اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کی طرف سے ’ڈیجیٹل دہشت‘ سے نمٹنے کی حمایت
نئی اور جدید ٹیکنالوجی سے عالمی سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے اجلاس میں خاص طور پر بات کی جائے گی جو جمعے کو انڈیا میں شروع ہو رہا ہے۔
اس دو روزہ اجلاس سے پہلے کمیٹی کی سربراہ اور اقوام متحدہ میں انڈیا کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے یو این نیوز کو بتایا کہ دہشت گرد سوشل میڈیا، آن لائن ادائیگی کے نظام، تھری ڈی پرنٹنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی دیگر ترقی کو اپنے مقاصد کے لیے کیسے استعمال کر رہے ہیں۔
معاشرے پر اس کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی آسان رسائی، اس کے سستا ہونے اور تقریباً دنیا بھر میں اس کی پہنچ نے انسانوں کے لیے بےپایاں مواقع پیدا کر دیے ہیں جس کے ساتھ اس کے غیرمحفوظ صارفین مذموم ایجنڈے کے حامل کرداروں کے لیے آسان ہدف بھی بن گئے ہیں۔
دہشت گرد پروپیگنڈے کا پھیلاؤ
کمبوج نے وضاحت کی کہ کیسے کووڈ۔19 وبا کے دوران ''دہشت گرد پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کے لیے سوشل میڈیا کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال'' خاص طور پر سامنے آیا۔
دہشت گرد گروہوں نے اس بحران کے دوران نوجوانوں کی آن لائن موجودگی میں اضافے کو اپنے پروپیگنڈے اور مسخ شدہ بیانیوں کے ذریعے دہشت گرد مقاصد کے لیے کارکنوں کی بھرتی اور مالی وسائل جمع کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے ہٹ کر معاشرے کو فوائد پہنچانے والی دیگر اختراعات جیسا کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مصنوعی حیاتیات بھی خدشات کو جنم دے رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی دہشت گرد مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اب بہت سے جنگ زدہ علاقوں میں بغیر پائلٹ اڑنے والے طیاروں کے نظام (یو اے ایس) جیسا کہ ڈرون کے ذریعے حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس سے ان کے جائز استعمال کا معاملہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔
سکے کے دو رخ
کمبوج نے توقع ظاہر کی کہ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور نجی شعبے، تعلیم اور سول سوسائٹی کے ماہرین ''دہشت گردی کے اقدامات کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے لیے معلومات کے تبادلے، ٹیکنالوجی کے مجرمانہ استعمال میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور دہشت گردی کے متاثرین کی مدد'' کے لیے بہترین طریقہ ہائے کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔