افغانستان: صنفی جبر کا شکار خواتین تحفظ کے نام پر قید
افغانستان میں صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں حکام کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دینے کی صورت میں تحفظ کے لیے قید خانوں میں ڈالے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔
افغانستان میں صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں حکام کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دینے کی صورت میں تحفظ کے لیے قید خانوں میں ڈالے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔
غزہ کی جنگ میں ہلاکتیں ہر گزرتے لمحے بڑھتی جا رہی ہیں اور ان میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ان حالات میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے بین الاقوامی قوانین کی پامالی کرنے والوں کا احتساب یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرے کی ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 3,200 فیصد بڑھ گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر جگہ بڑی تعداد میں نوعمر افراد ای سگریٹ کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو اس سگریٹ کے نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے کے لیے قوانین کا فقدان ہے۔
پاکستان میں غیررسمی شعبے کے محنت کشوں کی 74 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جنہیں صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق تک رسائی دینے کے لیے آگاہی، تربیت اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی درکار ہے۔
غزہ میں شدید بارشوں نے جنگ سے تباہ حال لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر متعدی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر روس کے فضائی حملوں میں بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار طبی امداد اور تحفظ مہیا کر رہے ہیں۔ کیئو پر ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ میں ہونے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 40 لاکھ لوگوں کا نقل مکانی پر مجبور ہونا انسانیت کا بحران ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار لین ہیسٹنگز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے موجودہ حالات آئندہ دہائیوں تک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔ علاقے میں جنگ بندی ہی مستقبل کی واحد راہ ہے اور اسی میں ہر ایک کا مفاد ہے۔
'کاپ 28' معدنی ایندھن کے استعمال میں بتدریج کمی لانے کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے کے ساتھ ختم ہو گئی ہے۔ تاہم اس میں تیل، کوئلے اور گیس کے استعمال کا فوری خاتمہ کرنے کا دیرینہ مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔