روزگار کی تلاش میں ہجرت کا مطلب حقوق سے دستبرداری نہیں
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر 'او ایچ سی ایچ آر' نے کہا ہے کہ کسی کو بھی روزگار کی تلاش میں مہاجرت اختیار کرنے کے لیے اپنے انسانی حقوق سے دستبرداری پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
'او ایچ سی ایچ آر' نے مہاجرت کے عالمی دن سے پہلے 'ہمیں کارکن چاہیے تھے مگر انسان آئے' کے عنوان سے اپنی نئی رپورٹ میں محنت کشوں کی عارضی مہاجرت کے پروگراموں کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ رپورٹ ایشیائی بحرالکاہل خطے میں جاری منصوبوں کی جانب توجہ دلاتی ہے جو مہاجرت اختیار کرنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ ''مہاجر کارکنوں کے ساتھ عموماً غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔'' انہوں نے یاد دلایا کہ ''یہ لوگ انسان ہیں جو انسانی حقوق اور اپنے انسانی وقار کے مکمل تحفظ کا حق رکھتے ہیں۔''
گمراہ کن وعدے
ہر سال لاکھوں لوگ مزدوری کے لیے عارضی مہاجرت کے پروگراموں کے تحت اپنے ملک چھوڑتے ہیں۔ ان پروگراموں میں مہاجروں کو لینے والے ممالک سے معاشی فوائد اور مہاجرین کے ممالک سے ترقیاتی منافعوں کے وعدے کیے جاتے ہیں۔
تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بہت سے واقعات میں عارضی ملازمتوں کے منصوبے میں انسانی حقوق پر بہت سی ناقابل قبول پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کیسے مہاجر کارکنوں کو عموماً گنجان اور حفظان صحت کی سہولت سے عاری جگہوں پر رہنا پڑتا ہے، وہ غذائیت والی خوراک کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں مناسب طبی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے خاندانوں سے طویل اور بعض اوقات لازمی طور پر علیحدہ رہنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض ممالک میں مہاجرین کو حکومتی مدد سے خارج رکھنے والی پالیسیوں کے باعث ایسے کارکنوں کو کووڈ۔19 سے غیرمتناسب خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
تُرک نے واضح کیا کہ ''ان سے روزگار کے لیے مہاجرت اختیار کرنے کے بدلے میں اپنے انسانی حقوق سے دستبردار ہونے کی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے، خواہ یہ خود ان کے اور ان کے خاندانوں کے لیے اور ان کے اپنے ممالک اور ان ممالک کے لیے بھی اہم کیوں نہ ہو جہاں وہ کام کرتے ہیں۔''
استحصال کی مثالیں
رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر ایک ملک کی مثال دی گئی ہے جو اپنے شہریوں یا مستقل رہائشیوں کے ساتھ شادی کے لیے مہاجرین سے سرکاری اجازت کا تقاضا کرتا ہے۔
ایک اور ملک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں عارضی مہاجرین کو مخصوص 'خاندانی علاقوں' میں کرائے پر جگہ نہیں مل سکتی کیونکہ کارکنوں کو اپنے خاندانوں کے ہمراہ مہاجرت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
عبادت سے محرومی
مخصوص دورانیے کے بعض منصوبوں میں مہاجرین سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ہفتے اور اتوار کے روز بھی کام کریں گے اور انہیں مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے بھی وقت نہیں دیا جاتا۔
دیگر ممالک میں درون خانہ کام کرنے والے مہاجر کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے کام کے دوران عبادت کی یا روزہ رکھا تو انہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔
تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے بعض مہاجر کارکنوں کے مطابق انہیں اپنے آجروں کی جانب سے ناقص طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
وولکر تُرک نے زور دیا کہ ''انسانی حقوق میں تخفیف کا باعث بننے والے اقدامات کا یہ جواز پیش نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عارضی مہاجرین ہیں، اور نہ ہی ممالک آجروں اور دیگر نجی کرداروں کو اپنی یہ ذمہ داری سونپ سکتے ہیں کہ وہ تمام تارکین وطن کارکنوں اور ان کے اہلخانہ کے انسانی حقوق کو یقینی بنائیں گے۔
ممالک کو چاہیے کہ وہ ایشیا اور الکاہل کے خطے میں اور وہاں سے مہاجرت کے راستوں پر محنت کشوں کے لیے مہاجرت کی جامع اور انسانی حقوق پر مبنی پالیسیاں نافذ کریں جو پابند اور بعض صورتوں میں استحصالی عارضی پروگراموں کا متبادل ہوں۔''
جبری گمشدگیاں
مہاجرین محض اپنی منازل تک پہنچنے کے لیے عموماً دشوار گزار سفر کے دوران خاص طور پر خطروں کی زد میں ہوتے ہیں۔
اتوار کو مہاجرین کے عالمی دن سے قبل انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے متعین کردہ قریباً ایک درجن غیرجانبدار ماہرین نے ممالک سے کہا ہے کہ وہ مہاجرین کی جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششوں میں ہنگامی بنیاد پر تیزی لائیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مہاجرت کے راستوں پر آنے والے ممالک کے مابین موثر اور باقاعدہ رابطے کی فوری ضرورت ہے۔''
تعاون ضروری
اقوام متحدہ کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ ممالک ہر سال مہاجرت کے راستوں پر سفر کرنے والے ہزاروں لوگوں کی گمشدگیوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔
مہاجرت سے متعلق بین الاقوامی ادارے (آئی او ایم) کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ 2014 سے اب تک 35,000 سے زیادہ مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
تاہم ایسے واقعات میں جبری گمشدگیوں کے تناسب کے بارے میں درست اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں جن میں ریاستی اہلکار یا ممالک کے تفویض کردہ اختیار، ان کی مدد یا رضامندی سے کام کرنے والے ملوث تھے۔
تاہم اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر گمشدگیاں دوران حراست یا مہاجرین کو ملک سے واپس بھیجے جانے کے موقع پر یا مہاجرین کی سمگلنگ یا ان کی خریدوفروخت کے دوران ہوئیں۔
ماہرین نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ''باہم مربوط معلومات جمع کرنے اور اطلاعات دینے کے نظام'' کی ضرورت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''لاپتہ مہاجرین کو تلاش کرنے، ان کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے، اس عمل میں ان کے خاندان اور رشتہ داروں کو ساتھ رکھنے اور لوگوں کو اس ظالمانہ جرم کے خلاف تحفظ دینے اور اس کی روک تھام کرنے کے لیے باہمی معاونت اور تعاون کی خاص اہمیت ہے۔''
کڑی پالیسیاں
ماہرین ممالک کے سخت سرحدی انتظام اور مہاجرت کی کڑی پالیسیوں کو بہت سی گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ ملک میں داخلے سے یکسر انکار، مہاجرت کو جرم قرار دیے جانے اور مہاجرین کو قید میں ڈالنے کے قوانین کا لازمی، خودکار طور سے اور وسیع پیمانے پر استعمال اور انہیں ناجائز طور پر ملک سے بے دخل کرنے کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ''یہ عوامل مہاجرین کو مزید خطرناک راستے اختیار کرنے، اپنی زندگیاں سمگلروں کے ہاتھوں خطرے میں ڈالنے اور خود کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کا آسان ہدف بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔''
پریشان کن رحجانات
جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیٹی نے مہاجرت کے تناظر میں اپنا پہلا عمومی توضیحی عمل شروع کیا ہے جس کا مقصد ممالک کو ان کی قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں رہنمائی دینا اور مہاجرین کے تحفظ کے اقدامات پیش کرنا ہے۔
ماہرین نے ممالک، انسانی حقوق کے اداروں اور دیگر سے کہا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کی کوششوں میں شامل ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ ''خواتین اور بچوں خصوصاً اکیلے سفر کرنے والے بچوں کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے جو ایسے جرائم سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر متاثر ہوتے ہیں۔''
ماہرین
اس بیان پر دستخط کرنے والے ماہرین کے نام جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
خصوصی اطلاع کار اور ماہرین جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے متعین کیے جاتے ہیں جن کا کام انسانی حقوق سے متعلق کسی خاص موضوع یا کسی ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینا اور اپنی رپورٹ دینا ہے۔ یہ عہدے اعزازی ہیں اور ماہرین کو ان کے کام پر کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔