آنے والے سال میں امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ: گوتیریش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سال 2023 کی آمد پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سال 2022 میں دنیا نے جنگ، بھوک، اور موسمیاتی شدت کی وجہ سے بہت مشکلات دیکھیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سال 2023 کی آمد پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سال 2022 میں دنیا نے جنگ، بھوک، اور موسمیاتی شدت کی وجہ سے بہت مشکلات دیکھیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 ہمارے لیے انتباہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وباء سے تباہ کن حد تک نقصان ہوا، لاکھوں جانیں گئیں اور کروڑوں لوگ بیماری کا نشانہ بنے ہیں۔
ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں اس کی جوہری تنصیبات کا صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل کی 2015 میں منظور کردہ اہم قرارداد (2231) پر عملدرآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
دنیا بھر کو طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق سوموار کو منائے جانے والے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ دنیا میں کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے فیفا ورلڈ کپ میں پہلے سیمی فائنل کے موقع پر رقص و موسیقی کے پروگرام کے ذریعے اپنا پیغام جاری کرے گا۔
معذور افراد کے عالمی دن پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش بہت سے بحران جسمانی معذوری کے حامل لوگوں کو غیرمتناسب طور سے متاثر کر رہے ہیں جنہیں تحفظ دینے کے لیے انقلابی اور اختراعی طریقوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہِ صحت کے مطابق بہت سے معذور افراد کی جلد موت واقع ہو جاتی ہے، بعض معذور دوسروں سے 20 سال کم عمر پاتے ہیں اور بہت سے معذور لوگوں کو کئی طرح کے طبی مسائل لاحق ہونے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اوقیانوس کے آر پار غلاموں کی تجارت کی میراث "آج بھی قائم ہے" جس کے ساتھ دورِ جدید کی غلامی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
جمعرات یکم دسمبرکو ایڈز کے خلاف عالمی دن پر اقوام متحدہ کے سربراہ عدم مساوات کو ختم کرنے کے اقدامات اٹھانے کے لیے کہیں گے جو اس وباء کو روکنے اور اس کے وائرس کا خاتمہ کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت میں رکاوٹ ہے۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے کہا ہے کہ 2021 میں دنیا کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ خشک رہے جس کے ''معیشتوں، ماحول اور روزمرہ زندگیوں پر مسلسل منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں''۔
اقوام متحدہ میں مہاجرین کے ادارے یو این ایچ سی آر نے جب تیراکی کر کے جنگ زدہ شام سے جان بچا کر آنے والی دو بہنوں کی متاثر کن حقیقی داستان پر مبنی فلم کی نمائش کی تو اقوام متحدہ کی ایک عہدیدار نے اسے دنیا بھر میں گھربار چھوڑنے پر مجبور 10 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ''طاقت، ہمت اور استقامت کا ثبوت'' قرار دیا۔