ایران مظاہرے: ایک ہفتے میں 40 افراد کی ہلاکت، او ایچ سی ایچ آر

سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں مظاہرین مہاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
© Unsplash/Artin Bakhan
سوئیڈن کے شہر سٹاک ہوم میں مظاہرین مہاسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ایران مظاہرے: ایک ہفتے میں 40 افراد کی ہلاکت، او ایچ سی ایچ آر

انسانی حقوق

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق ایران میں گزشتہ ہفتے کے دوران 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیس سال سے کم عمر کے دو نوجوان بھی شامل ہیں۔

یہ ہلاکتیں مہاسا امینی نامی نوجوان خاتون کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں ہوئی ہیں۔

ایران کے علاقے کردستان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہاسا امینی کو ایران کی ''اخلاقی پولیس'' نے 13 ستمبر کو مناسب طریقے سے حجاب نہ اوڑھنے کی پاداش میں گرفتار کیا تھا۔

او ایچ سی ایچ آر کے مطابق ملک بھر میں پُرامن مظاہروں میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Tweet URL

فساد پھیلانے کا الزام

ادارے کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا ہے کہ ''مظاہروں میں شرکت کرنے والے کم از کم چھ افراد کو 'محاربہ' یا 'خدا کے خلاف جنگ' یا 'فساد فی الارض' یا 'زمین پر خرابی پیدا کرنے' کے الزامات میں موت کی سزا دی جا چکی ہے۔''

انہوں نے مزید کہا کہ ''ان مظاہروں کی حمایت کرنے والی ایران کی مشہور شخصیات اور خواتین و مرد کھلاڑیوں سمیت لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو طلب یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔''

او ایچ سی ایچ آر کے مطابق ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سوموار کی شام سکیورٹی حکام نے بہت سی جگہوں بالخصوص جوان رود اور مہاسا امینی کے شہر سقز سمیت کرد آبادی کے علاقوں میں مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق اختتام ہفتہ پر چھ افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں 16 برس عمر کے دو بچے بھی شامل ہیں۔ 16 ستمبر کو ملک گیر مظاہرے شروع ہونے کے بعد مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں 40 بچوں سمیت 300 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار

او ایچ سی ایچ آر نے ان خدشات کا اعادہ بھی کیا کہ حکام نے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے لواحقین کو دینے سے انکار کیا ہے یا وہ میڈیا سے بات نہ کرنے کی شرط پر ہی لاشیں حوالے کر رہے ہیں۔

لارنس کا کہنا تھا کہ ''ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے خاندانوں کو نہ دینا یقیناً ہمارے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔''

انہوں نے کہا کہ ''مجھے اندازہ نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ تاہم اہلخانہ کا حق ہے کہ ان کے پیاروں کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں۔ ایسا نہ کرنا ظالمانہ اقدام ہے۔ ''

لارنس نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف سخت طرزعمل اپنایا ہے۔31 میں سے 25 صوبوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں 100 سے زیادہ سیستان اور بلوچستان میں ہوئی ہیں۔

انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے غیرمتناسب ستعمال کے بجائے لوگوں کے''مساوات، وقار اور حقوق'' کے مطالبات پر عمل کریں۔

او ایچ سی ایچ آر کے ترجمان نے کہا کہ ''ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر احتساب کا فقدان برقرار ہے جس کے باعث لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔''  

ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے آغاز کے بعد مظاہرین کے ہاتھوں بہت سے سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔