دنیا میں گھربار چھوڑنے پر مجبور افراد کی تعداد دس کروڑ: یو این ڈی پی
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق دنیا بھر میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور ان کے مسائل پر صرف انسانی امداد کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکتا۔
یو این ڈی پی نے منگل کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی، جنگوں اور بحرانوں کے باعث اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہونے والےلوگوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنے کو کہا ہے۔
اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کی تعداد پہلی مرتبہ اِس سال 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں پانچ کروڑ 91 لاکھ لوگ اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہیں اور عموماً کئی سال یا دہائیوں تک انہی حالات میں رہتے ہیں۔
اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں (آئی ڈی پی) کو دیگر مسائل کے علاوہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے، معقول کام ڈھونڈنے یا مستحکم ذریعہء آمدنی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
یو این ڈی پی نے ان لوگوں کی حالت زار کو ''نظرانداز بحران'' قرار دیا ہے کیونکہ ان کے حالات کم ہی خبروں میں آتے ہیں۔
مسئلے کا حل
موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس صدی کے وسط تک 216 ملین سے زیادہ لوگ اپنے ممالک میں ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اسی خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے رپورٹ میں اندرون ملک نقل مکانی پر قابو پانے کے لیے طویل مدتی ترقیاتی اقدمات کی وکالت کی گئی ہے۔
یو این ڈی پی کے منتظم ایکم سٹینر نے کہا ہے کہ ''اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی پسماندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کو صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے مواقع جیسی ضرورت خدمات تک رسائی کے ذریعے بحیثیت شہری اپنے تمام حقوق سے کام لینے کے قابل ہونا چاہیے۔''
''ضروری انسانی امداد کے ساتھ ترقی پر مبنی یہ مضبوط طریقہ کار پائیدار امن، استحکام اور بحالی کے لیے حالات سازگار دینے کی غرض سے لازمی اہمیت کا حامل ہو گا۔''
حکومتیں کیا کریں؟
'اندرون ملک نقل مکانی کے رحجان کا خاتمہ: مسئلے کے حل کا ترقیاتی طریقہ' کے عنوان سے اس رپورٹ میں ''نادیدہ بحران'' کو عالمی ایجنڈے پر لانے کے لیے کہا گیا ہے۔
رپورٹ میں آٹھ ممالک، کولمبیا، ایتھوپیا، انڈونیشیا، نیپال، نائجیریا، پاپوا نیوگنی، صومالیہ اور وینوآٹو میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے تقریباً 2,653 افراد اور ان کے میزبان علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے لیے گئے جائزے میں سامنے آنے والی معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
سروے میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے ایک تہائی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بیروزگاری کے باعث اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ قریباً 70 فیصد ایسے تھے جن کے پاس اپنی روزمرہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار رقم نہیں تھی۔ ایک تہائی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اپنا علاقہ چھوڑنےکے بعد ان کی صحت خراب ہو گئی ہے۔
یہ معلومات اندرون ملک نقل مکانی کی نگرانی کے مرکز (آئی ڈی ایم سی) نے جنوری 2021 اور جنوری 2022 کے درمیانی عرصہ میں جمع کی ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اندرون ملک نقل مکانی پر قابو پانا حکومتوں کی جانب سے حقوق اور بنیادی خدمات تک مساوی رسائی یقینی بنانے، سماجی معاشی ربط کے فروغ، تحفظ کی بحالی اور سماجی ہم آہنگی قائم کرنے سمیت اہم ترقیاتی اقدامات پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
یو این ڈی پی نے بہتر معلومات اور تحقیقات کی ضرورت بھی واضح کی ہے۔
ادارے نے 'اندرون ملک نقل مکانی سے متعلق اشاریے' کے ذریعے یہ خلا پر کرنے کے لیے اپنے عزم کو واضح کیا۔ یہ اشاریہ اس معاملے میں پیش رفت کی نگرانی اور حکومتوں کو امدادی سے ترقیاتی اقدامات کی جانب منتقلی میں مدد دے گا۔