کوئی جواز نہیں: خواتین پر تشدد کے خاتمہ کا مشترکہ عالمی مطالبہ
خواتین پر تشدد کے خلاف 25ویں عالمی دن (25 نومبر) پر عالمی رہنما اور حقوق کے کارکن اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور دنیا کو اس مسئلے پر پاک کرنے کے لیے غوروخوض کیا۔
خواتین پر تشدد کے خلاف 25ویں عالمی دن (25 نومبر) پر عالمی رہنما اور حقوق کے کارکن اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور دنیا کو اس مسئلے پر پاک کرنے کے لیے غوروخوض کیا۔
'تہذیبوں کے اتحاد' کا 10واں سہ روزہ عالمی فورم پرتگال کے شہر کیسکس میں جاری ہے جس کے پہلے روز سوموار کو نوجوانوں کے 150 سے زیادہ وفود نے دنیا کو امن، اتحاد اور کثیرالثقافتی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں اسرائیل کی کارروائیوں میں دو روز کے دوران ہسپتال کے ڈائریکٹر اور طبی عملے کے ارکان سمیت مزید 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ، لبنان، سوڈان، یوکرین اور دیگر جگہوں پر جنگیں ہو رہی ہیں، دنیا کے متعدد حصوں میں بھوک اور قحط پھیل رہا ہے جبکہ آن لائن و آف لائن نفرت، یہود مخالفت اور اسلامو فوبیا میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار محمد ہادی نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کے امکان کو کمزور کیا گیا تو اس کے منفی اثرات ناصرف مشرق وسطیٰ بلکہ دیگر دنیا پر بھی مرتب ہوں گے۔
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفیل) نے ملکی فوج پر اسرائیل کے حملوں کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے معاملے پر اہم بات چیت جنوبی کوریا میں شروع ہو گئی ہے جس میں دنیا کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے قانونی معاہدے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یو این ویمن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے یہ ہولناک انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں ہر 10 منٹ کے بعد ایک خاتون یا لڑکی اپنے شریک حیات/مرد ساتھی یا قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے۔
50 روز سے زیرمحاصرہ شمالی غزہ اسرائیل کی بمباری سے ملیامیٹ ہو چکا ہے۔ علاقے میں انسانی امداد کی رسائی ختم ہو گئی ہے اور پناہ کی تلاش میں بھٹکتے لوگوں کو ہر جگہ موت اور تباہی کا سامنا ہے۔
'کاپ 29' میں امیر ممالک نے ترقی پذیر دنیا کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ غریب ممالک کا کہنا ہے کہ یہ رقم موسمیاتی بحران پر موثر طور پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں جبکہ وہ اس مسئلے کے ذمہ دار بھی نہیں ہیں۔