’بہتر زندگی کی تلاش‘ میں 50 ہزار سے زیادہ مہاجرین کی ہلاکت

دو لاکھ مہاجروں نے  اس سال جنوری سے لیکر اب تک دوران سفر جنوبی اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ڈیرین گیپ کو عبور کیا ہے۔
© UNICEF/Eduard Serra
دو لاکھ مہاجروں نے اس سال جنوری سے لیکر اب تک دوران سفر جنوبی اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ڈیرین گیپ کو عبور کیا ہے۔

’بہتر زندگی کی تلاش‘ میں 50 ہزار سے زیادہ مہاجرین کی ہلاکت

مہاجرین اور پناہ گزین

مہاجرت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے 'آئی او ایم' نے کہا ہے کہ 2014 سے اب تک دنیا بھر میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر خطرناک سفر اختیار کرنے والے 50 ہزار سے زیادہ مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

مہاجرین کی اس المناک تعداد کی تصدیق ادارے کی لاپتہ مہاجرین کے بارے میں جاری کردہ ایک نئی رپورٹ سے ہوتی ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ناصرف مہاجرین کے اپنے ممالک نے بہت کم کام کیا ہے بلکہ اُن ممالک میں بھی اس حوالے سے کافی اقدامات نہیں کیے گئے جہاں یہ مہاجرین عبوری قیام کرتے ہیں یا جو ان کی حتمی منزل ہوتے ہیں۔

Tweet URL

اس جائزے کی معاون مصنفہ جولیا بلیک نے کہا ہے کہ ''اگرچہ ہر سال مہاجرت کے راستوں پر ہزاروں اموات سامنے آ چکی ہیں لیکن انہیں روکنا تو درکنار ان المیوں کے نتائج پر قابو پانے کے لیے بھی بہت کم کام ہوا ہے۔''

بے نام ہلاکتیں

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ ''لاپتہ مہاجرین سے متعلق منصوبے میں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی جس کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرت کے راستوں پر ہلاک ہونے والے 60 فیصد سے زیادہ افراد تاحال نامعلوم ہیں اور ہزاروں خاندان یہ جاننے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کے ساتھ کیا پیش آیا۔''

آئی او ایم نے 2021 میں سپین میں مراکش کے ایک مہاجر کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''وقت گزرتا جا رہا ہے اور ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی''۔ یہ شخص اپنے بھائی کی تلاش میں تھا جو 20 سال پہلے یورپ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔

جن لاپتہ مہاجرین کی قومیت کی شناخت ہو سکتی ہے ان میں 9,000 سے زیادہ کا تعلق افریقہ، 6,500 سے زیادہ کا ایشیا اور بقیہ 3,000 کا تعلق براعظم ہائے امریکہ سے ہے۔

آئی او ایم کا کہنا ہے کہ ''خاص طور پر مہاجرین کے تین ممالک، افغانستان، شام اور میانمار، تشدد کی زد میں ہیں جہاں بہت سے لوگ بیرون ملک پناہ لینے کے لیے اپنے گھر چھوڑ رہے ہیں۔''

50 ہزار اموات میں نصف سے زیادہ یورپ کی جانب اور اس کے اندر مہاجرت کے راستوں پر ہوئیں جن میں بحیرہ روم کے راستوں پر کم از کم 25,104 افراد کی جان گئی۔

لاپتہ اور مردہ تصور کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد اور تناسب کے اعتبار سے بھی یورپی راستے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں جہاں کم از کم 16,032 مہاجرین کو سمندر میں لاپتہ قرار دیا گیا جن کی باقیات کبھی نہیں مل سکیں۔

مہاجرت اختیار کرنے والے لوگوں کے لیے افریقہ دوسرا خطرناک ترین خطہ ہے جہاں 2014 سے اب تک مہاجرت سے متعلق 9,000 سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ علاقائی سطح پر گھریلو جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً یقینی طور پر یہ اصل سے کہیں کم تعداد ہے۔

خطرناک راستے

براعظم ہائے امریکہ میں قریباً 7,000 اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں 4,694 افراد امریکہ جا رہے تھے۔ 2014 کے بعد امریکہ اور میکسیکو کی زمینی سرحد پر ہی 4,000 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

آئی او ایم نے ایشیا بھر میں بھی 6,200 اموات کی تفصیل جمع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ''ایشیا میں مہاجرت کے راستوں پر ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد 11 فیصد سے زیادہ ہے جو کہ کسی بھی خطے میں مہاجر بچوں کی اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔''

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں مہاجرت سے متعلق 717 معلوم اموات میں سے 436 کا تعلق روہنگیا پناہ گزینوں سے ہے۔

مغربی ایشیا میں مہاجرت کے راستوں پر کم از کم 1,315 لوگوں کی جان گئی جن میں بہت سے لوگ ایسے ممالک میں مارے گئے جہاں اس وقت جنگ جاری ہے اور اسی وجہ سے وہاں لاپتہ مہاجرین کی تفصیلات جمع کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔

شاخِ افریقہ سے آنے والے کم از کم 522 افراد یمن میں ہلاک ہو چکے ہیں جو عام طور پر جنگ کا نشانہ بنے جبکہ ترکیہ کی سرحد کو پار کرنے کی کوششوں میں شام کے 264 مہاجرین کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔

پانامہ اور کولمبیا کی سرحد پر واقع ایک امیگریشن سنٹر۔
© UNICEF/Eduard Serra
پانامہ اور کولمبیا کی سرحد پر واقع ایک امیگریشن سنٹر۔

عملی قدم اٹھائیں

آئی او ایم نے زور دیا ہے کہ ''بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داریوں بشمول زندہ رہنے کے حق کو ہر طرح کے حالات میں برقرار رکھنا جانا چاہیے۔''

اقوام متحدہ کے ادارے نے لاپتہ مہاجرین کی تلاش اور انہیں بچانے کو ترجیحی اہمیت دینے، مہاجرت کے باقاعدہ اور محفوظ راستوں کو بہتر بنانے اور انہیں وسعت دینے اور قانون سازی کے ذریعے مہاجرین کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر یکجہتی پیدا کرنے کے لیے کہا ہے۔

جولیا بلیک کا کہنا ہے کہ ''لوگوں کو مہاجرت پر مجبور کرنے یا اس کا باعث بننے والی وجوہات سے قطع نظر کوئی بھی فرد بہتر زندگی کی تلاش میں موت کا مستحق نہیں ہے۔''