انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میزائل تجربہ شمالی کوریا کی حالیہ ’تشویشناک کارروائیوں‘ میں ایک اضافہ

شمالی کوریا نے اِس سال بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 60 سے زیادہ مرتبہ میزائل داغے۔
UNICEF/Patrick Andrade
شمالی کوریا نے اِس سال بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 60 سے زیادہ مرتبہ میزائل داغے۔

میزائل تجربہ شمالی کوریا کی حالیہ ’تشویشناک کارروائیوں‘ میں ایک اضافہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیاسی اور قیام امن سے متعلق امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو تازہ ترین حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ جمعے کو شمالی کوریا کی جانب سے ایک نئی طرز کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے اور متعدد حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سفیروں کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق اندازاً 10:15 بجے ہاسونگ۔17 میزائل نے تقریباً 6,100 کلومیٹر سفری بلندی طے کرتے ہوئے 1,000 کلومیٹر فاصلے تک اڑان بھری۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ ''اطلاعات کے مطابق یہ شمالی کوریا کی جانب سے سب سے بڑے اور طاقتور ترین میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ ہے جو پورے شمالی امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''

شمالی کوریا کے میزائل تجربات

ڈی کارلو نے بتایا کہ ''یہ تجربہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگراموں سے متعلق ''تشویش ناک سرگرمیوں کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ'' ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا نے اِس سال بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 60 سے زیادہ مرتبہ میزائل داغے۔ شمالی کوریا کے مطابق ان میں سے دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اور تین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تھے۔

ایسے دیگر واقعات میں بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دوسرے جنگی نظام کے تجربات کیے گئے جنہیں شمالی کوریا کے مطابق ''تدبیراتی'' جوہری ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جانا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہائپرسونک ہتھیاروں اور سیٹلائٹ نظام کے تجربات بھی کیے ہیں۔

مزید برآں، شمالی کوریا نے ایسے کسی تجربے سے پہلے دوسرے ممالک کو فضا یا سمندروں میں حفاظتی انتظامات کرنے کے بارے میں بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''غیراعلانیہ تجربات بین الاقوامی ہوابازی اور سمندری نقل و حمل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔''

پرہیز اور تعمیل

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شمالی کوریا کی جانب سے تازہ ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربات کی کڑی مذمت کی ہے جن میں دوسرا اسی مہینے کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی ''کھلی خلاف ورزی'' ہیں اور ان سے تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

روزمیری ڈی کارلو نے شمالی کوریا سے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ''مزید اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قرارردادوں کے تحت خود پر عائد ہونے والی عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔''

جوہری خدشات

اقوام متحدہ کے سیاسی امور کی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا بظاہر متحرک طور سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے گزشتہ بدھ کو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے 'آئی اے ای اے' کے سربراہ کی باتوں کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا تھا کہ پونگیری میں جوہری تجربہ گاہ ''جوہری تجربے کے لیے تیار حالت میں ہے۔''

مزید برآں آئی اے ای اے اس مقام کی بدستور نگرانی کر رہا ہے اور یونگ بے اون جوہری مرکز میں ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ پانچ میگاواٹ کے جوہری ری ایکٹر کے چالو ہونے کی علامات کو بھی دیکھ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ شمالی کوریا کی جانب سے سب سے بڑے اور طاقتور ترین میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ ہے جو پورے شمالی امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے: روزمیری ڈی کارلو
UN Photo/Eskinder Debebe
اطلاعات کے مطابق یہ شمالی کوریا کی جانب سے سب سے بڑے اور طاقتور ترین میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ ہے جو پورے شمالی امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے: روزمیری ڈی کارلو

روابط بحال کرنے کی ضرورت

ڈی پی پی اے کی سربراہ نے کہا کہ ''یہ 2022 میں دسواں موقع ہے جب سلامتی کونسل کے ارکان شمالی کوریا کے معاملے پر بات کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور اس کے باجود جزیرہ نما کوریا کی صورتحال غلط رخ اختیار کر رہی ہے۔''

انہوں نے کہا کہ متواتر میزائل تجربات، مخالفانہ باتیں اور فوجی مشقیں 'عمل اور ردعمل کے ایک منفی چکر' کو تقویت دیتی ہیں جبکہ تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں کمی آتی دکھائی نہیں دیتی۔''

کووڈ۔19 وباء کے باعث شمالی کوریا کے ساتھ سرکاری و غیرسرکاری روابط موخر ہونے کے نتیجے میں سفارت کاری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ڈی کارلو کا کہنا تھا کہ ''تناؤ کی شدت میں کمی لانا ضروری ہے۔'' انہوں نے بات چیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غلط فہمی کا خدشہ کم کرنے کے لیے ''خاص طور پر افواج کی سطح پر باہمی روابط'' ضروری ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی بات کو دہراتے ہوئے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ ''بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے تاکہ جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن اور جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے 9 نومبر کو اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہیں اِن خدشات سے آگاہ کیا تھا۔

ڈی کارلو نے کہا کہ اس معاملے میں سلامتی کونسل کا اتحاد ''ضروری'' ہے اور اس مسئلے کا سفارتی حل ''آگے بڑھنے کی واحد راہ'' ہے۔ انہوں ںے سفیروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ''شمالی کوریا پر زور دیں کہ وہ بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید تجربات کرنے یا ساتویں جوہری تجربے سے پرہیز کرے۔''

انسانی امداد سے متعلق خدشات

روز میری ڈی کارلو نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے شمالی کوریا میں امدادی صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا۔

انہوں ںے کہا کہ ''اقوام متحدہ طبی اور امدادی ضروریات سے نمٹنے بشمول کووڈ۔19 سے متعلق مسائل پر شمالی کوریا کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

''اس حوالے سے بروقت اور موثر اقدام کے لیے ہم بین الاقوامی عملے اور امدادی سامان کے شمالی کوریا میں بلاروک و ٹوک داخلے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔''