پناہ گزینوں کے حقوق سلب کرنے والے ضوابط سے اجتناب پر زور
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کا خیرمقدم کریں اور ایسی پالیسیاں اختیار کرنے سے گریز کریں جن سے ان کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کا خیرمقدم کریں اور ایسی پالیسیاں اختیار کرنے سے گریز کریں جن سے ان کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار میری لالور نے چین کے حکام سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں 20 سال کی قید کاٹنے والی ویغور ڈاکٹر گلشن عباس کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
فضائی آلودگی انسانی صحت پر تیزی سے مضر اثرات مرتب کر رہی ہے اور اب یہ دنیا بھر میں قبل از وقت اموات کا دوسرا بڑا سبب بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں جنگی قوانین کو تواتر سے پامال کیا گیا، علاقے میں انتہائی طاقتور بم برسائے گئے اور حملوں میں جنگجوؤں اور شہریوں کے مابین کوئی تمیز روا نہیں رکھی گئی۔
بعض مغربی ممالک میں پناہ گزینوں کے حوالے سے رویوں میں سختی آئی ہے لیکن تین چوتھائی لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ یا مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کرنے والوں کو دوسرے ممالک میں پناہ ملنی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے غیرجانبدار تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ سوڈان میں متحارب عسکری دھڑے بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی کھلی پامالی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی منظم پامالی میں شدت آ گئی ہے جس کے نقصان دہ اثرات آنے والی نسلوں تک برقرار رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو بے رحمانہ قرار دیتے ہوئے حماس کی قید میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے کو دہرایا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا پر زور دیا ہے کہ زرخیز زمینوں کی تباہی کو روک کر زندگیوں، روزگار اور ماحولیاتی نظام کو تحفظ دینے کے اقدامات کیے جائیں۔
غزہ کے شہریوں نے سلامتی کونسل کی جانب سے امریکی صدر کے جنگ بندی معاہدے کی توثیق پر مبنی قرارداد کی منظوری کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج اور حماس کی جانب سے تاحال لڑائی روکنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔