سطح سمندر میں اضافہ کیا ہے اور اس کے دنیا پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟
سمندروں کی سطح میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزرفتار اور بلند درجے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے تمام انسانیت کے لیے ہنگامی نوعیت کا بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔
سمندروں کی سطح میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزرفتار اور بلند درجے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے تمام انسانیت کے لیے ہنگامی نوعیت کا بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سمندروں کا تحفظ کریں اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اقدامات کی رفتار میں تیزی لائیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
قیام امن اور سیاسی امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی جانب سے 'اخلاقی قانون' کے نفاذ کو انسانی حقوق اور آزادیوں پر مزید قدغن قرار دیا ہے جس سے ملک کی لڑکیاں اور خواتین خاص طور پر متاثر ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اعلان کیا ہے کہ پولیو ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں غزہ پہنچ گئی ہیں جبکہ امدادی اداروں نے اپیل کی ہے کہ ویکسین مہم کے دوران انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے۔
یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار نے ملک پر روس کے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ پندرہ علاقوں پر کیے گئے ان حملوں میں متعدد شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں میانمار میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب نے پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی کو متاثر کیا ہے اور وسیع رقبے پر چاول کی فصل تباہ ہونے سے غذائی بحران آنے کا اندیشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کی راہ دکھا رہے ہیں اور دنیا کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مزید مدد فراہم کرے۔
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے کہا ہے کہ لبنان۔اسرائیل سرحد پر خطرناک حد تک بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ضروری ہے۔
یمن کے ساحلی شہر تعز کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب جانے سے 13 افراد ہلاک اور 14 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ یہ المناک واقعہ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو تحفظ دینے کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔