افغانستان میں پوست کی کاشت میں ایک تہائی اضافہ: یو این او ڈی سی کا انتباہ

افغانستان میں پوست جس سے افیون حاصل ہوتی ہے کہ وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔
Oneclearvision
افغانستان میں پوست جس سے افیون حاصل ہوتی ہے کہ وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔

افغانستان میں پوست کی کاشت میں ایک تہائی اضافہ: یو این او ڈی سی کا انتباہ

جرائم کی روک تھام اور قانون

انسداد منشیات و جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں اِس سال افیون کی فصل ماضی کے مقابلے میں بہت سے زیادہ منافع بخش رہی اور بڑھتی قیمتوں نیز ملک اور اس کے طالبان حکمرانوں کو درپیش متعدد انسانی و معاشی بحرانوں کے باوجود اس کی کاشت میں قریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔

'یو این او ڈی سی' نے یہ بات 'افغانستان میں افیون کی کاشت۔تازہ ترین نتائج اور ابھرتے ہوئے خطرات' کے عنوان سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہی ہے جو اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان میں افیون کی غیرقانونی تجارت کے بارے میں شائع ہونے والی پہلی رپورٹ ہے۔

اپریل 2022 میں حکام نے نئے سخت قوانین کے تحت افیون کی کاشت اور ہر طرح کی منشیات پر پابندی عائد کر دی تھی۔

افیون غیرقانونی منشیات ہیروئن اور دردکش ادویات کا لازمی جزو ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ یہ ادویات اسعتمال کرتے ہیں۔ افیون کا نشے کے طور پر استعمال بھی بڑھ رہا ہے اور امریکہ جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر اس کی لت سے متعلق مسائل سامنے آ رہے ہیں۔

'یو این او ڈی سی' نے کہا ہے کہ اِس سال افیون کی فصل کو بڑی حد تک پابندی کے حکم سے استثنیٰ حاصل تھا اور افغانستان میں کسانوں کو اب آئندہ سال کے لیے پوست کی کاشت کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہو گا جبکہ اس بارے میں مسلسل غیریقینی صورتحال پائی جاتی ہے کہ طالبان اس پابندی کا نفاذ کیسے کریں گے۔

کسانوں کو 2023 کے لیے افیون کی فصل کی کاشت اس سال نومبر کے آغاز تک ہر صورت مکمل کرنی ہے۔

افیونی بے یقینی

یو این او ڈی سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ ولی نے اس حوالے سے نئے جائزے کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''افغان کسان افیون کی غیرقانونی معیشت میں پھنس گئے ہیں جبکہ افغانستان بھر میں منشیات کو قبضے میں لینے کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افیون کی سمگلنگ بلاروک و ٹوک جاری ہے۔''

غادہ کا کہنا تھا کہ ''عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان عوام کی شدید ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کرے اور جرائم پیشہ گروہوں کو ہیروئن کی سمگلنگ سے روکنے اور اس طرح دنیا بھر کے لوگوں کو نقصان سے بچانے کے اقدامات کرے۔

'یو این او ڈی سی' کی رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران افغانستان میں افیون کی کاشت 32 فیصد اضافے کے ساتھ 233,000 ہیکٹر تک پہنچ گئی ہے اور 2022 میں حاصل ہونے والی فصل اس نگرانی کے آغاز سے اب تک تیسرا سب سے بڑا زیرکاشت رقبہ ہے۔

افغانستان کے علاقے بدخشاں میں پوست کے ایک کھیت میں افیون کا کاشت۔
Photo: IRIN/Manoocher Deghati
افغانستان کے علاقے بدخشاں میں پوست کے ایک کھیت میں افیون کا کاشت۔

ہلمند: افیون کی کاشت کا مرکز

بڑی حد تک افیون کی کاشت بدستور ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں ہوئی جو اس فصل کے مجموعی زیر کاشت روقبے کے 73 فیصد کا احاطہ کرتے ہیں اور پیداوار میں سب سے زیادہ اضافہ یہیں ہو رہا ہے۔

صوبہ ہلمند میں تمام قابل کاشت رقبے کا بیس فیصد افیون کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

آمدنی میں تین گنا اضافہ

اپریل میں افیون کی کاشت پر پابندی کے اعلان کے بعد اس کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔ افغان کسانوں کو افیون کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر یہ آمدنی 2021 میں 425 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 1.4 ارب ڈالر ہو گئی۔

آمدنی کے حوالے سے یہ نئے اعدادوشمار 2021 میں زرعی شعبے کی مجموعی قدر کے 29 فیصد کے برابر ہیں۔ 2021 میں افیون کی تیار فصل کی قدر اس سے پچھلے سال کی زرعی پیداوار کا تقریباً نو فیصد تھی۔

تاہم یو این ڈی پی کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ آمدنی میں اضافہ لازمی طور سے قوت خرید میں اضافے کا باعث نہیں بنتا کیونکہ اسی عرصہ میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور خوراک کی قیمتیں اوسطاً 35 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔

پیداوار میں کمی

اِس سال کے آغاز میں ایک خشک سالی کے بعد افیون کی پیدوار جو کہ 2021 میں اوسطاً 38.5 کلو گراف فی ہیکٹر تھی، کم ہو کر 26.7 کلوگرام فی ہیکٹر پر آ گئی اس طرح افیون کی مجموعی پیداوار 6200 ٹن رہی جو کہ 2021 کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہے۔

یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ 2022 میں حاصل ہونے والی فصل سے برآمدی معیار کی 50 سے 70 فیصد تک خالص اور 350 تا 380 ٹن ہیروئن تیار کی جا سکتی ہے۔

سمگلنگ جاری ہے

'یو این او ڈی سی' کے منشیات کی نگرانی کے پلیٹ فارم کی جانب سے منشیات قبضے میں لیے جانے کے واقعات سے متعلق جمع کردہ معلومات کے مطابق اگست 2021 سے افغانستان سے افیون کی سمگلنگ بلاک روک و ٹوک جاری ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی افیون کا تقریباً 80 فیصد افغانستان سے ہی آتا ہے۔