معدومیت کے خطرے سے دوچار دیسی زبانوں کے تحفظ کا منصوبہ
اقوام متحدہ نے جمعے کو مقامی زبانوں کی بین الاقوامی عشرے کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد انہیں اپنی بقاء میں مدد دینا اور معدومیت سے بچانا ہے۔
قطب شمالی کے رہنے والوں کی اپنی زبانوں میں سرکاری خدمات حاصل کرنے کی خواہش سے لے کر کولمبیا میں تاحال ایکا زبان بولنے والے آرہواکو لوگوں تک، دنیا بھر میں مقامی باشندے اپنی مادری زبان کو زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اقوام متحدہ طویل عرصہ سے مقامی لوگوں کے حقوق کی حمایت کرتا چلا آیا ہے جو منفرد تہذیبوں نیز لوگوں اور ماحول سے میل جول کے طریقوں کے وارث ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔
سب کا فائدہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے کہا ہے کہ ان لوگوں کی زبانوں کو محفوظ رکھنا صرف انہی کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے بھی اہم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ''ہر مقامی زبان کی معدومیت کے ساتھ اس کے ساتھ وابستہ تصورات، ثقافت، روایت اور اس میں پایا جانے والا علم بھی چلا جاتا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ہمیں اپنے ماحول سے تعلق کے انداز میں بنیادی تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں معاشی و سماجی امور کے شعبے (ڈی ای ایس اے) کے مطابق دنیا کی آبادی میں مقامی باشندوں کی تعداد چھ فیصد سے بھی کم ہے لیکن وہ دنیا کی اندازاً 6,700 میں 4,000 سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔
خطرے کی گھنٹی
تاہم، محتاط اندازوں کے مطابق اس صدی کے اختتام تک دنیا کی تمام زبانوں میں سے نصف معدوم ہو جائیں گی۔
کوروشی حال ہی میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق مونٹریال میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کرکے آئے ہیں جس میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ''اگر ہم فطرت کا کامیابی سے تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مقامی باشندوں کی بات ان کی اپنی زبانوں میں سننا ہو گی۔''
انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جاری کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی باشندے دنیا میں باقی ماندہ حیاتیاتی تنوع کے تقریباً 80 فیصد حصے کے محافظ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہر دو ہفتے کے بعد ایک مقامی زبان ختم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کو ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہونا چاہیے۔''
جنرل اسمبلی کے صدر نے ممالک پر زور دیا کہ وہ مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اس میں ان کی مقامی زبانوں میں تعلیم اور وسائل تک رسائی اور انہیں اور ان کے علم کو استحصال سے بچانے کی یقین دہانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے نصیحت کی کہ ''مقامی لوگوں کے ساتھ بامعنی مشاورت اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں ہر مرحلے پر ساتھ لے کر چلنا غالباً سب سے اہم ہے۔''