یوکرین کے نیوکلیئر پلانٹ کے قریب دھماکے ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف

یوکرین کا زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ۔
Ⓒ IAEA
یوکرین کا زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ۔

یوکرین کے نیوکلیئر پلانٹ کے قریب دھماکے ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف

امن اور سلامتی

جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ نے بتایا ہے کہ یوکرین میں شدید نوعیت کے دھماکوں نے زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ (زیڈ این پی پی) کے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس سے وہاں نسبتاً پُرسکون حالات اچانک خراب ہو گئے ہیں۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شام اور پھر آج صبح ہونے والے دھماکوں نے ''وہاں کسی جوہری حادثے کو روکنے میں مدد دینے کے اقدامات کی فوری ضرورت'' مزید واضح کر دی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ''جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں، آپ آگ سے کھیل رہے ہیں۔''

دوبارہ گولہ باری

علاقے میں موجود آئی اے ای اے کے ماہرین نے بتایا ہے کہ یورپ میں جوہری توانائی کے اس سب سے بڑے پلانٹ پر اور اس کے اردگرد صبح کے اوقات میں بظاہر دوبارہ بمباری کے دوران مختصر وقت میں درجن سے زیادہ دھماکے سنے گئے۔

آئی اے ای کی ٹیم نے اپنے ٹھکانے کی کھڑکیوں سے بھی بعض دھماکوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

گروسی کا کہنا ہے کہ ''گزشتہ روز اور آج صبح ہماری ٹیم کی جانب سے دی جانے والی خبر انتہائی پریشان کن ہے۔''

آئی اے ای اے کی ٹیم نے پلانٹ کی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دھماکوں میں بعض عمارتوں، نظام، سامان اور اس جگہ کو نقصان پہنچا ہے تاہم اس سے جوہری تحفظ اور سلامتی متاثر نہیں ہوئی۔

گروسی کا کہنا تھا کہ ''دھماکے جوہری توانائی کے اس بڑے پلانٹ پر ہوئے جو کسی طور قابل قبول نہیں۔ جو کوئی بھی ان دھماکوں کا ذمہ دار ہے اسے ایسا کرنے سے فوری طور پر باز آجانا چاہیے۔''

اطلاعات کے مطابق روس یوکرین میں جوہری توانائی کے شعبوں کے حکام نے ایک دوسرے کی افواج کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے جس سے خطرناک جوہری حادثے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ روس کے زیرقبضہ اس پلانٹ سے تابکاری کے اخراج سے متعلق اب تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔

جوہری سرگرمی سے پاک علاقہ

آئی اے ای اے کے ماہرین نے کہا ہے کہ ان دھماکوں میں کسی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملیں اور وہ اس جگہ کی انتظامیہ سے قریبی رابطے میں ہیں۔

اسی دوران آئی اے ای اے کے ماہرین حقیقی صورتحال کا اندازہ لگانے اور تازہ ترین اطلاعات جاری کرنے میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر ادارے کے سربراہ نے اپنی اس ہنگامی اپیل کا اعادہ کیا ہے کہ جنگ کے دونوں فریق جتنا جلد ممکن ہو 'زیڈ این پی پی' کے گرد جوہری تحفظ اور سکیورٹی زون کے نفاذ پر اتفاق کریں۔

حالیہ مہینوں میں وہ ایسا زون بنانے کے لیے یوکرین اور روس کے ساتھ بھرپور مشاورت کرتے رہے ہیں لیکن تاحال اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا۔

گروسی کا کہنا تھا کہ ''جب تک یہ زون حقیقت نہیں بن جاتا اس وقت تک میں اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔ حالیہ بمباری سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا زون بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔''