پینے کے صاف پانی اور نکاسیِ آب کے لیے سرمایہ کاری بڑھائیں
عالمی ادارہ صحت اور شراکت داروں نے زیادہ سے زیادہ زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے رکن ممالک سے کہا ہے کہ 2030 تک تمام لوگوں کو پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کی سہولیات (واش) مہیا کرنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھائیں۔
اگرچہ 45 فیصد ممالک اس دہائی کے آخر تک اپنے تمام لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے درست راہ پر گامزن ہیں تاہم ان میں صرف ایک چوتھائی کے ہی نکاسی آب کے اہداف حاصل کرنے کا امکان ہے۔
یہ نتائج ڈبلیو ایچ او اور یو این۔واٹر کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جس پر اقوام متحدہ کے اداروں اور اس مسئلے پر سرگرم دیگر تنظیموں نے اکٹھے کام کیا ہے۔
'ہنگامی بحران'
جائزے میں 120 سے زیادہ ممالک میں 'واش' کی رسائی کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 75 فیصد سے زیادہ ممالک نے بتایا کہ ان کے پاس متعلقہ منصوبوں اور حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے خاطرخواہ مالی مسائل نہیں ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ ''ہمیں ہنگامی نوعیت کے بحران کا سامنا ہے۔ پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی تک ناکافی رسائی کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں جبکہ کڑے موسمی واقعات کی رفتار اور شدت 'واش' کی محفوظ خدمات فراہم کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔''
کرہ ارض پر ہر انسان کو صاف پانی اور نکاسی آب تک یقینی رسائی مہیا کرنا پائیدار ترقی کے 17 اہداف میں سے ایک ہے جنہیں 2030 تک حاصل کیا جانا ہے۔
عالمگیر تجزیے اور نکاسی آب و پینے کے پانی سے متعلق تخمینے (گلاس) سے حاصل کردہ معلومات سے یہ سامنے آتا ہے کہ بیشتر قومی پالیسیاں اور منصوبے نہ تو 'واش' کی خدمات کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرے سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان میں یہ مدنظر رکھا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی اور انتظامی نظام کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مستحکم کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
دو تہائی سے کچھ ہی زیادہ ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہونے والی آبادیوں تک رسائی کے اقدامات پر عمل کیا ہے۔ تاہم ان میں تقریباً ایک تہائی ممالک نے ہی اس حوالے سے پیش رفت کی نگرانی کی ہے یا ان آبادیوں کو مالی وسائل مہیا کیے ہیں۔
یو این۔ واٹر کے سربراہ اور عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے کہا ہے کہ ''دنیا 2030 تک سب کو پانی اور نکاسی آب کی سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق ایس ڈی جی6 کے حصول میں پریشان کن حد تک بے سمت ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو خطرناک طور پر متعدی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ ہے اور خصوصاً موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قدرتی آفات کے بعد یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔''
عالمگیر عزم کی توثیق نو
شراکت داروں نے تمام ممالک اور متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ مضبوط انتظام، مالیات، نگرانی، ضابطہ کاری اور صلاحیت میں اضافے کے ذریعے 'واش' خدمات کے لیے تعاون بڑھائیں۔
ان کی رپورٹ میں موجود معلومات سے 2023 میں اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس کے دوران مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی جو مارچ میں نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو گی۔
50 سال میں یہ پہلا موقع ہو گا جب عالمی برادری اس موضوع پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے علاوہ پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے عملی اقدامات کی تجدید کا عزم کرے گی۔