ترقی کے لیے ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنا ضروری: انتونیو گوتیرش

اقوام متحدہ کے مطابق مردوں اور لڑکوں کو خواتین اور لڑکیوں کی نسبت انٹرنیٹ تک سترہ فیصد زیادہ رسائی حاصل ہے۔
ITU/R. Farrell
اقوام متحدہ کے مطابق مردوں اور لڑکوں کو خواتین اور لڑکیوں کی نسبت انٹرنیٹ تک سترہ فیصد زیادہ رسائی حاصل ہے۔

ترقی کے لیے ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنا ضروری: انتونیو گوتیرش

پائیدار ترقی کے اہداف

درست قومی پالیسیوں کی بدولت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خاص طور پر غریب ترین ممالک کی ''پائیدار ترقی میں بے مثال انداز میں اضافہ کر سکتی ہے'' یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو بالی، انڈونیشیا میں جی20 کانفرنس میں کہی۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کانفرنس میں ڈیجیٹل تبدیلی کے موضوع پر مخصوص ایک سیشن کے دوران واضح کیا کہ ''اس مقصد کے لیے مزید ربط کے فروغ اور ڈیجیٹل تقسیم میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تقسیم کو مزید پاٹنا ہو گا اور رکاوٹیں کم کرنا ہوں گی۔ ہمیں عام لوگوں کو بڑے پیمانے پر  اختیار دینا ہو گا اور ٹیکنالوجی کا ناجائز استعمال اور غلط اطلاعات کا پھیلاؤ روکنا ہو گا۔''

Tweet URL

تباہی کا خطرہ

انہوں نے کہا کہ ''رہنمائی اور حفاظت'' کی غیرموجودگی میں ٹیکنالوجی آزادیء اظہار پر پر جبر سے لے کر سرحد پار کینہ پرور مداخلت اور خواتین کو آن لائن ہدف بنائے جانے تک کئی انداز میں ''بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔''

اس رحجان پر قابو پانے کے لیے انہوں نے تجویز پیش کی کہ ستمبر 2024 میں اقوام  متحدہ کی مستقبل کی کانفرنس کے موقع پر حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تمام لوگوں کے ''کھلے، آزاد، جامع اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک عالمگیر ڈیجیٹل معاہدے کی مںظوری دیں جس میں ٹیکنالوجی کی کمپنیوں، سول سوسائٹی، ماہرین علم اور دیگر سے مدد لی جائے۔

ڈیجیٹل معاہدے کے تین لازمے

اقوام متحدہ کے سربراہ نے ڈیجیٹل معاہدے میں بیان کردہ تین چیزوں کی وضاحت کی جو ''ہماری زندگیوں کے ہر پہلو کو متاثر کرنے والی ٹیکنالوجی کے لیے واحد مربوط طرز عمل''کے طور پر انسانی حقوق کے ساتھ مضبوطی سے پیوسط ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس میں عالمگیر ربط پہلی چیز ہے جس کا مطلب تین ارب لوگوں تک پہنچنا ہے جن کے پاس تاحال انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے اور ان کی اکثریت کا تعلق دنیا کے جنوبی کرے سے ہے۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دے کر اور خواتین اور لڑکیوں، مہاجرین، دیہاتی لوگوں اور مقامی باشندوں کو ڈیجیٹل دنیا تک رسائی مہیا کر کے ڈیجیٹل تقسیم کا خاتمہ کرنا ہو گا۔''

اظہار کی آزادی، مگر کیسے؟

انتونیو گوتیرش نے یاد دلایا کہ دوسری چیز یہ ہے کہ انسانوں پر مرتکز 'ڈیجیٹل سپیس' کا آغاز آزادی اظہار کے تحفظ، اظہار کی آزادی اور آن لائن اختیار اور اخفا کے حق سے ہوتا ہے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ''آزادی اظہار مادر پدر آزادی نہیں ہے اور ڈیجیٹل معاہدے میں ''جمہوریت، انسانی حقوق اور سائنس کے لیے نقصان دہ آن لائن غنڈہ گردی اور مہلک نتائج کی حامل غلط اطلاعات کی روک تھام کے لیے حکومتوں، ٹیکنالوجی کی کمپنیوں اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری کو مدنظر رکھنا ہو گا۔''

اقوام متحدہ کے سربراہ نے ایسے عالمگیر ضابطہء عمل کا مطالبہ بھی کیا جس سے لوگوں کو ''تصوراتی باتوں کے بجائے حقیقت پر مبنی انتخاب'' کے قابل بنانے کے لیے عوامی اطلاعاتی دیانت کو فروغ ملے۔

عالمگیر اہداف کا حصول

آخر میں انہوں نے کہا کہ معلومات پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی ''اس قدر بے پایاں صلاحیت رکھتی ہیں جس کو تاحال پوری طرح جانچا بھی نہیں جا سکا۔''

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''چونکہ ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب پیش رفت کو سمجھنے اور اس حوالے سے مرتب ہونے اثرات کو جانچنے کے لیے درکار نصف معلومات ہی میسر ہیں اس لیے لوگوں کی نجی معلومات کو ان کے علم اور رضامندی کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ معلومات''بعض اوقات سیاسی تسلط کے حصول اور تجارتی فائدے'' کے لیے بھی کام میں لائی جاتی ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ڈیجیٹل معاہدے میں ایسے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جن میں حکومتیں ٹیکنالوجی کی کمپنیوں اور دیگر فریقین کے ساتھ کام کرتے ہوئے ''معلومات کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال'' کو فروغ دے سکیں۔

گوتیرش کا کہنا تھا کہ ''جی20 ممالک کے تعاون کی بدولت یہ یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ ڈیجیٹل دور محفوظ، سبھی کے لیے مساوی مواقع اور تبدیلی لانے کا ضامن ہو۔''