انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق کونسل کی نئی مدت کے لیے 12 نئے ممالک کا انتخاب

کونسل ارکان کا انتخاب جغرافیائی بنیاد پر مساوی تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کی نشستیں ممالک کے علاقائی گروہوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔
UN Photo/Cia Pak
کونسل ارکان کا انتخاب جغرافیائی بنیاد پر مساوی تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کی نشستیں ممالک کے علاقائی گروہوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کونسل کی نئی مدت کے لیے 12 نئے ممالک کا انتخاب

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کونسل کی نئی مدت کے لیے بارہ نئے ممالک کا انتخاب کیا ہے جبکہ جرمنی اور سوڈان دوسری مدت کے لیے بھی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ووٹ کاسٹ ہونے اور ان کی گنتی کے بعد جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشی نے اعلان کیا کہ الجزائر، بنگلہ دیش، بیلجیئم، چلی، کوسٹاریکا، جارجیا، کرغیزستان، مالدیپ، مراکش، رومانیہ، جنوبی افریقہ اور ویت نام آئندہ تین سال کے لیے انسانی حقوق کونسل کے رکن ہوں گے اور ان کی مدت یکم جنوری 2023 سے شروع ہو گی۔

جنوبی کوریا اور وینزویلا دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور اس کا مرکزی دفتر سوئزر لینڈ کے شہر جنیوا میں واقع ہے۔

Tweet URL

نشستوں کی تقسیم

دنیا بھر میں انسانی حقوق کو قائم رکھنے اور انہیں فروغ دینے کی ذمہ دار یہ کونسل اقوام متحدہ کے 47 رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے جن کا انتخاب جنرل اسمبلی کے ارکان خفیہ ووٹ کے ذریعے کثرت رائے سے کرتے ہیں۔

ان ارکان کا انتخاب جغرافیائی بنیاد پر مساوی تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کی نشستیں ممالک کے علاقائی گروہوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس میں افریقہ اور ایشیا۔الکاہل خطے کے ممالک کو تیرہ تیرہ، مشرقی یورپی ممالک کو چھ، لاطینی امریکی اور غرب الہند کے ممالک کو آٹھ اور مغربی یورپی و دیگر ممالک کو سات نشستیں ملتی ہیں۔

کس کو کتنے ووٹ ملے

سابا کوروشی نے ہر کامیاب امیدوار کی کارکردگی کا اس کے انتخابی حریفوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ افریقہ کے ممالک میں جنوبی افریقہ 182 ووٹ لے کر سرفہرست رہا جس کے بعد الجزائر نے 178، مراکش نے 178 اور سوڈان نے 157 ووٹ حاصل کیے۔

ایشیا اور الکاہل خطے کے ممالک کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے 160 ووٹ حاصل کیے جس کے بعد مالدیپ کو 154، ویت نام کو 145، کرغیزستان کو 126، کوریا کو 123، افغانستان کو 12، بحرین کو ایک اور منگولیا کو بھی ایک ووٹ ملا۔

مشرقی یورپ میں جارجیا نے 178 ووٹ حاصل کیے جس اس کے بعد رومانیہ کو 176 ووٹ ملے۔ لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں چلی نے 144 ووٹ لیے جس کے بعد کوسٹا ریکا کو 134 اور وینزویلا کو 88 ووٹ حاصل ہوئے۔

آخر میں مغربی یورپ میں 169 ووٹ بیلجیئم نے حاصل کیے جس کے بعد جرمنی کا نمبر آتا ہے جسے 167 ووٹ ملے جبکہ سان مرنیو کو صرف ایک ووٹ حاصل ہوا۔

انسانی حقوق کونسل کا ہر رکن تین سال تک خدمات انجام دیتا ہے اور اسے ایک مرتبہ دوسری مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا حق بھی ہوتا ہے۔ کونسل کی رکنیت کی مدت یکم جنوری سے شروع ہوتی ہے۔

موجودہ ارکان

انسانی حقوق کونسل کے موجودہ ارکان میں ارجنٹائن، آرمینیا، بینن، بولیویا، برازیل، کیمرون، چین، آئیوری کوسٹ، کیوبا، چیک ریپبلک، اریٹریا، فن لینڈ، فرانس، گیبون، گیمبیا، جرمنی، ہونڈوراس، انڈیا، انڈونیشیا، جاپان، قازقستان، لیبیا، لیتھوانیا، لکسمبرگ، ملاوی، ملائشیا، جزائر مارشل، موریطانیہ، میکسیکو، مونٹی نیگرو، نمبییا، نیپال، نیدرلینڈز، پاکستان، پیراگوئے، پولینڈ، قطر، جمہوریہ کوریا، روس، سینیگال، صومالیہ، سوڈان، یوکرین، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ، ازبکستان اور وینزویلا شامل ہیں۔

6 دسمبر 2021 کو ارجنٹائن کے فیڈیریکو ولیگاس 2022 کے لیے کونسل کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

اُس موقع پر انہوں ںے یہ یقینی بنانے کا عزم کیا تھا کہ انسانی حقوق کونسل ''بات چیت کو فروغ دینے اور انسانی حقوق سے متعلق اشتراک و اختلاف بارے فہم کو بہتر بنانے کا ایک مستحکم فورم ہو گا''۔