیوں سے متعلق اس کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔'' انہوں ںے امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ معاہدے کے مطابق ایران پر پابندیاں اٹھائے یا انہیں نرم کرے اور ایران کے ساتھ تیل کی تجارت کے حوالے سے عائد کردہ پابندیوں میں چھوٹ دے۔

متضاد بیانات

اس کے بعد ڈی کارلو نے منصوبے میں بیلسٹک میزائلوں سے متعلق شرائط اور خاص طور پر ایران کی جانب سے اس سال جون اور نومبر میں خلائی راکٹوں کی دو تجرباتی پروازوں اور ستمبر میں اس کی جانب سے سامنے لائے جانے والے نئے بیلسٹک میزائل کے بارے میں بات کی۔

ان راکٹوں سے متعلق اقوام متحدہ کو موصول ہونے والی اطلاعات سے اس بارے میں فرانس، جرمنی، ایران، اسرائیل، روس، برطانیہ اور امریکہ کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں کہ آیا یہ تجربات اور دیگر سرگرمیاں قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں۔

ڈی کارلو نے اعلان کیا کہ اقوام متحدہ نے ایران کے جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں برطانوی بحریہ کی جانب سے قبضے میں لیے جانے والے کروز میزائل کے ٹکڑوں کا معائنہ کیا ہے جن کے بارے میں اس کا اندازہ ہے کہ ان کا تعلق ایران سے ہے اور یہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے 2019 اور 2020 کے درمیان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر داغے جانے والے کروز میزائلوں کے ٹکڑوں سے مماثلت رکھتے ہیں جو امریکہ نے 2019 میں قبضے میں لیے تھے۔

آئی اے ای اے کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ رکن ممالک کا جوہری پروگرام پر امن مقصد کے لیے ہے۔
IAEA
آئی اے ای اے کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ رکن ممالک کا جوہری پروگرام پر امن مقصد کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو یوکرین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے ایسے خطوط بھی موصول ہوئے ہیں جن میں ایران سے روس کو بغیر پائلٹ طیاروں/ڈرون طیاروں (یو اے وی) کی مبینہ منتقلی پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ اقدام قرارداد 2231 سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اس بات کی تردید کی ہےکہ ان کے ملک نے اپنے یو اے وی روس کو یوکرین کی جنگ میں استعمال کے لیے دیے ہیں۔ دوسری جانب روس نے بھی ان رکن ممالک کی درخواستوں پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ 

ڈی کارلو نے کہا کہ یوکرین، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی جانب سے روس کو منتقل کیے جانے والے بعض یو اے وی ایسے ادارے کے تیار کردہ ہیں جس کا نام قرارداد 2231 کے تحت پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد اور اداروں کی فہرست میں درج ہے۔

اقوام متحدہ میں سیاسی اور قیام امن سے متعلق امور کی سربراہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کر رہا ہے اور مناسب وقت میں اپنی رپورٹ کونسل کو پیش کرے گا۔