انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد میں ریکارڈ اضافہ: ماہرین انسانی حقوق

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے زبردستی اپنے گھر سے نکالے جانے کے بعد یہ فلسطینی خاندان مہاجر کیمپ میں رہنے پر مجبور ہے۔
© NOOR/Tanya Habjouqa
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے زبردستی اپنے گھر سے نکالے جانے کے بعد یہ فلسطینی خاندان مہاجر کیمپ میں رہنے پر مجبور ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد میں ریکارڈ اضافہ: ماہرین انسانی حقوق

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے مقرر کردہ انسانی حقوق کے آزاد ماہرین نے اِس سال مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیلی فوج کی جانب سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے 2005 میں مقبوضہ فسلطینی علاقوں میں جانی نقصان کی تفصیلات جمع کرنے کا منظم عمل شروع کیے جانے کے بعد 2022 اس حوالے سے اب تک مہلک ترین سال رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اِس سال مقبوضہ مغربی علاقے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 150 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 33 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج یا آباد کاروں کے ہاتھوں ایک لڑکے کی ہلاکت بھی ہوئی جو ایک ساتھ فائرنگ کر رہے تھے۔

آبادکاروں کی کارروائیاں

آبادکاروں نے کم از کم دو فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ 2022 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ہاتھوں 10 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں پانچ آباد کار، ان کا ایک محافظ اور اسرائیلی فوج کے چار ارکان شامل تھے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ''ہم اسرائیل کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کے غیرقانونی قبضے کے خاتمے تک مقبوضہ علاقے میں فلسطینیوں کے ساتھ دشمنوں یا دہشت گردوں کے بجائے محفوظ شہریوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔''

ماہرین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے زیرقبضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مطابقت سے حفاظت، سلامتی اور بہبود یقینی بنائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ''مسلح اور نقاب پوش اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں پر ان کے گھروں میں حملہ کر رہے ہیں، سکول جانے والے بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، املاک کو تباہ کر رہے ہیں، زیتون کے جُھنڈ جلا رہے ہیں اور تادیبی کارروائی کے خوف سے بے نیاز ہو کر پورے علاقے کو دہشت زدہ کر رہے ہیں۔''

2022 مسلسل چھٹا سال ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حالانکہ 2016 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد میں خاص طور پر آبادکاری کی سرگرمیاں روکنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مغربی کنارے کے علاقے رملہ میں ابتدائی طبی امداد کے کارکن ایک زخمی شخص کی مدد کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔
UNOCHA/Tanya Habjouqa
مغربی کنارے کے علاقے رملہ میں ابتدائی طبی امداد کے کارکن ایک زخمی شخص کی مدد کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

فوج سہولت کار

ماہرین کے مطابق ''اسرائیلی فوج کی جانب سے آباد کاروں کے حملوں میں تواتر سے سہولت فراہم کرنے، انہیں تعاون مہیا کرنے اور ان حملوں میں شریک ہونے کی پریشان کن شہادتیں موجود ہیں جس کے باعث اسرائیلی آباد کاروں کی کارروائیوں اور ریاستی تشدد کے مابین تمیز کرنا مشکل ہے۔ کسی ایک کو تشدد کی چھوٹ دینے سے دوسرا فریق بھی کھل کر تشدد کرتا ہے۔''

انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قانون ریاستی افواج کو لوگوں کے خلاف اسی صورت میں آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے جب وہ زندگی کے لیے فوری خطرہ ہوں یا ان سے سنگین جسمانی نقصان پہنچے کا اندیشہ ہو۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے ایسے فلسطینیوں کے خلاف مہلک طاقت کو آخری کے بجائے پہلے حربے کے طور پر استعمال کرنا ماورائے عدالت سزائے موت کے مترادف ہو سکتا ہے جو نہ تو انسانی جان کے لیے فوری خطرہ ہیں اور نہ ہی ان سے سنگین جسمانی نقصان پہنچے کا خدشہ ہوتا ہے۔ طاقت کا یہ استعمال زندگی کے حق کی پامالی کی ذیل میں بھی آتا ہے اور چوتھے جنیوا کنونشن اور روم قانون کے تحت سکیورٹی فورسز کے لیے کسی کو جان بوجھ کر ہلاک کرنے کی ممانعت ہے۔

بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگی

ماہرین نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو اپنے قوانین بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ کرنے چاہئیں اور فوج اور آباد کاروں کے ہاتھوں تمام اموات کی تحقیقات کر کے اپنی صفوں میں تشدد کے لیے کھلی چھوٹ پر قابو پانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''غیرقانونی آبادیاں بحیثیت مجموعی اسرائیلی معاشرے کے لیے بھی تباہ کن خطرہ ہیں اور جب تک اسرائیلی فوج اس بالادست آبادکار ذہنیت کو ترک نہیں کرتی اور مقبوضہ علاقے میں فلسطینیوں سے منصفانہ برتاؤ اور محفوظ شہریوں جیسا سلوک نہیں کرتی اس وقت تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کا افسوسناک ریکارڈ ممکنہ طور پر 2023 میں بھی مزید بگڑے گا۔

اسرائیل کے جابرانہ قبضے کے تحت کوئی پُرامن تصفیہ طے نہیں پا سکتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تمام فیصلہ سازوں کی آںکھیں کھل جانی چاہئیں۔''