انسانی کہانیاں عالمی تناظر
شرم الشیخ میں نوجوان مظاہرین عالمی رہنماؤں سے معدنی ایندھن کا استعمال ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معدنی ایندھن اندھی گلی ہیں: کاپ 27 میں موسمیات پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ مشیر کا بیان

UNFCCC/Kiara Worth
شرم الشیخ میں نوجوان مظاہرین عالمی رہنماؤں سے معدنی ایندھن کا استعمال ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معدنی ایندھن اندھی گلی ہیں: کاپ 27 میں موسمیات پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ مشیر کا بیان

موسم اور ماحول

دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے بارے میں مذاکرات اور اس مسئلے پر قابو پانے کے طریقوں کا تبادلہ، موسمیاتی انصاف کے متواتر مطالبات اور موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ 27 میں جمعے کی کارروائی کا نمایاں حصہ تھے۔

اس موقع پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کے بارے میں سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے سیلوِن ہارٹ نے آج یو این نیوز کو بتایا کہ پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے اور موسمیاتی بحران کے بدترین اثرات کو روکنے کے لیے دنیا کو جتنا جلد ہو سکے معدنی ایندھن کا استعمال ترک کرنا ہو گا۔

انہوں ںے واضح کیا کہ ''اس حوالے سے سائنس کے خلاف کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی۔ تاہم ترقی پذیر ممالک خصوصاً غریب ترین ملکوں کو قابل تجدید توانائی کے مستقبل کی جانب منتقلی کے لیے مدد کی ضرورت ہو گی۔''

جزیروں پر مشتمل چھوٹے ملک بارباڈوز سے تعلق رکھنے والے ہارٹ نے اقوام متحدہ کی متعدد موسمیاتی کانفرنسوں (کاپ) کے دوران مذاکرات کار کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسی رکاوٹیں دور کرنے میں مدد دینے پر اپنی توجہ رکھنی چاہیے جو ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی رفتار تیز کرنے میں درپیش ہیں۔

معدنی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
© Unsplash/Ella Ivanescu
معدنی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

غیرمعمولی موازنہ

خصوصی نمائندے نے ترقی پذیر ممالک کو توانائی کے ماحول دوست ذرائع کی جانب منتقلی کے معاملے میں درپیش غیرمنصفانہ حالات کی ایک نمایاں مثال پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ ''میں الجزائر اور ڈنمارک کا موازنہ کروں گا۔ ڈنمارک کے پاس قابل تجدید توانائی کے بدترین امکانات ہیں جبکہ قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے حوالے سے الجزائر کے امکانات اس سے تقریباً 70 فیصد زیادہ ہیں۔ تاہم ڈنمارک کے پاس شمسی پینلوں کی تعداد ڈںمارک سے سات گنا زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سرمایے کی قدر ہے کیونکہ کاروبار کے لیے سرمایہ مہیا کرنے والوں کو ڈنمارک سے زیادہ منافع حاصل ہونے کی امید ہوتی ہے۔''

ہارٹ کے مطابق ہمیں معدنی ایندھن کے منصوبوں پر سرمایہ لٹانے کے بجائے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو ممکن بنانےکے لیے درکار کئی ٹریلین ڈالر جمع کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ معدنی ایندھن کے منصوبوں کو ایک ایسا حقیقی خطرہ سمجھتے ہیں جو مستقبل میں متروک ہو جانے والے اثاثوں پر سرمایہ کاری یا آنے والی نسلوں پر قرضوں کا بوجھ لادنے کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ ''معدنی ایندھن کا کوئی مستقبل نہیں، جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے کہا ہے، ہمیں آئندہ آٹھ سال میں اپنی توانائی کی مجموعی صلاحیت کا 60 فیصد قابل تجدید توانائی سے تبدیل کر لینا چاہیے جس کا مطلب اس دہائی میں قابل تجدید توانائی کا نظام قائم کرنے کی صلاحیت تین گنا بڑھانا ہے۔''

ان کی رائے میں یہ سب کچھ باآسانی ممکن ہے کیونکہ دنیا گزشتہ دہائی میں قابل تجدید توانائی کا نظام نصب کرنے کی اپنی صلاحیت کو تین گنا بڑھا چکی ہے۔

صنعتوں شعبہ میں کاربن سے چھٹکارا

ازالہء کاربن یا کاربن سے چھٹکارے کا مطلب رہن سہن اور کام کے حوالے سے ایسے متبادل ذرائع ڈھونڈھنا ہے جن کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آئے اور ہماری زمینوں اور کھیتوں میں اکٹھی ہو جانے والی کاربن کو نکالنے اور اسے جمع کرنے میں مدد ملے۔ اس مقصد کے لیے ہمارے موجودہ معاشی نمونے میں بنیادی تبدیلی درکار ہے جس میں فی الوقت ہر قیمت پر معاشی ترقی کو اہمیت دی جاتی ہے۔

آج کاپ 27 میں 'ازالہء کاربن' کا دن ہے اور اس موقع پر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ زیادہ توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے تیزرفتار اور بڑے پیمانے پر اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ ممالک دنیا بھر میں خارجہ ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً 25 فیصد پیدا کرتے ہیں اور صنعتوں سے خارج ہونے والی 66 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے ذمہ دار ہیں۔

اس جائزے میں سیمنٹ، لوہے، سٹیل، کیمیائی مادوں اور پیٹرولیم کی صنعتوں کو سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے شعبے قرار دیا گیا ہے اور ان کی کاربن سے پاک معیشت کی جانب منتقلی کے لیے اہم عملی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

''کاربن کی دائروی معیشت'' اس حوالے سے پیش کی جانے والی اہم سفارشات میں سے ایک ہے جس کی بنیاد کاربن کے اخراج میں کمی لانے، کاربن کو اکٹھا کرنے، اسے دوبارہ استعمال میں لانے اور پھر ختم کرنے اور بلند درجہ حرارت کے حصول نیز ایسے کیمیائی عوامل کے نتیجے میں جنم لینے والے مسائل پر قابوپانے کے لیے اختراع اور تحقیق پر ہے جو فی الوقت معدنی ایندھن کو جلا کر زیادہ موثر طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔

''کاربن کے مشترکہ اخراج'' کے لیے صنعتی جھرمٹ بنا کر اخراجات میں کمی لانا اور ماحول دوست اور مستحکم نوکریوں کی تخلیق اس حوالے سے پیش کی جانے والی ایک اور اہم تجویز ہے۔

کامیابی کا ایجنڈا

کاپ 27 کی جانب سے جمعے کو توانائی، روڈ ٹرانسپورٹ، سٹیل، ہائیڈروجن اور زراعت پر مشتمل پانچ بڑے شعبوں کو کاربن سے پاک کرنے کی رفتار تیز کرنے کا مرکزی منصوب بھی سامنے لایا گیا۔

امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے تقریباً نصف سے زیادہ جی ڈی پی کی نمائندگی کرنے والی حکومتوں نے 25 مشترکہ اقدامات کے ساتھ 12 ماہ پر مشتمل ایک عملی منصوبہ طے کیا ہے۔ یہ اقدامات کاپ 28 تک مکمل کیے جائیں گے تاکہ ماحول دوست توانائی کو سستا کرنے اور اسے ہر جگہ زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنانے میں مدد مل سکے۔

یہ منصوبہ بریک تھرو ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔ یہ اقدام گزشتہ روز سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں کاپ 26 کے موقع پر شروع کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے ذریعے دنیا میں 50 فیصد سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے شعبوں میں اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں توانائی پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لانے اور غذائی تحفظ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھی وضع کیا گیا ہے۔ آئندہ برس تعمیرات اور سیمنٹ کے شعبوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ 

صوفیہ کیانی موسمیاتی تبدیلی پر سیکرٹری جنرل کے ایک مشاورتی گروپ کی رکن ہیں اور کاپ 27 کے دوران فیشن انڈسٹری پر ہونے والے سیشن پر بات  کر رہی ہیں۔
UNIC Tokyo/Momoko Sato
صوفیہ کیانی موسمیاتی تبدیلی پر سیکرٹری جنرل کے ایک مشاورتی گروپ کی رکن ہیں اور کاپ 27 کے دوران فیشن انڈسٹری پر ہونے والے سیشن پر بات کر رہی ہیں۔

فیشن انڈسٹری کا کردار

اس موقع پر فیشن کی صنعت بھی کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کے امکان کے اعتبار سے نمایاں رہی جو دنیا بھر میں خارج ہونے والی 18 سے 20 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی ذمہ دار ہے۔

2018 میں اس صنعت کے سرکردہ لوگوں نے 'فیشن انڈسٹری چارٹر فار کلائمیٹ ایکشن' بنایا تھا جس کا مقصد 2050 تک کاربن کے اخراج کے معاملے میں نیٹ۔زیرو ہدف کا حصول ہے۔

اس چارٹر میں بتائے گئے عزائم پر بات کرنے کے لیے کاپ 27 میں ہونے والے ایک ذیلی اجلاس میں خام مال کی پیدوار سے لے کر مصنوعات کی تیاری اور تقسیم تک فیشن انڈسٹری کی مکمل سپلائی چین میں کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا۔