انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق: مہنگائی لوگوں کے حقِ ترقی کے لیے خطرہ

فلپائن کے شہر منیلا کی ایک سبزی منڈی
IMF/Lisa Marie David
فلپائن کے شہر منیلا کی ایک سبزی منڈی

انسانی حقوق: مہنگائی لوگوں کے حقِ ترقی کے لیے خطرہ

معاشی ترقی

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی قائم مقام سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ متوقع طور پر، دنیا بھر میں بڑھتی مہنگائی ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کو خاص طور سے متاثر کر سکتی ہے جس سے اُن  بحرانوں میں اضافہ ہو جائے گا جو ہم سب کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

جمعرات کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے نادا النشیف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیشگوئی کا حوالہ دیا کہ ترقی یافتہ معیشتوں کو 2022 میں خود کو مہنگائی کی شرح میں 6.6 فیصد اضافے کے لیے تیار رہنا ہو گا جو کہ غریب ممالک کو متوقع طور پر درپیش 9.5 فیصد کی شرح سے کافی کم ہے۔

النشیف نے مزید کہا کہ اگرچہ 2021 کے آخر تک دنیا کے امیر ترین ممالک میں روزگار کی شرح وباء سے پہلے کی سطح پر واپسی آ گئی تھی یا اس سے تجاوز کر گئی تھی لیکن متوسط آمدنی والے ''بیشتر'' ممالک کووڈ۔19 کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد خود کو بحال کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکے۔

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی نائب ہائی کمشنر نادا النشیف جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اکیاونویں اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں
UN Photo/Pierre Albouy
انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی نائب ہائی کمشنر نادا النشیف جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اکیاونویں اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں

کووڈ کے اثرات اور یوکرین کے مصائب

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے شعبے کی قائم مقام سربراہ نے ترقی کے حق کے بارے میں کونسل کے دو سالہ اجلاس میں بتایا کہ کورونا وائرس نے ''پہلے سے موجود عدم مساوات کو ناصرف آشکار کیا بلکہ اسے مزید بڑھا دیا تھا'' اور اس وباء نے ''دنیا کے بہت سے حصوں میں'' پائیدار ترقی کا پہیہ''کئی سال کے لیے روک دیا ہے۔

النشیف نے مزید کہا کہ غیرمستحکم ریاستی قرضوں نے بہت سے ترقی پذیر ممالک کو ''شدید معاشی نقصان'' پہنچایا ہے کیونکہ وباء کے دوران لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے سے ان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اب بہت سے ممالک کو ''سماجی بے چینی سمیت'' کئی معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے کیونکہ وہ بھاری قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

قائم مقام سربراہ نے خاص طور پر کہا کہ 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے سے یہ حالات اور بھی بدترین صورت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ حملہ ناصرف اندروں ملک بلکہ اس کی سرحدوں سے باہر بھی ''بہت بڑے انسانی مصائب'' کا باعث بنا۔

نادا النشیف نے واضح کیا کہ جنگ نے اشیاء کی تجارتی ترسیل کے عالمگیر نظام میں بھی نئی رکاوٹیں پیدا کیں جس کے نتیجے میں ''ایندھن اور خوراک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں'' اور ان حالات نے عورتوں اور لڑکیوں کو غیرمتناسب طور سے متاثر کیا۔

غذائی عدم تحفظ برکینا فاسو میں لاکھوں لاگوں کو متاثر کر رہا ہے (فائل فوٹو)
© UNICEF/Vincent Treameau
غذائی عدم تحفظ برکینا فاسو میں لاکھوں لاگوں کو متاثر کر رہا ہے (فائل فوٹو)

شدید غربت میں اضافہ

ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وباء سے پہلے لگائے جانے والے اندازوں کے مقابلے میں ِاس سال متوقع طور پر 75 سے 95 ملین مزید لوگوں کو شدید غربت کا سامنا ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے والے 760 ملین لوگوں میں ''عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد مردوں اور لڑکوں سے 16 ملین زیادہ ہو گی''۔ ان میں 83.7 فیصد لوگوں کا تعلق دو خطوں سے ہے جن میں 62.8 فیصد ذیلی صحارا افریقہ میں اور 20.9 فیصد لوگ وسطی و جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں۔

النشیف کا کہنا تھا کہ ''بیک وقت بہت سے بحرانوں کے ضمنی اثرات سے خوراک و غذائیت، صحت و تعلیم، ماحول اور امن و سلامتی کی صورتحال میں بھی بگاڑ آیا ہے جس سے اقوام متحدہ کے 'ایجنڈا 2030' کی تکمیل کی جانب پیش رفت ماند پڑی ہے اور وباء کے بعد پائیدار بحالی کا عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا 'بحالی' فنڈ

جمعرات کو اسی صورتحال سے متعلق ایک اور مسئلے کی بابت خبردار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ایک اعلیٰ سطحی ماہر نے ایسے ممالک کی مدد کے لیے ایک عالمگیر ''بحالی'' فنڈ قائم کرنے کے لیے کہا جو موسمیاتی تبدیلی سے جنم لینے والے شدید موسمی واقعات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے تناظر مں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے موضوع پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر ایان فرائی نے یہ اپیل بنگلہ دیش کے اپنے دورے کے اختتام پر کی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنوبی ایشیا کے اس ملک کو ''موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہیے۔'' ان کا کہنا تھا کہ ''بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ممالک طویل عرصہ سے اپنے پیدا کردہ مصائب کی ذمہ داری لینے سے گریزاں رہے ہیں۔''

موسلادھار بارشیں بنگلہ دیش میں قصبوں، دیہاتوں، اور معاشی ڈھانچے کو بہا لے گئی ہیں
© UNICEF
موسلادھار بارشیں بنگلہ دیش میں قصبوں، دیہاتوں، اور معاشی ڈھانچے کو بہا لے گئی ہیں

غیرمحفوظ بنگلہ دیش

اس سال مارچ میں انسانی حقوق کونسل کی جانب سے آزادانہ حیثیت میں تعینات کیے جانے والے ماہر کا کہنا تھا کہ رواں سال بنگلہ دیش کے شمال مشرقی علاقے سلہٹ میں آنے والے متواتر سیلاب نے خاص طور پر عورتوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے انتہائی خطرناک اثرات کو عیاں کر دیا ہے۔

خصوصی رپورٹر کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال کے باعث انہیں ''تازہ پانی بھر کر لانے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑے جس سے ان کے لیے جنسی ہراسانی کا خدشہ پیدا ہوا'' اور وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی کا کام نہ کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اونچے درجے کے سیلاب میں مویشی ہلاک ہو گئے، کھڑی فصلیں اور محفوظ کیے گئے بیج ضائع ہو گئے اور مقامی لوگوں کو اس نقصان سے پوری طرح بحال ہونے میں کم از کم دو برس درکار ہوں گے۔